پاکستانی اداکارہ رمشا خان کی بہن علیشا خان کی شادی کی تقریبات نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کر لی ہے۔ جہاں شادی کی تصاویر اور ویڈیوز نے مداحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، وہیں نکاح کی ایک وائرل ویڈیو نے ایک الگ بحث چھیڑ دی۔
روایتی انداز میں ہونے والے پاکستانی نکاح کے برعکس، ویڈیو میں دلہا اور دلہن کی جانب سے رضامندی کا اظہار انگریزی زبان میں کیے جانے پر صارفین کی جانب سے تنقید، طنز اور دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس کے ساتھ ہی شادی کی تقریبات میں رمشا خان کی نمایاں عدم موجودگی نے بھی مداحوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا کر دیے۔ یوں ایک ہی شادی سے متعلق دو مختلف موضوعات سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئے: نکاح کا انگریزی انداز اور رمشا خان کہاں تھیں؟
علیشا خان کی شادی کی ویڈیوز وائرل
رمشا خان کی بہن علیشا خان، جو سوشل میڈیا اور انفلوئنسر کی دنیا سے بھی وابستہ ہیں، کی شادی کی تقریبات گزشتہ دنوں سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہیں۔
شادی کی تصاویر اور ویڈیوز میں تقریب کے مختلف لمحات شیئر کیے گئے، تاہم سب سے زیادہ توجہ نکاح کی تقریب کی ایک ویڈیو نے حاصل کی۔
متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق علیشا خان کا نکاح دن کے وقت منعقد ہوا اور تقریب کا انداز عام پاکستانی شادیوں سے کچھ مختلف نظر آیا۔ جب نکاح کے دوران رضامندی کے اظہار کا مرحلہ آیا تو روایتی ”قبول ہے” کے بجائے انگریزی زبان استعمال کی گئی۔یہی لمحہ سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گیا۔
”قبول ہے” کی جگہ انگریزی جواب، اصل بحث کیا ہے؟
پاکستان میں نکاح کے دوران ”قبول ہے” کا جملہ محض ایک قانونی یا مذہبی عمل کے طور پر نہیں بلکہ شادی کی روایتی ثقافت کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے جب علیشا خان کی شادی کی ویڈیو سامنے آئی اور صارفین نے نکاح کے دوران انگریزی میں رضامندی کا اظہار دیکھا تو مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک پاکستانی شادی میں نکاح کے اس مرحلے کو انگریزی انداز میں ادا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
بعض صارفین نے روایتی ”قبول ہے” کو زیادہ خوبصورت، سادہ اور جذباتی قرار دیا، جبکہ بعض نے تقریب کے مجموعی انداز اور انگریزی لہجے پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صفحات اور ویب سائٹس نے اس ردعمل کو ”بیک لیش” یا شدید آن لائن تنقید قرار دیا۔
تاہم اس معاملے میں سوشل میڈیا پر ایک دوسرا نقطۂ نظر بھی موجود ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ شادی ہر خاندان کا ذاتی معاملہ ہے اور اگر جوڑے نے اپنی پسند کے مطابق زبان یا انداز اختیار کیا تو اسے غیر ضروری تنازع نہیں بنانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر طنز اور تنقید کا سلسلہ
وائرل ویڈیو کے بعد تبصروں میں خاصا تنوع دیکھنے میں آیا۔ کچھ لوگوں نے نکاح کے انداز کو غیر روایتی قرار دیتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ نے اسے محض جوڑے کی ذاتی پسند قرار دیا۔
آن لائن ردعمل کا ایک حصہ تقریب کے انگریزی انداز سے متعلق تھا، جبکہ بعض صارفین نے دلہن کے لہجے اور رضامندی کے اظہار کے طریقے پر بھی مزاحیہ اور طنزیہ تبصرے کیے۔ یہی تبصرے تیزی سے مختلف سوشل میڈیا صفحات پر شیئر ہوتے رہے اور معاملہ مزید وائرل ہوتا چلا گیا۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ تمام صارفین کا ردعمل منفی نہیں تھا۔ کچھ افراد نے شادی کو ایک خوشی کا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی شادی اپنی پسند کے مطابق منانے کا حق ہونا چاہیے۔
شادی سے زیادہ رمشا خان کی عدم موجودگی نے بھی توجہ حاصل کر لی
علیشا خان کی شادی کے حوالے سے دوسرا بڑا سوال خود رمشا خان سے متعلق تھا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد تصاویر اور ویڈیوز میں مداحوں نے محسوس کیا کہ رمشا خان نمایاں طور پر نظر نہیں آ رہیں۔ اس کے بعد صارفین نے تبصروں میں سوالات شروع کر دیے کہ آخر رمشا خان اپنی بہن کی شادی کی تقریبات میں کہاں تھیں؟
کئی صارفین نے خاص طور پر اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ شادی کے وائرل مواد میں رمشا خان اور ان کے شوہر خوشحال خان بھی نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیے۔ اس حوالے سے مداحوں نے مختلف قیاس آرائیاں کیں اور سوشل میڈیا پر سوالات کی بھرمار ہو گئی۔ لیکن یہاں ایک اہم بات کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔
کیا رمشا خان واقعی بہن کی شادی میں موجود نہیں تھیں؟
ابھی تک ایسی کوئی مستند معلومات سامنے نہیں آئیں جن کی بنیاد پر یقینی طور پر کہا جا سکے کہ رمشا خان اپنی بہن کی شادی میں شریک نہیں ہوئیں۔
میڈیا رپورٹس میں بنیادی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ وہ ابتدائی طور پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں نمایاں نظر نہیں آئیں، جس کے بعد مداحوں نے ان کی بظاہر غیرموجودگی پر سوالات اٹھائے۔
لہٰذا ”رمشا خان نے بہن کی شادی میں شرکت نہیں کی” کو ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اتنا کہنا زیادہ محتاط ہے کہ وائرل ہونے والے شادی کے مواد میں ان کی محدود یا غیرنمایاں موجودگی نے مداحوں کو سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔
رمشا خان کی ذاتی زندگی گزشتہ چند ماہ سے ویسے بھی مداحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ان کی خوشحال خان کے ساتھ شادی نے پہلے بھی سوشل میڈیا پر خاصی بحث پیدا کی تھی، کیونکہ ان کی شادی اور ذاتی زندگی کے حوالے سے معلومات محدود انداز میں سامنے آئیں۔
اسی پس منظر میں جب علیشا خان کی شادی کی ویڈیوز وائرل ہوئیں اور رمشا خان و خوشحال خان نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیے تو مداحوں کی دلچسپی مزید بڑھ گئی۔
بہت سے لوگوں کے لیے سوال صرف یہ نہیں تھا کہ علیشا خان نے نکاح کے دوران انگریزی میں رضامندی کیوں ظاہر کی، بلکہ یہ بھی تھا کہ کیا رمشا خان شادی میں موجود تھیں اور اگر تھیں تو وہ وائرل ویڈیوز میں کیوں نظر نہیں آئیں؟
