صاحبزادہ فرحان 32

جاپان میں ایشین گیمز میں صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر

پاکستان کرکٹ بورڈ نے رواں سال جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، اور اس بار شائقینِ کرکٹ کو ایک قدرے نوجوان لیکن انتہائی پُر جوش ٹیم ایکشن میں نظر آئے گی۔

19 ستمبر سے 3 اکتوبر تک کھیلے جانے والے اس اہم ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کی قیادت اوپننگ بیٹر صاحبزادہ فرحان کریں گے، جبکہ نوجوان کھلاڑی عبدالصمد کو نائب کپتان کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

اسکواڈ کی خاص بات اس میں شامل چار نئے چہرے ہیں جنہیں پہلی بار قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیکٹرز مستقبل کے ستاروں کو سامنے لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

علی رضا اور نئے ٹیلنٹ کی انٹری

 

 

اس اسکواڈ میں سب سے زیادہ توجہ ابھرتے ہوئے نوجوان فاسٹ باؤلر علی رضا نے حاصل کی ہے۔ گزشتہ دو سیزنز میں پی ایس ایل کے دوران اپنی شاندار باؤلنگ سے دھوم مچانے والے علی رضا ایک عرصے سے قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔

شائقین کو پچھلے سال کا انڈر 19 ایشیا کپ کا فائنل بخوبی یاد ہوگا جہاں علی رضا نے روایتی حریف بھارت کے خلاف محض 42 رنز دے کر 4 اہم وکٹیں حاصل کی تھیں اور پاکستان کو ٹرافی جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

اس کے علاوہ معاذ صداقت اور سعد مسعود کو بھی 15 رکنی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ دونوں کھلاڑی اس سے قبل ون ڈے فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھ چکے ہیں۔

سینئرز کا تجربہ اور کم بیک کی جدوجہد

 

نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ٹیم میں صائم ایوب، سفیان مقیم، ابرار احمد اور عثمان خان (وکٹ کیپر) جیسے تجربہ کار کھلاڑی بھی شامل ہیں، جو اسکواڈ کو ایک بہترین توازن فراہم کرتے ہیں۔

اس سال چونکہ پاکستان کم ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل رہا ہے، اس لیے یہ ٹورنامنٹ کئی کھلاڑیوں کے لیے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں اپنی مستقل جگہ بنانے کا ایک شاندار اور سنہری موقع ہے۔ خاص طور پر حسن نواز اور حیدر علی کے لیے یہ ایونٹ کسی لائف لائن سے کم نہیں۔

حسن نواز پچھلے سال ایشیا کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد سے ٹیم سے باہر ہیں اور نومبر کے بعد سے انہوں نے پاکستان کے لیے کوئی میچ نہیں کھیلا۔ دوسری جانب حیدر علی کا کیریئر بھی اسی طرح کے اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، جہاں شاندار آغاز کے بعد وہ اپنی فارم کھو بیٹھے۔ اب ان دونوں پاور ہٹرز کے پاس خود کو دوبارہ ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے۔

پچھلی غلطیوں سے سیکھنے کا وقت

 

یہ ٹورنامنٹ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پچھلے ایشین گیمز (جو چین میں منعقد ہوئے تھے) میں پاکستان کی کارکردگی شائقین کے لیے شدید مایوسی کا باعث بنی تھی۔ سیمی فائنل میں افغانستان سے شکست اور پھر برانز میڈل کے میچ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں ہارنے کے بعد قومی ٹیم بغیر کسی میڈل کے وطن واپس لوٹی تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں یہ نوجوان ٹیم جاپان میں پچھلے ایشین گیمز کی تلخ یادوں کو مٹا کر پوڈیم تک پہنچنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں؟

پاکستان کا 15 رکنی مکمل اسکواڈ:

 

صاحبزادہ فرحان (کپتان)، عبدالصمد (نائب کپتان)، عثمان خان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، حیدر علی، حسن نواز، علی رضا، ابرار احمد، احمد دانیال، عاکف جاوید، عرفات منہاس، معاذ صداقت، محمد سلمان مرزا، سعد مسعود اور سفیان مقیم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں