اہم خبریں

جسٹس بابر ستار ، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت کا تبادلہ

اس فیصلے کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کا پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ کر دیا گیا۔

منگل کے روز چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلے کی منظوری دی گئی۔

اس فیصلے کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کا پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ کر دیا گیا۔

یہاں سب سے اہم اور حیران کن پہلو جسٹس بابر ستار کا وہ خط ہے جو انہوں نے اجلاس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان کو ارسال کیا تھا۔ اس خط میں انہوں نے آئین کے آرٹیکل 200 کا حوالہ دیتے ہوئے استدعا کی تھی کہ تبادلے جیسا اہم فیصلہ کرنے سے قبل انہیں ذاتی طور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

انصاف اور فطری انصاف (Natural Justice) کا بنیادی تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کو سنے بغیر اس کے خلاف فیصلہ نہ سنایا جائے، مگر جوڈیشل کمیشن نے اس آئینی استدعا کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے تبادلے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔

اسی اجلاس میں موجودہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے دو دیگر ججز (جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو) کے تبادلے کی تجاویز تو واپس لے لیں، مگر ان تین ججز کو نشانہ بنایا گیا جو طویل عرصے سے بعض طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے۔

سینیارٹی کا قتلِ عام: جونیئر جج کی بطور چیف جسٹس تعیناتی

 

موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس نقطے کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو "قابو” میں کرنے کی کوششیں محض ان تبادلوں سے شروع نہیں ہوئیں۔

کچھ عرصہ قبل عدالتِ عالیہ کے سینئر ترین ججز کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی، جو سینیارٹی کے اعتبار سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے عہدے کے جائز حقدار تھے، انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

میرٹ اور عدالتی روایات کو پامال کرتے ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں آخری نمبروں پر موجود ایک جج (جسٹس سرفراز ڈوگر) کو لایا گیا اور براہِ راست اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تعینات کر دیا گیا۔

اس اقدام کا واضح مقصد ایک ایسا انتظامی سربراہ لانا تھا جو حساس مقدمات میں من پسند بینچ تشکیل دے سکے اور ان سینئر ججز کو دیوار سے لگا سکے جو ڈکٹیشن لینے سے انکاری تھے۔ آج انہی جونیئر چیف جسٹس کی موجودگی میں سینئر ججز کو صوبوں میں بھیج دیا گیا۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز زیرِ عتاب کیوں آئے؟

 

اگر ہم آج کے اس تبادلے سے وقت کے پہیے کو تھوڑا پیچھے کی طرف گھمائیں، تو ہمیں ان ججز کے زیرِ عتاب آنے کی اصل وجوہات بالکل واضح نظر آئیں گی۔

1۔ مارچ 2024 کا تہلکہ خیز خط:

 

ان تبادلوں اور تنازعات کی اصل بنیاد 25 مارچ 2024 کو رکھی گئی، جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کے نام ایک تاریخی خط لکھا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ ان چھ ججز میں یہی جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سرِفہرست تھے۔

اس خط میں ججز نے کھلے الفاظ میں ریاست کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے عدالتی امور میں سنگین مداخلت کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ججز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اور ان کی رہائش گاہوں کے بیڈ رومز تک میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے۔ یہ خط ریاستی بیانیے کے خلاف ایک بہت بڑی بغاوت تھا، جس کی قیمت آج انہیں چکانی پڑ رہی ہے۔

2۔ غلیظ سوشل میڈیا مہم اور ہراسانی کا تسلسل:

 

خط لکھنے کے بعد ان ججز کو تحفظ ملنے کے بجائے ان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں مہمات کا آغاز ہوا۔ جسٹس بابر ستار کے خلاف ان کے گرین کارڈ اور مبینہ دہری شہریت کو لے کر سوشل میڈیا پر جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا کیا گیا۔ ان کے خاندان کا حساس ڈیٹا غیر قانونی طور پر حاصل کر کے لیک کیا گیا تاکہ انہیں خوفزدہ کیا جا سکے۔

اسی طرح جسٹس محسن اختر کیانی کی ساکھ مجروح کرنے کے لیے آڈیو لیکس کا سہارا لیا گیا۔ یہ سب وہ ہتھکنڈے تھے جو ان ججز کو ان کے منصب سے ہٹانے یا انہیں دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیے گئے۔

جسٹس بابر ستار و دیگر کا تبادلہ انتظامی نہیں

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان تین  ججز کا تبادلہ محض ایک روٹین کا انتظامی فیصلہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ اس جنگ کا نتیجہ ہے جو ریاست کی ایگزیکٹو مشینری اور آزاد عدلیہ کے درمیان پچھلے چند سالوں سے جاری ہے۔

جونیئر کو سینئر پر مسلط کرنا، شنوائی کے بنیادی حق کو روندنا، اور انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت بے نقاب کرنے والوں کو دیوار سے لگانایہ سب اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ نظامِ عدل کو مکمل طور پر زیرِ نگیں کرنے کا عمل جاری ہے۔

اس طرح کے اقدامات سے عدلیہ کی آزادی مجروح ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کا نظامِ عدل پر وہ بچا کھچا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے جو کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کی بقاء کی بنیادی شرط ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button