ہیپاٹائٹس 64

وفاق میں ہیپاٹائٹس کی لازمی سکریننگ، پنجاب میں کنٹرول پروگرامز کی بندش

کسی بھی ملک میں صحتِ عامہ کے بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔

 

تاہم، پاکستان میں صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی دو حالیہ خبریں اس ہم آہنگی کے فقدان اور حکومتی پالیسیوں میں ایک انتہائی خطرناک تضاد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

 

ایک طرف وفاق ایک بیماری کو قومی ایمرجنسی قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف سب سے بڑا صوبہ اس کے علاج کا بنیادی ڈھانچہ ہی ختم کر رہا ہے۔

وفاقی حکومت کا ہنگامی اعلان: ہیپاٹائٹس کی لازمی سکریننگ

 

پہلی خبر کے مطابق، وفاقی وزیرِ صحت نے ملک میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

 

وفاقی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر شہری کے لیے ہیپاٹائٹس کی سکریننگ لازمی ہوگی۔ اس مہم کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو سرکاری ملازمین یہ ٹیسٹ کروانے سے انکار کریں گے، ان کی تنخواہیں روکنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ (11 ملین) افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔ حکومت عوام پر زور دے رہی ہے کہ وہ مفت سکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں تاکہ اس خاموش قاتل کو روکا جا سکے۔

پنجاب حکومت کا حیران کن فیصلہ: خصوصی کلینکس کی بندش

 

دوسری جانب، پنجاب حکومت کی جانب سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جو وفاق کی اس مہم کے بالکل برعکس ہے۔ پنجاب میں ایڈز، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی (TB) کے باقاعدہ کنٹرول پروگرامز کو ختم کر دیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں قائم ان بیماریوں کے مخصوص کلینکس بند کر دیے گئے ہیں اور وہاں کام کرنے والے ماہر عملے کو ‘جنرل پول’ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب ان موذی اور متعدی (چھوت کے) امراض میں مبتلا مریضوں کا معائنہ عام مریضوں کے ساتھ جنرل او پی ڈی (OPD) میں کیا جائے گا۔

پالیسیوں میں تضاد: کیا واقعی ہم مسائل حل کرنا چاہتے ہیں؟

 

ان دونوں حکومتی فیصلوں کو اگر ایک ساتھ پرکھا جائے تو چند انتہائی سنگین سوالات اور تضادات جنم لیتے ہیں:

·         نئے تشخیص شدہ مریض کہاں جائیں گے؟

 

وفاقی حکومت کی لازمی سکریننگ کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں نئے ہیپاٹائٹس کے مریض سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔ جب پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے مخصوص کلینکس اور کنٹرول پروگرامز ہی بند کر دیے گئے ہیں، تو سکریننگ سے سامنے آنے والے مریضوں کا علاج کون کرے گا؟ ٹیسٹ کرنے کا کیا فائدہ اگر علاج کی مخصوص سہولیات ہی میسر نہ ہوں؟

·         جنرل او پی ڈی پر بوجھ اور انفیکشن کا خطرہ:

 

ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی جنرل او پی ڈی میں پہلے ہی مریضوں کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ ٹی بی، ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے مریضوں کو عام مریضوں کی قطاروں میں کھڑا کرنے سے نہ صرف او پی ڈی کا نظام درہم برہم ہوگا بلکہ عام مریضوں میں بھی ان متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

·         علاج کی حساسیت سے چشم پوشی:

 

ان تینوں امراض کا علاج عام بخار یا الرجی کی طرح نہیں ہوتا۔ اس کے لیے خصوصی مشاورت (Counseling)، مخصوص ادویات، رازداری اور ماہر ڈاکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک عام او پی ڈی کا ڈاکٹر، جسے روزانہ سینکڑوں مریض دیکھنے ہوتے ہیں، وہ کبھی بھی ان مریضوں کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے سکتا جو ان بیماریوں کے علاج کے لیے درکار ہے۔

پاکستان میں صحت عامہ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال

 

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں صحت عامہ کے حوالے سے کوئی ایک مربوط اور متفقہ قومی پالیسی موجود نہیں ہے۔ ایک جانب ہم ایک بیماری کو ڈھونڈنے کے لیے عوام کی تنخواہیں روکنے تک جانے کو تیار ہیں، اور دوسری جانب ہم ان مریضوں سے علاج کا وہ مؤثر اور مخصوص نظام چھین رہے ہیں جو برسوں کی محنت اور کروڑوں روپے کے فنڈز سے قائم کیا گیا تھا۔

اگر حکومت واقعی ملک سے ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور ایڈز کا خاتمہ چاہتی ہے، تو صرف مریضوں کو تلاش کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے علاج کے لیے ایک مضبوط اور علیحدہ نظام کی موجودگی ناگزیر ہے۔ ان متضاد پالیسیوں پر فوری نظرِ ثانی کی جانی چاہیے تاکہ عوام کی صحت کے ساتھ ہونے والا یہ مذاق بند ہو سکے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں