
حالیہ تحقیق نے پاکستان میں بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک نہایت تشویشناک صورتحال کو سامنے لایا ہے۔ 2026 کی ایک مشترکہ تحقیق (حکومتِ پاکستان اور UNICEF) کے مطابق ملک کے بڑے شہروں کے صنعتی علاقوں میں رہنے والے تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ (Lead) پایا گیا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی، صنعتی پالیسی اور عوامی آگاہی سے جڑا ہوا ایک بڑا بحران ہے۔
سیسہ (Lead) کیا ہے اور یہ خطرناک کیوں ہے؟
سیسہ ایک بھاری دھات ہے جو قدرتی طور پر زمین میں پائی جاتی ہے، مگر انسانی سرگرمیوں کے باعث یہ ماحول میں خطرناک حد تک پھیل چکی ہے۔ سائنسی طور پر یہ ایک نیوروٹاکسن (neurotoxin) ہے، یعنی یہ دماغ اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ جسم میں داخل ہو کر خون، ہڈیوں، دماغ، جگر اور گردوں میں جمع ہو جاتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کے اثرات بڑھتے جاتے ہیں
اہم بات یہ ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق سیسے کی کوئی محفوظ سطح موجود نہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے ۔
بچوں کے خون میں سیسہ کہاں سے آتا ہے؟
صنعتی آلودگی اور بیٹری ری سائیکلنگ
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سیسے کی سب سے بڑی وجہ صنعتی سرگرمیاں ہیں، خاص طور پر بیٹریوں کی غیر محفوظ ری سائیکلنگ، دھات پگھلانے کے کارخانے اور فیکٹریاں ۔
ان علاقوں میں رہنے والے بچے سانس کے ذریعے یا ماحول کے ذریعے سیسے کے ذرات اپنے جسم میں لے لیتے ہیں۔
مٹی، گرد اور ہوا
سیسہ فضا میں شامل ہو کر زمین پر بیٹھ جاتا ہے اور مٹی و گرد میں جمع ہو جاتا ہے۔ بچے کھیلتے وقت یا ہاتھ منہ میں ڈالنے کی عادت کی وجہ سے اسے نگل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔
پینٹ اور گھریلو اشیاء
پرانے گھروں میں استعمال ہونے والے پینٹ میں سیسہ شامل ہوتا ہے۔ جب یہ پینٹ خراب ہوتا ہے تو اس کے ذرات سانس یا خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کھلونے، برتن اور دیگر اشیاء بھی سیسے کا ذریعہ بن سکتی ہیں ۔
پانی اور پائپ لائن سسٹم
پرانے پانی کے پائپ یا آلودہ زیرِ زمین پانی بھی سیسے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ سیسہ پانی میں حل ہو کر پینے کے ذریعے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔
روایتی مصنوعات اور ادویات
جنوبی ایشیا میں بعض روایتی مصنوعات جیسے سرمہ، دیسی ادویات اور غیر معیاری اشیاء میں بھی سیسہ پایا گیا ہے، جو بچوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہیں ۔
بچوں پر سیسے کے اثرات
دماغی اور اعصابی نقصان
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیسہ دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ زیادہ مقدار میں یہ دوروں، بے ہوشی (coma) اور حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتا ہے ۔
کم مقدار میں بھی یہ اثرات نہایت خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ خاموشی سے دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔
ذہنی صلاحیت اور IQ میں کمی
تحقیقی رپورٹس کے مطابق سیسہ بچوں کے IQ کو کم کرتا ہے، یادداشت اور توجہ کو متاثر کرتا ہے، اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور بنا دیتا ہے۔
رویے اور تعلیمی مسائل
سیسے کی وجہ سے بچوں میں:
- چڑچڑاپن
- توجہ کی کمی
- سیکھنے میں مشکلات
پیدا ہو سکتی ہیں، جو بعد میں تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔
جسمانی اثرات
سیسہ جسم کے دیگر نظاموں کو بھی متاثر کرتا ہے، جیسے:
- خون کی کمی (anemia)
- کمزور مدافعتی نظام
- نشوونما میں رکاوٹ
طویل مدتی اثرات
WHO کے مطابق سیسہ طویل مدت میں:
- گردوں کی بیماری
- دل کی بیماری
- مستقل ذہنی معذوری کا سبب بن سکتا ہے ۔
بچے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟
سائنسی طور پر بچوں میں سیسے کے اثرات زیادہ شدید ہوتے ہیں کیونکہ:
- بچے بالغوں کے مقابلے میں 4 سے 5 گنا زیادہ سیسہ جذب کرتے ہیں۔
- ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے۔
- وہ زیادہ تر ہاتھ منہ میں ڈالتے ہیں۔
اسی لیے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔
عالمی اور پاکستانی تناظر
عالمی سطح پر اندازہ ہے کہ تقریباً ایک تہائی بچے (800 ملین) سیسے سے متاثر ہیں، جن میں بڑی تعداد جنوبی ایشیا میں رہتی ہے ۔
پاکستان میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے، جہاں صنعتی علاقوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد اس زہریلی دھات کے اثر میں ہے، اور بعض اندازوں کے مطابق اس کے معاشی نقصانات بھی اربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
نتیجہ
خون میں سیسہ ایک “خاموش زہر” ہے جو بغیر واضح علامات کے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق واضح کرتی ہے کہ اس کا کوئی محفوظ لیول موجود نہیں اور اس کے اثرات اکثر ناقابلِ واپسی ہوتے ہیں۔
پاکستان میں اس مسئلے کی شدت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ:
- صنعتی آلودگی پر سخت کنٹرول کیا جائے
- سیسہ سے پاک مصنوعات کو فروغ دیا جائے
- اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی بڑھائی جائے
اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آنے والی نسلوں کی ذہنی صلاحیت، صحت اور معاشی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔



