متفرق

سیکنڈز میں دوسروں کا دل جیتنے کے بہترین طریقے

بات چیت کا مطلب صرف بولنا نہیں ہے، بلکہ ماہرین کے مطابق ہماری گفتگو میں الفاظ کا حصہ صرف 7 فیصد ہوتا ہے، جبکہ 93 فیصد انحصار ہماری باڈی لینگویج پر ہوتا ہے۔

اکثر ہم ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جن کی باتیں ہمارے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور ہمارا ان سے بار بار ملنے اور بات کرنے کو دل کرتا ہے۔ دراصل یہ کوئی جادو نہیں بلکہ بہترین ‘کمیونیکیشن سکلز’  کا کمال ہے۔

بات چیت کا مطلب صرف بولنا نہیں ہے، بلکہ ماہرین کے مطابق ہماری گفتگو میں الفاظ کا حصہ صرف 7 فیصد ہوتا ہے، جبکہ 93 فیصد انحصار ہماری باڈی لینگویج پر ہوتا ہے۔

یہاں ان تمام اہم باتوں اور تکنیکوں کو یکجا کیا گیا ہے جن پر عمل کر کے آپ بھی اپنی شخصیت کو پرکشش بنا سکتے ہیں اور سیکنڈز میں دوسروں کا دل جیتنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

1. باڈی لینگویج کی درستگی

 

  • آئی کانٹیکٹ : بات کرتے وقت مناسب آئی کانٹیکٹ رکھنا خود اعتمادی کی نشانی ہے۔ موبائل فون کی سکرین پر دیکھتے ہوئے یا نظریں چراتے ہوئے بات سننا بے ادبی ہے اور گفتگو کا حسن ختم کر دیتا ہے۔

  • سر ہلانا اور گردن کا زاویہ: سننے کے دوران اپنی گردن کو ہلکا سا مقرر کی طرف جھکانا اور وقفے وقفے سے سر ہلا کر (Nodding) رسپانس دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ ایک اچھے اور ‘ایکٹیو لسنر’ (Active Listener) ہیں۔ آج کے دور میں جہاں کسی کے پاس وقت نہیں آپ بہترین سامع ہوتے ہوئے  چند سیکنڈز میں دوسروں کا دل جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

2. الفاظ اور تاثرات میں مطابقت

 

جو الفاظ آپ کی زبان سے ادا ہو رہے ہوں، آپ کے چہرے کے تاثرات بھی بالکل ویسے ہی ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کسی سے مل کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں تو چہرے پر بھی وہ خوشی فوراً نظر آنی چاہیے۔ الفاظ اور تاثرات میں تضاد یا تاخیر  اگلے انسان پر بہت برا تاثر ڈالتی ہے۔

3. گفتگو میں ہم آہنگی پیدا کرنا

بات کرنے والے کے انداز، بیٹھنے کے زاویے، اور یہاں تک کہ ان کے سانس لینے کی رفتار (Breathing) کو غیر محسوس طریقے سے کاپی کرنے کو مررنگ یا میچنگ کہتے ہیں۔

ایسا کرنے سے لاشعوری طور پر اگلے شخص کے دماغ کو یہ پیغام جاتا ہے کہ آپ اسی کی طرح کے ہیں، جس سے آپ دونوں کے درمیان تیزی سے ایک مضبوط کنکشن بنتا ہے۔

4. آواز کا اتار چڑھاؤ اور ٹھہراؤ

ایک ہی روبوٹک ٹون میں بات کرنے سے لوگ بور ہو جاتے ہیں۔ اپنی بات کے جذبات (خوشی، دکھ، جوش) کے حساب سے آواز کو کم یا زیادہ کریں۔

بات کرتے ہوئے مناسب جگہ پر رکنا (Pause) اور ہاتھوں کا متوازن استعمال بات میں وزن اور سسپنس پیدا کرتا ہے۔

5. تنقید کے بجائے مثالوں اور کہانیوں کا استعمال

 

کسی کو براہ راست غلط کہنے یا تنقید کرنے سے وہ دفاعی (Defensive) موڈ میں آ جاتا ہے۔ اس کے بجائے کوئی کہانی یا مثال (Metaphor) دے کر بات سمجھائیں۔ اس طرح مخاطب کی عزتِ نفس بھی مجروح نہیں ہوتی اور وہ بات کا مطلب بھی سمجھ جاتا ہے۔

6. سوالات پوچھنے کا فن اور "تھرڈ پرسن” تکنیک

اگر کسی بڑے یا استاد سے کوئی ایسا سوال پوچھنا ہو جس سے ان کے ناراض ہونے کا ڈر ہو، تو براہ راست پوچھنے کے بجائے "تھرڈ پرسن” کا حوالہ دیں۔ جیسے: "میرے ایک دوست کا یہ سوال تھا کہ…”۔ اس طرح سوال کا جواب بھی مل جائے گا اور احترام بھی برقرار رہے گا۔

7. مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا

 

ہمیشہ مخاطب کی ذہنی سطح اور سمجھ کے مطابق بات کریں۔ اگر محفل سنجیدہ ہے تو سنجیدہ گفتگو کریں، اگر دوستوں یا بچوں میں ہیں تو ان کے لیول پر جا کر بات کریں۔ محفل کی مناسبت سے باوقار مزاح (Humor) کا استعمال آپ کو محفل کی جان بنا سکتا ہے۔

8. باتوں کو دہرانا اور جوڑنا

مخاطب کی بات سن کر اس کے آخری چند الفاظ یا مرکزی خیال کو دہرانے سے گفتگو میں ایک ربط (Chain) بنتا ہے۔ اس سے بولنے والے کو یہ تسلی ہوتی ہے کہ آپ نے اس کی بات کو پوری طرح سمجھا ہے اور وہ مزید کھل کر آپ سے بات کرتا ہے۔

خلاصہ کلام

 

ایک بہترین کمیونیکیٹر وہ نہیں ہوتا جو صرف مسلسل بولنا جانتا ہو، بلکہ وہ ہے جو بہترین انداز میں سننا جانتا ہو، دوسروں کو اہمیت دیتا ہو اور اپنی جسمانی حرکات (Body Language) سے مثبت تاثر قائم کرتا ہو۔ ان چھوٹی مگر گہری باتوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر آپ لوگوں کے دلوں میں باآسانی جگہ بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button