اہم خبریںپاکستانجرم و سزا

جب ایک ماں نے اپنے بیٹوں سے خرچ و نفقہ کیلئے فیملی کورٹ سے رجوع کیا

ٓوالدہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک عمر رسیدہ عورت ہے، اسکی کوئی ذاتی آمدنی یا ذرائع معاش نہیں، جبکہ اسکے بیٹے خوشحال و مالدار ہیں۔

یہ واقعہ لاہور کا ہے جہاں ایک بزرگ خاتون رفعت النساء نے  اپنے چار بیٹوں؛ اظہر اعجاز خواجہ، احمر اعجاز خواجہ، صبیح اعجاز خواجہ اور فصیح اعجاز خواجہ کے خلاف فیملی کورٹ میں ماہانہ خرچ و نفقہ کا کیس دائر کیا۔
ٓوالدہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک عمر رسیدہ عورت ہے، اسکی کوئی ذاتی آمدنی یا ذرائع معاش نہیں، جبکہ اسکے بیٹے خوشحال و مالدار ہیں۔ بیٹوں کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق اسکی کفالت کریں۔ جواب میں بیٹوں نے کہا کہ والدہ مالی طور پر خود مختار ہے، دعویٰ خارج کیا جائے۔

فیملی کورٹ کا فیصلہ

فیملی کورٹ نے 20 مئی 2025ء کو بیس ہزار روپے کیس کا فیصلہ ہونے تک ماں کا عارضی خرچہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ یہ خرچہ ہر ماہ کی 14 تاریخ تک ادا کیا جائے ورنہ ‘فیملی کورٹ ایکٹ’ کی دفعہ 17-اے کے تحت دعویٰ بلا شہادت ڈگری کر دیا جائے گا۔
اگلی تاریخ 3 جون کی پڑی، اس تاریخ کو بیٹوں نے عارضی خرچہ جمع نہ کرایا تو عدالت نے حسبِ وارننگ کیس ماں کے حق میں ڈگری کر دیا۔
بیٹوں نے فیملی کورٹ کے اس حکم کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو 3 ستمبر کو خارج ہو گئی۔ بیٹوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس راحیل کامران نے 27 اکتوبر 2025ء کو حتمی سماعت کی۔

ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت

ہائیکورٹ میں بیٹے کی طرف سے دلائل دیے گئے کہ فیملی کورٹ کو صرف بیوی بچوں کے خرچ و نفقہ کے کیس سننے کا اختیار ہے نہ کہ والدین کے خرچہ و نفقہ کا۔ دفعہ 17-اے کے تحت صرف بیوی یا بچے کا عارضی خرچہ مقرر کیا جاتا ہے۔
عدالت نے خود حکم دیا کہ 14 تاریخ تک خرچہ ادا کرنا ہے لیکن 14 سے قبل 3 تاریخ کو ہی خرچہ جمع نہ کروانے پر کیس ڈگری کر دیا۔ بیٹوں کو عبوری خرچہ جمع کروانے اور اپنی شہادت ریکارڈ کروانے کا موقع نہ دیا گیا (کہ بیٹے شہادتوں سے ثابت کرتے کہ ماں تو خود مختار ہے، خرچے کی مستحق نہیں ہے)۔
ماں کے وکیل نے کہا کہ بیٹے مذہبی، اخلاقی اور قانونی طور پر اپنے والدین کی کفالت کے پابند ہیں، بالخصوص جب والدین کے پاس ذرائع آمدن نہ ہوں۔ بیٹوں نے کثیر وسائل ہونے کے باوجود ماں کو نظر انداز کیا جس پر وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے عدالت آئی۔
نچلی عدالتوں کے فیصلے ایک ضعیف ماں کو بے آسرا ہونے سے بچانے کے لیے بالکل درست ہیں۔

فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار اور ہائی کورٹ کا فیصلہ

عدالت نے فیصلہ لکھا کہ ‘فیملی کورٹ ایکٹ’ کے شیڈول میں ‘خرچ و نفقہ’ کو بیوی بچوں کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا بلکہ مطلق رکھا ہے۔ یہ ایکٹ چونکہ خاندانی معاملات کے تصفیے کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا فیملی کورٹ والدین کے خرچ و نفقہ کا کیس سن سکتی ہے۔
ڈی ایف مُلا کی کتاب "محمدن لاء” کے پیراگراف 371 کے مطابق اگرچہ والدین خود کما سکنے کے قابل ہوں تب بھی خوشحال بچے اپنے نادار والدین کی کفالت کرنے کے پابند ہیں۔ یوں اسلامی قانون کے مطابق بھی والدین اپنے بچوں سے خرچ و نفقہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
البتہ دفعہ 17-اے میں عارضی خرچہ ادا نہ کرنے پر بلا شہادت کیس ڈگری کرنے کا جو حکم ہے، وہاں قانون میں ‘بیوی یا بچے’ کا ذکر موجود ہے، اس لیے موجودہ کیس میں یہ دفعہ لاگو نہ ہوگی۔ فیملی کورٹ کو فریقین کی شہادتیں ریکارڈ کرکے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔
ہائیکورٹ نے ماں کو بیٹوں سے خرچ و نفقہ لینے کی حقدار قرار دیتے ہوئے کیس فیملی کورٹ کو بھیج دیا کہ فریقین کی شہادتیں ریکارڈ کر کے دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔

فیملی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور بیٹوں کی بدبختی

فیملی کورٹ میں اگر شہادتوں کے ذریعے ثابت ہوگیا کہ بیٹے زیادہ ہی خوشحال ہیں، تو یہ ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھ کر لاکھوں میں بھی پہنچ سکتا ہے۔
 دنیا میں بیٹوں کے لیے اس سے بڑھ کر بدبختی کیا ہوگی کہ ماں بنیادی خرچے کے لیے عدالت میں پہنچ جائے۔
یہاں ایک گفتگو ماں باپ اور نئی نسل کے تعلق سے متعلق بھی ہو جو اگرچہ یہاں موضوع بحث نہیں، لیکن وائرل موضوع ضرور ہے۔

نوٹ: یہ عدالتی کیس  محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کی وال سے لیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button