اہم خبریں

اسامہ بن لادن ایبٹ آباد آپریشن ناکام کرنے کی کیا پلاننگ کر چکے تھے؟

 سی آئی اے کی تازہ دستاویزات کے مطابق اسامہ بن لادن نہ صرف ایبٹ آباد میں اپنے خفیہ کمپاؤنڈ سے القاعدہ کی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے بلکہ اسی دوران وہ وہاں سے منتقل ہونے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔

ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے ایک دہائی بعد امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بن لادن امریکی کارروائی سے چند ماہ قبل اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے۔

سی آئی اے کی تازہ دستاویزات کے مطابق اسامہ بن لادن نہ صرف ایبٹ آباد میں اپنے خفیہ کمپاؤنڈ سے القاعدہ کی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے بلکہ اسی دوران وہ وہاں سے منتقل ہونے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔

اسامہ بن لادن کی مقام تبدیلی کی کوشش جو ناکام رہی

 

رپورٹ کے مطابق بن لادن نے ایک تحریری معاہدے کے تحت ستمبر 2011 تک مقام تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ یہ فیصلہ ان دو بھائیوں کے مسلسل دباؤ کے بعد کیا گیا جنہوں نے کئی سال تک انہیں پناہ دی۔ ان بھائیوں نے علیحدگی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس ذمہ داری سے تھک چکے ہیں۔

14 جنوری 2011 کو لکھے گئے ایک خط میں بن لادن نے ان بھائیوں کے ساتھ کشیدگی کا اعتراف کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کی حفاظت کی “بھاری ذمہ داری” اٹھائی۔ بعد ازاں 2 فروری 2011 کے خط میں انہوں نے تصدیق کی کہ میزبان بھائی طویل عرصے سے علیحدگی چاہتے تھے۔

بن لادن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی خفیہ رہائش کی ذمہ داری دوسروں کے حوالے کر دیں گے اور ستمبر 2011 میں منتقل ہو جائیں گے۔

سی آئی اے کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کو اس منصوبے کا کوئی علم نہیں تھا اور وہ صورتحال کو مستحکم سمجھ رہے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایبٹ آباد آپریشن میں تاخیر ہوتی تو ممکن تھا کہ بن لادن وہاں سے فرار ہو جاتے۔

کیا بن لادن القاعدہ کے علامتی رہنما بن گئے تھے؟

 

دستاویزات اس تاثر کو بھی مسترد کرتی ہیں کہ اپنی موت کے وقت بن لادن محض علامتی رہنما رہ گئے تھے۔ سی آئی اے کے مطابق وہ بدستور القاعدہ کی حکمت عملی، منصوبہ بندی اور ہدایات میں براہ راست شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد تک رسائی کا سفر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی طویل انٹیلی جنس کارروائیوں کا نتیجہ تھا۔ ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایک قابلِ اعتماد قاصد (کورئیر) کا سراغ لگایا گیا، جس کی شناخت برسوں بعد ممکن ہو سکی۔

اگست 2010 میں اس کورئیر کا تعلق ایبٹ آباد کے ایک مشکوک کمپاؤنڈ سے جوڑا گیا۔ اس عمارت کی غیر معمولی خصوصیات میں بلند دیواریں، خار دار تار، دوہری گیٹس، بند کھڑکیاں، انٹرنیٹ یا ٹیلی فون کی عدم موجودگی اور کچرے کو جلانے کا طریقہ شامل تھا۔

29 اپریل 2011 کو اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے آپریشن کی منظوری دی، جس کا مقصد کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانا تھا۔

ایبٹ آباد آپریشن کی کہانی

 

2 مئی 2011 کو امریکی کمانڈوز نے افغانستان سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایبٹ آباد میں کارروائی کی۔ ایک ہیلی کاپٹر گرنے کے باوجود آپریشن جاری رہا اور بن لادن کو تقریباً نو منٹ میں ہلاک کر دیا گیا۔

کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں دستاویزات اور ڈیجیٹل مواد بھی حاصل کیا گیا، جس سے القاعدہ کی سرگرمیوں، روابط اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق اہم معلومات ملی۔

سی آئی اے کے مطابق بن لادن کی موت القاعدہ کے خلاف امریکی مہم میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، جبکہ اس کامیابی کا سہرا برسوں پر محیط انٹیلی جنس کوششوں اور عسکری تعاون کو جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button