اہم خبریںدنیا

آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ کر دیا گیا

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں شدت لاتے ہوئے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے آبنائے ٹرمپ کرتے ہوئے نیا نقشہ جاری کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ جاری کشیدگی میں شدت لاتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک نقشہ شیئر کیا ہے۔

اس نقشے میں دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ "آبنائے ہرمز” کا نام تبدیل کر کے "آبنائے ٹرمپ” دکھایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ علامتی اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور خطے میں امریکی طاقت کے اظہار کا حصہ ہے۔

امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ

 

امریکہ نے اپریل 2026 کے وسط سے ایران کے خلاف سخت بحری ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایرانی تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی کو روکنا ہے۔

اس ناکہ بندی اور امریکی محکمہ خزانہ کی سخت معاشی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔

تیل کی پیداوار کم کرنے کی وجہ سے تہران کو روزانہ تقریباً 170 ملین ڈالر کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ ناکہ بندی کسی نئے جامع جوہری اور سیکیورٹی معاہدے کے طے پانے تک کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔

ایران کا سخت موقف اور جوابی حکمت عملی

 

دوسری جانب ایرانی قیادت نے اس امریکی دباؤ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران موجودہ حالات میں دباؤ کے تحت ہرگز مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مکمل ذمہ دار واشنگٹن کی پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایران اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے جوابی کارروائی پر غور کر رہا ہے، جس میں عمان کے ساتھ مل کر مغربی تجارتی جہازوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنا اور خطے میں اپنے حلیف گروہوں کے ذریعے جہازوں پر دباؤ بڑھانا شامل ہے۔

عالمی معیشت اور تیل کے بحران کا خطرہ

 

آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کا وہ اہم ترین اور تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے خام تیل کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حساس راستے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں میں فوری ہلچل مچا دیتی ہے۔ موجودہ تعطل کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو کہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری ناکہ بندی اور سیاسی کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا اور سنگین طوفان آ سکتا ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بڑھنے کا خدشہ

 

دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ممکن ہے۔  جس سے پاکستان میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خطرہ لاحق ہورہا ہے۔

حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے اور اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی وقت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے جو پاکستانی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافےکا باعث بنے گا۔

آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ کرنے سے امریکی کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ یہ پہلے سے جاری مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنی کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button