
معروف صحافی اور اب ایک نئی سیاسی جماعت کے بانی، سید اقرار الحسن ایک بار پھر خبروں اور سوشل میڈیا کی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں
۔ حال ہی میں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہیں ہوائی اڈے پر ایک ایف آئی اے (FIA) اہلکار پر شدید غصے میں چلاتے اور بدتمیزی کرتے دیکھا گیا۔
اس تنازع کی بنیاد محض اتنی تھی کہ اہلکار نے مبینہ طور پر ان کی سیاسی جماعت کے مستقبل کو گلوکار و سیاستدان جواد احمد کی سیاسی جدوجہد (یا ناکامی) سے تشبیہ دی۔ اقرار الحسن نے اس سیاسی تبصرے کو ایک گالی کے مترادف سمجھا اور شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
سیاست کے لیے "بڑا دل گردہ” کیوں ضروری ہے؟
اردو کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ "سیاست کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے ہوتا ہے”۔ جب کوئی شخص صحافت کی کرسی سے اٹھ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھتا ہے، تو اسے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اب وہ سوال پوچھنے والا نہیں بلکہ تنقید کا براہِ راست نشانہ بننے والا ہے۔
برداشت کا مادہ: سیاست میں عوام، سیاسی مخالفین اور بعض اوقات عام سرکاری اہلکار بھی آپ کی پالیسیوں، آپ کے قد کاٹھ اور آپ کی مقبولیت پر تبصرہ کرتے ہیں۔
عوامی ردعمل کا سامنا: ایک مدبر سیاستدان کو ہر قسم کے تیکھے سوالات اور چبھتے ہوئے طنز کو مسکراہٹ اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اقرار الحسن کے حوالے سے یہ عمومی تاثر بنتا جا رہا ہے کہ وہ معمولی سی تنقید پر—چاہے وہ ٹی وی شو ہو، پوڈ کاسٹ ہو، یا کوئی عوامی مقام—انتہائی جذباتی ردعمل دیتے ہوئے اپنے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔
جواد احمد سے تشبیہ: گالی یا سیاسی تبصرہ؟
ایف آئی اے اہلکار کا اقرار الحسن کی سیاسی پارٹی کو جواد احمد کی ‘برابری پارٹی پاکستان’ سے ملانا یا یہ کہنا کہ ان کی پارٹی کا حال بھی ویسا ہی ہوگا، کسی بھی زاویے سے گالی نہیں ہے۔
جواد احمد اس ملک کے ایک شہری ہیں جنہوں نے ایک خاص نظریے کے تحت سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی کامیابی یا ناکامی پر بات کرنا ایک خالصتاً سیاسی تجزیہ ہے۔ اس تبصرے کو گالی سے جوڑ کر طیش میں آنا دراصل تنقید سننے کے حوالے سے عدم برداشت کی نشاندہی کرتا ہے۔
مکمل ویڈیو:
آپ کو آپ کی فیملی کے سامنے سیاسی اختلاف کی وجہ سے کوئی سرکاری افسر تضحیک اور تذلیل کا نشانہ بنائے تو آپ کیا کریں گے؟؟ حیرت ہے کہ پی ٹی آئی، ایف آئی اے کے اس افسر کی بدتہذیبی کا دفاع کر رہی ہے جس کے ہر کارکن، ہر یوٹیوبر اور اُن کی فیملیز کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی… pic.twitter.com/gp7UsmO3YF— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) April 26, 2026
بدتمیزی کی حوصلہ شکنی بمقابلہ سیاسی رائے کا حق
اس واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے معاشرے کے دو اہم پہلوؤں کو متوازن انداز میں دیکھنا ضروری ہے:
بدتمیزی اور گالی گلوچ کی مکمل مخالفت: کسی بھی شعبے، بالخصوص عوامی نمائندگی میں بدتمیزی، چیخ و پکار یا ذاتی حملوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ تنقید کے جواب میں اپنے سے اختلاف کرنے والے ہر شخص کو بدتمیزی سے ٹریٹ کرنا کسی طور پر قابلِ قبول نہیں۔
سیاسی رائے رکھنے کا حق اور اس کی اہمیت: جمہوری معاشروں میں ہر فرد کو سیاسی رائے رکھنے، اسے بیان کرنے اور رہنماؤں کے سیاسی مستقبل پر پیشگوئی کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اس حق کی افادیت یہی ہے کہ اس سے معاشرے میں مکالمہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک نئی پارٹی بنانے والا لیڈر اپنے ناقدین کو غصے اور چیخ و پکار سے خاموش کروانے کی کوشش کرے گا، تو یہ رویہ سراسر غیر جمہوری ہے۔
نئے سیاسی سفر کے لیے ایک سبق
اب چونکہ سید اقرار الحسن باقاعدہ طور پر اپنی سیاسی جماعت بنا چکے ہیں، انہیں اپنے مزاج میں ٹھہراؤ لانا ہوگا۔
صحافی کی حیثیت سے مائیک پکڑ کر چھاپے مارنا اور غصہ دکھانا ایک الگ نوعیت کا کام تھا، لیکن ایک سیاسی لیڈر کے طور پر انہیں لوگوں کی تلخ باتیں سن کر بھی انہیں ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
آنے والے وقتوں میں ان پر روزانہ کی بنیاد پر اس سے بھی زیادہ سخت تنقید ہوگی اور مشکل سوالات پوچھے جائیں گے۔ اگر وہ ہر شخص کے ساتھ ایسا ہی ہتک آمیز رویہ اپنائیں گے، تو وہ عوام کے دلوں میں ایک بردبار رہنما کی بجائے ایک متشدد شخص کا تاثر چھوڑیں گے۔
سیاست سر عام شو نہیں سید اقرار الحسن صاحب
سیاست صبر، تحمل اور مخالفانہ بیانیے کو ہضم کرنے کا نام ہے۔ تنقید کو گالی سمجھنے کی بجائے اسے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اقرار الحسن سمیت ہر اس شخص کو جو سیاست کے خار زار میں قدم رکھ رہا ہے، یہ سیکھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، اور اس کا جواب دلیل اور مسکراہٹ سے دیا جاتا ہے، طیش اور بدتمیزی سے نہیں۔



