میانوالی میں دہائیوں سے چلنے والے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اس کے ساتھ ٹراما سینٹر کو بند کر کے زچہ بچہ ہسپتال میں ضم کر دیا گیا ہے اور اسی کا نام تبدیل کر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال رکھ دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ دہائیوں سے چلنے والے ہسپتال کو پتہ نہیں کن بنیادوں پر راتوں رات اٹھا کر ایک چھوٹے ہسپتال میں ضم کر نے کا حکم دیا۔
دوسری طرف بجائے اس کے کہ اس کے اندر مریضوں کو بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں یا پھر حکام اپنا جواز پیش کریں کہ کن بنیادوں پر اس ہسپتال کو شفٹ کیا گیا ہے لیکن مقتدرہ نے اپنے من پسند صحافیوں اور ویلاگرز کو ہسپتال بھیج کر مقامی حکومتی رہنماؤں کے تعریفوں کے لیے لانچ کر دیا۔
ان نام نہاد صحافیوں نے بھی اس ہسپتال کو ایسے پیش کیا جیسے یہ کوئی یورپ کا بہت بڑا ہسپتال بننے جا رہا ہے یا بن چکا ہے۔اس سے بھی افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں نظام صحت سے وابستہ لوگ جن میں ڈاکٹرز، کمپاونڈرز یا فارمسسٹ شامل ہیں انہوں نے حکومت کے اس اقدام پر کوئی آواز بلند نہیں کی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس ہسپتال میں فارمیسی پر ایک ہی کاؤنٹر، او پی ڈی پر کم عملہ یا کم کاؤنٹرز ہونے، کینٹین نہ ہونے ، باتھ روم کی حالت زار اور انٹر نیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
حکومت پنجاب کا موقف
حکومت پنجاب کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈی ایچ کیو کی پرانی بلڈنگ میں میڈیکل کالج بنے گا لیکن ڈی ایچ کیو کی پرانی بلڈنگ جسکو کچھ ہی عرصہ پہلے کروڑوں روپے لگا کر مرمت کیا گیا تھا وہ اب تباہ حالی کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بلڈنگ کا سازو سامان اعلیٰ حکام کے گھروں کو پہنچ چکا ہے ۔جن میں AC ،کرسیاں ، ریوالونگ چیئرز اور دیگر سرکاری ساز و سامان مال غنیمت سمجھ کر تقسیم کیا جا چکا ہے۔
جیو نیوز کا آرٹیکل
جیو نیوز ویب سائٹ پر میانوالی زچہ بچہ ہسپتال کے مسئلہ پر "فیکٹ چیک” کے نام سے ایک آرٹیکل پبلش کیا ہے مگر اس میں فیکٹ (یعنی حقیقت)کو تو بلکل ہی نظر انداز کیا گیا ہے۔
خوشاب سے تعلق رکھنے والے جیو نیوز کے ایک صحافی نے اپنے اس آرٹیکل میں لکھا کہ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو بند نہیں کیا گیا بلکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو اس میں ضم کیا گیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیڈز ڈیپارٹمنٹ (شعبہ اطفال / بچوں کا وارڈ) پیدائش سے لے کر اٹھارہ سال تک کے بچوں کی طبی دیکھ بھال، بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد بچوں کو صحت مند رکھنا اور ان کے امراض کا بروقت تدارک کرنا ہوتا ہے اور یہ ڈیپارٹمنٹ تو ہر ایک سرکاری ہسپتال میں ہوتا ہے ۔لیکن یہ پورا ہسپتال ہی پیڈز (شعبہ اطفال اور بچوں کے خصوصی علاج ) کے لئے تھا جسکو زچہ بچہ کا نام دیا گیا تھا اب اسکو ختم کر کے ڈیپارٹمنٹ کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔
جیو نیوز کی ویب سائٹ پر چھپنے والے اس آرٹیکل میں اس بات کو بھی نظر انداز کیا گیا کہ میانوالی میں دہائیوں سے چلنے والے ہسپتال ڈی ایچ کیو اور اسکے ساتھ ٹرامہ سنٹر کو بھی بند کر کے اسکو ایک چھوٹے زچہ بچہ ہسپتال میں ضم کر دیا گیا ہے ۔ بلکہ اس آرٹیکل میں اس بات کو کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے
"محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو بند نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ اسے میانوالی میں ایک بڑے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال کے طور پر دوبارہ کار آمد بناتے ہوئے اس کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے”
لیکن سوال تو یہ ہے:
لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تھا ہی نہیں تو اسے دوبارہ ایک بڑے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال کے طور پرکار آمد کیسے بنا دیا گیا ؟
اس آرٹیکل میں یہ بھیٹ لکھا گیا کہ زچہ بچہ ہسپتال کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اسکے بعد ڈی ایچ کیو ہسپتال کو اس میں شفٹ کیا گیا لیکن یہ بات بھی حقیقت کے بلکل برعکس ہے کیونکہ یہ ہسپتال ابھی بھی زیر تعمیر ہے اور ابھی اسکی آدھی بلڈنگ کا کام باقی ہے۔
علاقے کی عوام
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو پرانی عمارت میں دوبارہ بحال کرنے کیلئے آئے روز عوامی مطالبہ زور پکڑتا جارہاہے۔
علاقے کی عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں نہ کہ ہسپتال بند کر کے میڈیکل کالج بنایا جائے اور اگر میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لانا ہے تو اس کے لیے کوئی اور بلڈنگ مختص کی جائے یا پھر نئی بلڈنگ کی بنیاد رکھی جائے۔
