
دنیا بھر کے ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں ایک طاقتور موسمی صورتحال “سُپر ایل نینو” پیدا ہو سکتا ہے، جو پاکستان سمیت عالمی سطح پر موسم کے نظام کو متاثر کرے گا۔ ابتدائی پیش گوئیوں کے مطابق یہ مظہر شدید گرمی، غیر متوقع بارشوں، خشک سالی اور سیلاب جیسے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر جنوبی ایشیا جیسے حساس خطوں کے لیے تشویش کا باعث ہے، جہاں معیشت کا بڑا حصہ زراعت اور موسمی حالات پر منحصر ہے۔
ایل نینو اور ’سُپر ایل نینو‘ کیا ہے؟
ایل نینو ایک قدرتی موسمی نظام ہے جو بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ مظہر ہر دو سے سات سال کے دوران ظاہر ہوتا ہے اور عالمی موسم پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
جب یہی درجہ حرارت معمول سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھ جائے تو اسے “سپر ایل نینو” کہا جاتا ہے۔ ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں لیکن ان کے اثرات انتہائی شدید ہوتے ہیں، جن میں شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی شامل ہیں۔
2026 میں مضبوط ایل نینو کے امکانات
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے مطابق مئی سے جولائی 2026 کے درمیان ایل نینو کے آغاز کے واضح امکانات موجود ہیں۔ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ ایک مضبوط یا حتیٰ کہ “سُپر” سطح کا واقعہ بھی بن سکتا ہے۔
بحرالکاہل میں تیزی سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس مظہر کی اہم علامت سمجھا جا رہا ہے، اور ماڈلز کے مطابق یہ سال کے آخر تک برقرار رہ سکتا ہے۔
کچھ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ گزشتہ کئی دہائیوں کا طاقتور ترین ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے، جو عالمی درجہ حرارت کو ریکارڈ سطح تک لے جا سکتا ہے۔
ممکنہ عالمی اثرات
1. عالمی درجہ حرارت میں اضافہ
سپر ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے آنے والے سال ریکارڈ گرم ثابت ہو سکتے ہیں۔
2. شدید موسمی تبدیلیاں
- امریکہ اور وسطی ایشیا میں شدید بارشیں اور سیلاب
- آسٹریلیا، انڈونیشیا اور ایشیا کے کچھ حصوں میں خشک سالی
- طوفانوں اور موسمی شدت میں اضافہ
3. زراعت پر اثرات
غیر متوازن بارشیں اور شدید گرمی فصلوں کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے خوراک کی پیداوار اور عالمی غذائی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے خطرات
گرمی کی شدید لہر
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے ماہرین کے مطابق مئی اور جون میں پاکستان میں معمول سے کہیں زیادہ گرمی پڑنے کا امکان ہے، جس سے ہیٹ ویوز کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
مون سون کی غیر یقینی صورتحال
ایل نینو عام طور پر جنوبی ایشیا میں مون سون کو کمزور کرتا ہے، تاہم اس بار بارشوں کا پیٹرن غیر متوقع ہو سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں شدید بارشیں جبکہ دیگر میں خشک سالی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
زرعی شعبے پر دباؤ
بارشوں میں کمی یا بے ترتیبی سے فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بارانی علاقوں میں۔ پانی کی قلت اور شدید گرمی فصلوں کی پیداوار کو کم کر سکتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کا کردار
سائنسدانوں کے مطابق سُپر ایل نینو کے اثرات اس لیے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ عالمی حدت (Global Warming) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
گزشتہ ایل نینو کے دوران 2023 اور 2024 دنیا کے گرم ترین سالوں میں شامل رہے۔ اب اگر ایک اور طاقتور ایل نینو آتا ہے تو یہ زمین کے درجہ حرارت کو مزید خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔
تاریخی پس منظر
ماضی میں 1997-98 اور 2015-16 کے سُپر ایل نینو واقعات نے دنیا بھر میں تباہی مچائی:
- ایشیا اور افریقہ میں شدید خشک سالی
- امریکہ میں بڑے پیمانے پر سیلاب
- زرعی نقصانات اور معاشی بحران
ماہرین کے مطابق 2026 کا ممکنہ واقعہ اس سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
تیاری اور احتیاطی تدابیر
ماہرین حکومتوں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت دے رہے ہیں:
اہم اقدامات
- ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو مضبوط بنانا
- پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بہتر کرنا
- ہیٹ ویو اور سیلاب کے لیے وارننگ سسٹم تیار کرنا
- کسانوں کو موسمیاتی لحاظ سے محفوظ بیج فراہم کرنا
پاکستان میں این ڈی ایم اے NDMA اور دیگر ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
سپر ایل نینو کیلئے وقت سے پہلے اقدامات ضروری
2026 میں ممکنہ سپر ایل نینو دنیا کے لیے ایک بڑا موسمی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگرچہ اس کی شدت کے بارے میں مکمل یقین نہیں، لیکن موجودہ اشارے خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ سال شدید گرمی، غیر متوقع مون سون اور زرعی مشکلات لے کر آ سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی موسمی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تیاری ہی اس ممکنہ موسمی بحران کے اثرات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔



