چینی امپورٹ ایکسپورٹ 13

چینی امپورٹ ایکسپورٹ کے چکر میں‌دیہاڑیاں

پاکستان میں چینی امپورٹ ایکسپورٹ کی پالیسی  ایک بار پھر شدید سوالات کی زد میں ہے۔ ایک طرف ملک میں چینی کے وافر ذخائر کا دعویٰ کرتے ہوئے گزشتہ دور میں 7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی، دوسری جانب برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے بحران پیدا ہوا، جس کے بعد حکومت نے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اب اسی درآمدی چینی کا ایک بڑا حصہ دوبارہ بیرونِ ملک بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہی وہ صورتحال ہے جس نے حکومت کی  چینی امپورٹ ایکسپورٹ پالیسی پر ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے: اگر چینی برآمد کرنے کے بعد درآمد کرنا پڑی، تو درآمد کی گئی چینی اب دوبارہ برآمد کیوں کی جا رہی ہے؟

 

7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ

 

چینی کی موجودہ کہانی دراصل گزشتہ شوگر پالیسی فیصلوں سے جڑی ہوئی ہے۔

حکومتی ریکارڈ اور پارلیمانی کارروائی کے مطابق 2023-24 کے دوران ملک میں چینی کی پیداوار تقریباً 7.66 ملین ٹن رہی اور تقریباً 1.3 ملین ٹن کا سرپلس بتایا گیا۔

اسی بنیاد پر وفاقی کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف مراحل میں 7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی۔

اس برآمد سے 400 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہونے کی اطلاع پارلیمانی کمیٹی کو دی گئی تھی۔ لیکن مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ چینی برآمد کی گئی۔ اصل مسئلہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تھی۔

 

برآمد کے بعد قیمتیں بڑھیں، پھر درآمد کی نوبت آگئی

 

پارلیمانی اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے حکام نے بتایا تھا کہ جب چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تو مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت تقریباً 143 روپے فی کلو تھی، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً 173 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

پارلیمانی اراکین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے سوال کیا کہ اگر ملک میں چینی کا سرپلس موجود تھا تو برآمد کے بعد مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

یہاں سے پاکستان کی شوگر پالیسی کا وہ چکر شروع ہوا جس پر آج بھی سوالات اٹھ رہے ہیں:

پہلے برآمد، پھر قلت، پھر درآمد۔

پارلیمانی بحث کے دوران بھی اس پالیسی کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس بات پر اعتراض کیا گیا کہ ملک میں بارہا پہلے چینی برآمد کی جاتی ہے اور بعد میں اسی جنس کی درآمد کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔

پھر حکومت نے 3 لاکھ ٹن چینی کیوں درآمد کی؟

 

قیمتوں میں اضافے اور مقامی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت نے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔

جولائی 2025 میں حکومت نے اعلان کیا کہ چینی کی درآمد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے کی جائے گی تاکہ سپلائی، معیار اور قیمتوں پر حکومتی نگرانی برقرار رکھی جاسکے۔

سرکاری اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ درآمد کا مقصد مارکیٹ کو مستحکم کرنا اور عوام کو مناسب قیمت پر چینی کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔

بعد ازاں حکومت نے مجموعی طور پر 5 لاکھ ٹن درآمد کی منظوری دی، تاہم عملی طور پر تقریباً 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کی گئی۔ یہی چینی اب موجودہ تنازعے کے مرکز میں ہے۔

اب درآمد کی گئی چینی میں سے 1 لاکھ 8 ہزار ٹن دوبارہ برآمد کرنے کی تیاری

 

19 اگست 2026 کو وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کیا۔

سمری میں TCP کے پاس موجود 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر طلب کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ چینی گزشتہ سال درآمد کی گئی 3 لاکھ ٹن چینی کے باقی ماندہ ذخیرے کا حصہ ہے۔ ECC نے بین الاقوامی ٹینڈر کا عمل PPRA قوانین کے تحت آگے بڑھانے کی منظوری دی۔

یہاں ایک اہم بات واضح رہنی چاہیے: یہ براہِ راست 1 لاکھ 8 ہزار ٹن کی برآمد کی حتمی منظوری نہیں تھی۔

رپورٹس کے مطابق ECC نے پہلے بین الاقوامی ٹینڈر کے ذریعے قیمت معلوم کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ حتمی برآمدی فیصلہ ٹینڈر سے ملنے والی قیمت اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

یعنی حکومت اب اس چینی کو بیرونِ ملک فروخت کرنے کا راستہ ضرور کھول رہی ہے، لیکن اس کی آخری منزل ابھی ٹینڈر اور کابینہ کے فیصلے سے طے ہوگی۔

سوال یہ ہے: جو چینی درآمد کی گئی تھی، وہ اب اضافی کیسے ہوگئی؟

 

یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم سوال ہے۔ اگر حکومت نے گزشتہ سال چینی اس لیے درآمد کی تھی کہ مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافہ پیدا ہوگیا تھا، تو آج وہی درآمد شدہ چینی اضافی ذخیرے کی شکل میں کیوں موجود ہے؟

اور اگر اب ملک میں واقعی اتنی چینی موجود ہے کہ درآمد شدہ اسٹاک بھی اضافی ہوگیا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ سال درآمد کا حجم، وقت یا قیمتوں کا اندازہ درست نہیں تھا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر کافی زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق 31 جولائی 2026 تک ملک میں تقریباً 3.17 ملین ٹن چینی کے ذخائر موجود تھے، جبکہ ماہانہ کھپت تقریباً 5 لاکھ 64 ہزار ٹن بتائی گئی۔ ایسوسی ایشن نے نومبر میں نئی کرشنگ شروع ہونے سے پہلے تقریباً 1.197 ملین ٹن کے ممکنہ سرپلس کا تخمینہ بھی پیش کیا ہے۔

 

مہنگی درآمدی چینی اور سستی مقامی چینی کا سوال

 

موجودہ تنازعے کا سب سے اہم نکتہ یہی ہے۔حالیہ رپورٹس کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے درآمد شدہ چینی کے تقریباً 1 لاکھ ٹن کو برآمد کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ٹن مقامی طور پر تیار شدہ چینی کی برآمد کے حوالے سے فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق مقامی چینی نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہے، جبکہ درآمد شدہ چینی زیادہ لاگت پر خریدی گئی تھی۔

اس صورتحال پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر برآمد کرنا ہی مقصود ہے تو نسبتاً مہنگی درآمدی چینی کو پہلے کیوں برآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ کم لاگت والی مقامی چینی کے بارے میں فیصلہ مؤخر ہے؟

 

قومی خزانے کو نقصان کا خدشہ کیوں پیدا ہوا؟

 

چینی امپورٹ ایکسپورٹ کے اس دھندے میں اصل سول یہاں  مالی سوال سامنے آتا ہے۔

حکومت نے جو چینی درآمد کی، اسے بیرونِ ملک سے خریدنے کے لیے زرمبادلہ خرچ ہوا۔

اگر وہی چینی اب عالمی مارکیٹ میں اس قیمت سے کم پر فروخت ہوتی ہے جس قیمت پر اسے خریدا گیا تھا، تو حکومت کو نقصان ہوسکتا ہے۔

یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ چینی درآمد ہوئی اور اب برآمد ہورہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ: درآمد کے وقت فی ٹن قیمت کیا تھی؟ اس پر ٹیکس اور دیگر رعایتیں کتنی دی گئیں؟ ذخیرہ کرنے پر کتنا خرچ آیا؟ اور اب بین الاقوامی ٹینڈر میں اس کی ممکنہ فروخت قیمت کیا ہوگی؟

ان سوالات کے جواب کے بغیر یہ طے نہیں کیا جاسکتا کہ قومی خزانے کو حقیقی نقصان کتنا ہوگا۔

البتہ وزارت کے ذرائع اور بعض رپورٹس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر درآمدی چینی کو خریداری کی لاگت سے کم قیمت پر فروخت کیا گیا تو قومی خزانے کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

حکومت نے درآمدی چینی پر ٹیکس میں بھی رعایت دی تھی

 

اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو درآمد کے وقت دی جانے والی سہولتیں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق درآمدی چینی پر مجموعی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس کا بوجھ تقریباً 53 فیصد تک بنتا تھا، جسے کم کرنے کے لیے حکومت نے رعایتیں دیں۔

اس اقدام کا مقصد درآمدی چینی کی قیمت کم کرکے مارکیٹ کو مستحکم کرنا بتایا گیا تھا۔

اب اگر یہی چینی دوبارہ بیرونِ ملک فروخت ہوتی ہے تو سوال یہ ہے کہ:

حکومت نے جس چینی کو عوام کے لیے سستا کرنے کے لیے ٹیکس رعایت دی، وہی چینی اب بیرونِ ملک فروخت کرنے سے قومی مفاد کیسے حاصل ہوگا؟

چینی ملز مالکان کا ایک اور مسئلہ: کسان

 

یہ تنازع صرف حکومت، صارف اور قومی خزانے تک محدود نہیں۔ اس کا براہ راست تعلق گنے کے کاشتکار سے بھی ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق شوگر ملز مالکان نے وزارتِ صنعت و پیداوار کو خدشات سے آگاہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں انہیں اگلی گنے کی فصل خریدنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ اگر ملوں کے پاس پہلے سے تیار شدہ چینی کا بڑا ذخیرہ موجود ہو اور اسے فروخت کرنے کا مناسب راستہ نہ ملے تو ملوں کا نقد بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے۔

اس کا اثر بالآخر گنے کی خریداری اور کسانوں کو ادائیگی پر پڑ سکتا ہے۔

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں