
کسی بھی قوم کی بقا اور سلامتی کا انحصار محض سرحدوں پر تعینات توپوں اور ٹینکوں پر نہیں ہوتا، بلکہ اس قوم کے عزم، نظریاتی پختگی اور اپنی افواج کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی پر ہوتا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہمیشہ میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور نفسیاتی محاذ پر بھی قوم کی بھرپور رہنمائی کی ہے۔
حال ہی میں معرکہ حق کے حوالے سے جاری ہونے والا نیا نغمہ اور اس کے ولولہ انگیز بول ’’ہم چھائے طوفانوں آندھیوں کی طرح‘‘ دراصل اس مہیب اور فیصلہ کن جنگ کا اعلان ہیں جو پاکستان دہشت گردی، انتہا پسندی اور دشمن قوتوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔
یہ نغمہ محض دھن اور الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل بیانیہ ہے جو بنیان مرصوص کی روح اور معرکہ حق کی سچائی کو پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
’’ہم چھائے طوفانوں آندھیوں کی طرح‘‘: دشمن پر قہر بن کر ٹوٹنے کا استعارہ
آئی ایس پی آر کے اس نئے ترانے کا یہ مصرع عسکری حکمتِ عملی اور جذبے کی ایک شاندار تصویر کشی کرتا ہے۔ جب ہم طوفان یا آندھی کا تصور کرتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں ایک ایسی زبردست اور بے قابو طاقت ابھرتی ہے جو اپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو خس و خاشاک کی طرح اڑا لے جاتی ہے۔
برق رفتاری اور سرپرائز: جس طرح آندھی اچانک آتی ہے اور سنبھلنے کا موقع نہیں دیتی، اسی طرح پاک فوج کی کارروائیاں (Intelligence Based Operations) اتنی تیز، منظم اور اچانک ہوتی ہیں کہ دہشت گردوں کو فرار کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
دشمن کا مکمل صفایا: طوفان گزرنے کے بعد جس طرح فضا صاف ہو جاتی ہے، اسی طرح پاک فوج کے جوان جب کسی علاقے کا رخ کرتے ہیں، تو وہ وہاں سے ملک دشمن عناصر کی غلاظت اور دہشت گردی کے اندھیروں کو مکمل طور پر صاف کر دیتے ہیں۔ یہ بول دراصل دشمن کے دلوں میں ہیبت اور خوف طاری کرنے کا ایک مؤثر ترین ہتھیار ہیں۔
معرکہ حق: بقا اور سچائی کی جنگ
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی امن اور انسانیت کے دشمنوں نے سر اٹھایا، حق کے علمبرداروں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پاکستان کے تناظر میں "معرکہ حق” وہ جنگ ہے جو ہم اپنی بقا اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں۔
یہ نغمہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہماری جنگ کسی مخصوص علاقے یا نسل کے خلاف نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل کا وہ معرکہ ہے جس میں حق کا پلڑا بھاری ہے۔ ہمارے جوان برف زاروں، تپتے صحراؤں اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں جو قربانیاں دے رہے ہیں، وہ اسی معرکہ حق کا حصہ ہیں جس کا حتمی نتیجہ ریاستِ پاکستان کی فتح ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص: سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے طوفان تک کا سفر
قرآنِ مجید میں "بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ” (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کا ذکر آیا ہے، جو ایک ایسی مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ساخت کی علامت ہے جس میں کوئی دراڑ نہ ہو۔ دفاعِ پاکستان کے تناظر میں یہ اصطلاح پاک فوج اور پاکستانی قوم کے اس شاندار اتحاد کی مظہر ہے جو دشمن کی ہر سازش کے سامنے ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کی بنیاد اسی نظریے پر ہے کہ ہم دفاعی لحاظ سے ایک سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ لیکن جب یہ دیوار حرکت میں آتی ہے اور جارحانہ (Offensive) انداز اپناتی ہے، تو وہ ان نغموں کے بولوں کی طرح "آندھی اور طوفان” کا روپ دھار لیتی ہے۔ ہم دشمن کی پناہ گاہوں میں گھس کر انہیں نیست و نابود کرنے کی بھرپور صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں۔
نفسیاتی محاذ پر کامیابی اور قوم کا عزم
ففتھ جنریشن وار فیئر کے موجودہ دور میں دشمن ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ قوم کے مورال کو گرایا جائے اور افواج کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ ایسے حالات میں:
قوم کا لہو گرمانا: آئی ایس پی آر کے یہ نغمات پوری قوم، بالخصوص نوجوانوں کی رگوں میں خون کی گردش کو تیز کر دیتے ہیں۔
قربانیوں کا اعتراف: یہ ترانے ان ہزاروں شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس دھرتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
غیر متزلزل اعتماد: جب ایک عام پاکستانی یہ سنتا ہے کہ اس کے محافظ طوفانوں کی طرح دشمنوں پر چھا رہے ہیں، تو سیکیورٹی فورسز پر اس کا اعتماد مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
حرفِ آخر
آئی ایس پی آر کا نغمہ اور اس میں موجود "معرکہ حق” اور "بنیان مرصوص” کے پیغامات اس بات کا اعلان ہیں کہ ارضِ پاک کے محافظ جاگ رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوانوں کا یہ طوفان اس وقت تک نہیں تھمے گا جب تک ملک کا کونا کونا ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو جاتا۔
جب تک یہ قوم اور اس کی افواج ایک پیج پر ہیں، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ یہ معرکہ حق ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔



