کامن ویلتھ گیمز 17

ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز کے فائنل میں‌

پاکستان کے اولمپک اور کامن ویلتھ چیمپئن ارشد ندیم نے 2026 کامن ویلتھ گیمز کے مردوں کے جیولن تھرو مقابلے کے فائنل کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا، جس کے بعد پاکستانی شائقین کی نظریں ایک بار پھر ان پر جم گئی ہیں۔

فائنل میچ 31 جولائی بروز جمعہ کھیلا جائے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق میچ رات 10:30 بجے کھیلا جائے گا۔

 

ارشد ندیم اپنا ریکارڈ بھی نہ توڑ سکے

 

کوالیفائنگ راؤنڈ میں ارشد ندیم نے اپنی بہترین 78.63 میٹر تھرو کے ساتھ مجموعی طور پر ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ اگرچہ وہ 84 میٹر کی خودکار کوالیفائنگ حد عبور نہ کر سکے، تاہم چونکہ کوئی بھی ایتھلیٹ مقررہ حد تک نہ پہنچ سکا، اس لیے بہترین کارکردگی دکھانے والے 12 کھلاڑیوں کو فائنل کے لیے منتخب کیا گیا اور یوں ارشد ندیم نے بھی آخری مرحلے میں جگہ بنا لی۔

کوالیفائنگ مرحلے میں سری لنکا کے رمیش تھارانگا نے 82.84 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ گریناڈا کے عالمی چیمپئن اینڈرسن پیٹرز دوسرے اور جنوبی افریقا کے ڈاؤ اسمتھ تیسرے نمبر پر رہے

۔ بھارتی اسٹار جیولن تھروور نیرج چوپڑا بھی فائنل میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جس کے باعث فائنل میں دنیا کے کئی بڑے نام ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں کسی بھی ایتھلیٹ کا 84 میٹر کی حد عبور نہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقابلے کے دوران موسم، ہوا کی رفتار اور رن وے کی صورتحال جیولن تھرو کے لیے مکمل طور پر سازگار نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی نامور ایتھلیٹس بھی اپنی معمول کی کارکردگی پیش نہ کر سکے۔

ارشد ندیم نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں نسبتاً محتاط حکمت عملی اختیار کی اور غیر ضروری رسک لینے کے بجائے اپنی توجہ صرف فائنل میں جگہ بنانے پر مرکوز رکھی۔ کھیلوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ فائنل میں وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ میدان میں اتریں گے، جہاں 85 سے 90 میٹر سے زائد تھرو دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

 

کیا ارشد ایک بار پھر کامن ویلتھ گیمز کا ریکارڈ اپنے نام کریں گے؟

 

ارشد ندیم اس وقت دنیا کے بہترین جیولن تھروورز میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے پیرس اولمپکس 2024 میں 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ نہ صرف پاکستان کو تاریخ کا پہلا اولمپک گولڈ میڈل دلایا بلکہ نیا اولمپک ریکارڈ بھی قائم کیا۔

اس سے قبل 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر نیا گیمز ریکارڈ بھی اپنے نام کیا تھا، جبکہ 2023 کی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں سلور میڈل حاصل کیا۔

اب تمام نظریں جیولن تھرو کے فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں ارشد ندیم اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں ہوں گے۔ پاکستانی شائقین کو امید ہے کہ ارشد ندیم ایک مرتبہ پھر اپنی شاندار کارکردگی سے سبز ہلالی پرچم کو عالمی سطح پر سربلند کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں