شہزادی ڈیانا کے بھائی چارلس اسپینسر کی نئی کتاب نے تقریباً تین دہائیوں بعد شاہی خاندان سے جڑی ایک پرانی رات کو دوبارہ خبروں کا مرکز بنا دیا ہے۔
شہزادی ڈیانا کی موت کو تقریباً 29 برس گزر چکے ہیں، مگر 31 اگست 1997 کی وہ رات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
ڈیانا کے بھائی چارلس اسپینسر نے اپنی نئی کتاب Swan Song: Diana, My Sister میں دعویٰ کیا ہے کہ اپنی بہن کی موت کی تصدیق کے بعد جب اس وقت کے پرنس چارلس نے انھیں فون کیا تو ان کی آواز انھیں غیرمعمولی طور پر خوش محسوس ہوئی۔
اسپینسر کے مطابق دوسرے لوگ جو اس رات انھیں فون کر رہے تھے، صدمے اور غم کے باعث بمشکل بات کر پا رہے تھے، لیکن چارلس کا لہجہ اس کے برعکس تھا۔
اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ چارلس انھیں ایسے سنائی دیے جیسے کسی شخص کی ”لاٹری نکل آئی ہو“۔
تاہم اس دعوے میں ایک اہم فرق موجود ہے۔
یہ الفاظ چارلس نے خود نہیں کہے تھے بلکہ یہ چارلس اسپینسر کی جانب سے ان کے لہجے کی تشریح تھی۔ اس فون کال کی کوئی عوامی آڈیو ریکارڈنگ یا تحریری نقل سامنے نہیں آئی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ گفتگو کس انداز میں ہوئی تھی۔
کیا وجہ کمیلا تھیں؟
اسپینسر اپنی کتاب میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ شبہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ممکن ہے چارلس کو یہ محسوس ہوا ہو کہ ڈیانا کی موت کے بعد اب اس خاتون سے شادی کا راستہ کھل سکتا ہے جس سے وہ محبت کرتے تھے، یعنی کمیلا پارکر باؤلز۔
لیکن یہاں بھی فرق اہم ہے۔
اسپینسر نے یہ نہیں لکھا کہ چارلس نے انھیں فون پر ایسا کہا تھا۔ یہ تقریباً تین دہائیوں بعد ان کی اپنی تشریح اور اندازہ ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ چارلس ڈیانا کی موت پر اس لیے خوش تھے کیونکہ اب وہ کمیلا سے شادی کر سکتے تھے، دستیاب شواہد سے ثابت شدہ حقیقت نہیں بلکہ اسپینسر کا دعویٰ ہے۔
آخری رسومات پر بھی تلخ گفتگو کا دعویٰ
کتاب میں ایک اور سنگین دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ اسپینسر کے مطابق ڈیانا کی آخری رسومات کے انتظامات پر ان کی چارلس سے شدید اختلافی گفتگو ہوئی تھی۔
تنازع اس بات پر تھا کہ نوجوان شہزادے ولیم اور ہیری اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے چلیں یا نہیں۔
اسپینسر کا کہنا ہے کہ اسی گفتگو کے دوران چارلس نے مبینہ طور پر کہا:
”فکر نہ کرو، ہم جلد اسے بھول جائیں گے۔“
یہ الزام بھی کسی ریکارڈ شدہ گفتگو سے ثابت نہیں ہوا۔
بکنگھم پیلس نے ان دعوؤں کے جواب میں اسپینسر کی یادداشت اور اس وقت کی ذہنی کیفیت پر سوال اٹھایا ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ شدید غم کئی برس بعد انسان کی یاد اور واقعات کی تشریح کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اسپینسر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور انھوں نے اس واقعے کے فوراً بعد اپنے قریبی لوگوں سے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔
لیکن اسی رات کی دوسری تصویر بھی موجود ہے
چارلس اسپینسر کی روایت کے مقابل ایسے بیانات اور رپورٹس بھی موجود ہیں جو بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
پرنس ہیری نے اپنی یادداشت Spare میں لکھا کہ ان کے والد نے انھیں ڈیانا کی موت کی خبر انتہائی نرم لہجے میں دی تھی اور وہ خود بھی صدمے میں محسوس ہو رہے تھے۔
1997 کی اسی وقت کی اخباری رپورٹس میں بھی چارلس کو پیرس پہنچنے کے بعد سنجیدہ اور غمزدہ حالت میں بیان کیا گیا۔
وہ ڈیانا کی بہنوں کے ساتھ ہسپتال گئے، جہاں ڈیانا کی میت موجود تھی، اور بعد میں ان کی میت کو برطانیہ واپس لانے کے انتظامات میں شریک ہوئے۔
بعد کے برسوں میں بعض شاہی سوانح نگاروں اور سابق محل ملازمین کے حوالے سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا کہ ڈیانا کی موت کی خبر سن کر چارلس شدید جذباتی کیفیت میں تھے۔
تاہم یہ بیانات بھی زیادہ تر بعد میں دی گئی یادداشتوں پر مبنی ہیں۔ یوں تقریباً تین دہائیوں بعد ہمارے سامنے دو مختلف روایات موجود ہیں۔
ایک چارلس اسپینسر کی، جن کے مطابق چارلس کی آواز حیران کن طور پر خوشگوار تھی۔ دوسری ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ چارلس صدمے، دکھ اور شدید جذباتی کیفیت میں تھے۔
شہزادی ڈیانا کی موت کی تحقیقات کیا کہتی ہیں؟
چارلس اسپینسر کے تازہ دعوے کو شہزادی ڈیانا کی موت کے بارے میں پرانی سازشی تھیوریز سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
برطانیہ میں ہونے والی طویل اور تفصیلی تحقیقات میں ایسا قابل اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ شاہی خاندان نے ڈیانا کی موت کی منصوبہ بندی کی تھی۔
2008 میں ہونے والے انکوئسٹ میں جیوری نے قرار دیا تھا کہ ڈیانا اور ڈوڈی الفائد کی موت میں گاڑی کے ڈرائیور ہنری پال کی انتہائی لاپرواہ ڈرائیونگ اور تعاقب کرنے والے پاپارازی کی گاڑیوں کا کردار تھا۔
یعنی اسپینسر کی نئی کتاب کا تنازع ڈیانا کی موت کی وجہ نہیں بلکہ اس خبر پر چارلس کے مبینہ ردعمل کے بارے میں ہے۔
سوال اب بھی باقی ہے
چارلس اسپینسر کے الزامات اس لیے اہم ہیں کیونکہ وہ ڈیانا کے سگے بھائی ہیں اور اس رات ہونے والی نجی گفتگو کے براہ راست فریق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
لیکن صحافتی اعتبار سے ایک ذاتی یادداشت اور ثابت شدہ واقعے میں فرق برقرار رہتا ہے۔
کوئی آڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں، نہ کوئی مکمل فون ٹرانسکرپٹ سامنے آیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا آزاد عینی گواہ موجود ہے جس نے دونوں جانب سے ہونے والی اس گفتگو کو سنا ہو۔
اسی لیے فی الحال سب سے محتاط نتیجہ یہی ہے:
چارلس اسپینسر نے یہ دعویٰ ضرور کیا ہے کہ شہزادی ڈیانا کی موت کی خبر کے بعد چارلس انھیں غیرمعمولی طور پر خوش سنائی دیے، لیکن یہ بات آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ چارلس واقعی اپنی سابق اہلیہ کی موت پر خوش تھے۔
تقریباً تین دہائیوں بعد سامنے آنے والی یہ کتاب شاید شاہی خاندان کے بارے میں کئی پرانی بحثوں کو دوبارہ زندہ کر دے، مگر تاریخ اور یادداشت کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کرنا اب بھی آسان نہیں۔
