فوجی بھرتی 28

پنجاب کے سکولوں کی نگرانی سابق فوجیوں کے حوالے

پنجاب میں تعلیم کا نظام شاید اب کتاب، قلم اور استاد سے کچھ آگے بڑھنے جا رہا ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اپنے پارٹنر سکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے 26 افسران بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں 21 نشستیں سابق فوجی اہلکاروں کے لیے مختص ہیں۔

یعنی اگر اعدادوشمار کو زبان دے دی جائے تو شاید وہ یہی کہیں گے: "کلاس روم سویلین ہوگا، مگر نگرانی فوجی تجربے والی!”

یہ واضح رہے کہ پورے پنجاب کا تعلیمی نظام فوج کے حوالے نہیں کیا جا رہا، بلکہ معاملہ PEF کے پارٹنر سکولوں کی مانیٹرنگ کا ہے۔ لیکن جب 26 میں سے 21 پوسٹیں ایک ہی پیشہ ورانہ پس منظر کے لیے مختص ہوں تو سوال بھی پیدا ہوتے ہیں اور طنز بھی۔

 

تعلیم میں مسئلہ تھا یا ڈسپلن کی کمی؟

 

پاکستان میں تقریباً ہر مسئلے کا ایک مقبول حل ہے: ڈسپلن بڑھا دیں۔

اب شاید تعلیمی نظام کے لیے بھی یہی نسخہ آزمایا جا رہا ہے۔

اساتذہ کی حاضری دیکھنی ہو، بچوں کی کارکردگی چیک کرنی ہو، کتابوں کی تقسیم کی نگرانی کرنی ہو، سکول کی فزیکل ویریفکیشن ہو یا شکایت کی انکوائری—ان تمام کاموں کے لیے بڑی تعداد میں ایسے افراد منتخب کیے جائیں گے جن کا بنیادی پیشہ ورانہ تجربہ تعلیم کے بجائے فوجی نظم و ضبط سے متعلق رہا ہے۔

ممکن ہے مستقبل کی سکول اسمبلی کچھ یوں ہو:

"تمام طلبہ اپنی پوزیشن سنبھالیں،  ہوم ورک رپورٹ کریں، اور جس کی کاپی نامکمل ہے وہ وضاحت کے لیے تیار رہے!”

سویلین کے لیے 16 سالہ تعلیم، سابق فوجی کے لیے 14 سال کافی؟

 

اس بھرتی کا ایک دلچسپ پہلو تعلیمی قابلیت بھی ہے۔

سویلین امیدوار کے لیے کم از کم 16 سالہ تعلیم کی شرط رکھی گئی ہے، جبکہ سابق فوجی امیدوار کے لیے 14 سالہ گریجویشن بھی قابل قبول ہے۔

یعنی ایک نوجوان جو یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئے، اسے تعلیمی قابلیت کے زیادہ مراحل عبور کرنا ہوں گے، جبکہ سابق فوجی امیدوار کے لیے سروس اور عملی تجربے کو اضافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ سابق فوجی اہلکار قابل ہیں یا نہیں۔ یقیناً بہت سے ریٹائرڈ فوجی انتہائی ذمہ دار، منظم اور باصلاحیت افراد ہوتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ: تعلیمی مانیٹرنگ میں اتنی بڑی ترجیح صرف ایک مخصوص پیشہ ورانہ طبقے کو کیوں؟

 

کیا پنجاب میں ایجوکیشن کے ماہرین کم پڑ گئے؟

 

پنجاب میں ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے Education، Educational Leadership، Management، Social Sciences، Public Administration اور دیگر متعلقہ شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

اساتذہ کا تجربہ رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ سکول ایڈمنسٹریشن کے ماہرین بھی موجود ہیں۔ تعلیمی تحقیق کرنے والے گریجویٹس بھی موجود ہیں۔

پھر سوال بنتا ہے: اگر کام سکولوں کی مانیٹرنگ ہے تو 26 میں سے 21 نشستوں پر سابق فوجیوں کو ترجیح دینے کی تعلیمی منطق کیا ہے؟

 

ہر مسئلے کا حل "کمانڈ اینڈ کنٹرول”؟

 

پاکستان کے ادارہ جاتی نظام میں ایک عجیب روایت بنتی جا رہی ہے۔ ادارہ صحیح نہ چلے تو نگرانی سخت کر دو۔ انتظامیہ کمزور ہو تو مزید کنٹرول لگا دو۔ ڈسپلن نہ ہو تو کسی "سخت ہاتھ” کی تلاش شروع کر دو۔

اور اب شاید یہی سوچ تعلیم تک بھی پہنچ گئی ہے۔ اس رفتار سے مستقبل میں کسی سرکاری اشتہار میں یہ شرط بھی نظر آسکتی ہے: "پرائمری سکول ہیڈ ماسٹر مطلوب—ترجیح ایسے امیدوار کو جو پوری اسمبلی کو تین منٹ میں سیدھا کھڑا کرسکے۔”

تعلیم بیرک نہیں، ایک مختلف مہارت کا شعبہ ہے

 

سکول صرف عمارت، حاضری رجسٹر اور قواعد کا نام نہیں۔

تعلیم میں بچوں کی نفسیات، تدریسی معیار، استاد کی تربیت، تعلیمی ماحول، والدین کی شمولیت اور learning outcomes جیسے معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔

اس لیے مانیٹرنگ کا نظام صرف یہ دیکھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے کہ استاد وقت پر آیا یا نہیں۔ اصل سوال ہونا چاہیے: بچہ سیکھ کیا رہا ہے؟

اور اس سوال کا جواب صرف ڈسپلن نہیں، بلکہ تعلیمی مہارت بھی مانگتا ہے۔

سابق فوجیوں پر اعتراض نہیں، پالیسی پر سوال ضرور

 

اس معاملے کو سابق فوجی اہلکاروں کے خلاف بحث بنانا درست نہیں ہوگا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ملازمت کے مواقع ملنے چاہئیں، اور اگر کوئی امیدوار اہلیت، تجربے اور میرٹ پر پورا اترتا ہے تو اسے ضرور منتخب کیا جانا چاہیے۔

لیکن جب کسی تعلیمی مانیٹرنگ ادارے کی 26 میں سے 21 نشستیں پہلے سے سابق فوجیوں کے لیے مختص ہوں تو پالیسی سازوں سے یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ:یہ تناسب کس بنیاد پر طے کیا گیا؟

کیا کوئی تحقیق موجود ہے کہ سابق فوجی تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ میں دیگر امیدواروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں؟ اگر ہے تو عوام کو بتایا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں