خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی بحث کے درمیان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت سے منسوب ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے کا انتظام چند افراد پر مشتمل ایک کونسل کے ذریعے چلانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ روزنامہ پاکستان کے شیئر کردہ گرافک کے مطابق، مروت نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض افراد اپنے بچوں کو اس مجوزہ کونسل میں شامل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے تعلقات میں کشیدگی، پی ٹی آئی کے احتجاج اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر سیاسی بحث جاری ہے۔ تاہم، مجوزہ کونسل کی تشکیل، اس کے ارکان یا اختیارات کی سرکاری تصدیق دستیاب تحقیق میں سامنے نہیں آئی۔
شیر افضل مروت نے کیا دعویٰ کیا؟
فراہم کردہ نیوز گرافک میں شیر افضل مروت سے منسوب بیان کے مطابق، انہوں نے وفاقی حکومت کی ایک نہایت طاقتور شخصیت سے ملاقات کی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں چند افراد پر مشتمل کونسل بنائی جائے گی جو صوبے کا انتظام چلائے گی۔
گرافک میں ان سے یہ الزام بھی منسوب کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنی اولاد کو اس کونسل میں جگہ دلانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ البتہ اس میں ملاقات کرنے والی شخصیت، ممکنہ ارکان اور مبینہ سفارش کرنے والوں کے نام نہیں دیے گئے۔ بیان میں استعمال ہونے والا لفظ ’’کل‘‘ بھی کسی واضح تاریخ سے منسلک نہیں، اس لیے ملاقات کا دن قطعی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا۔
اسی نوعیت کا دعویٰ صحافی فرزانہ علی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے سرچ نتیجے میں بھی سامنے آیا، لیکن اصل مکمل انٹرویو یا سرکاری دستاویز تک رسائی نہ ہونے کے باعث اسے مروت سے منسوب دعوے کے طور پر ہی بیان کرنا درست ہے۔
صوبے میں سیاسی تبدیلی کی بحث کیوں شدت اختیار کر رہی ہے؟
خیبرپختونخوا میں ممکنہ انتظامی تبدیلی کی گفتگو صرف اس بیان تک محدود نہیں۔ 28 ستمبر کی اے آر وائی نیوز رپورٹ میں شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف پارٹی کے اندر اختلافات اور ممکنہ عدم اعتماد کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ انہوں نے عمران خان کی طرف سے وزیراعلیٰ کو عہدہ چھوڑنے کا پیغام دیے جانے کی بات کی، تاہم رپورٹ میں یہ معلومات مروت کے بیان کی بنیاد پر پیش کی گئی تھیں۔ انہیں پارٹی کا باضابطہ فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
دوسری جانب، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کے سامنے مؤقف بدلنے سے انکار کیا۔ 28 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے نظریے پر سمجھوتا کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ ہاؤس چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ اسی رپورٹ میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے مخصوص حالات میں آئینی اختیارات استعمال کرنے کے امکان کا ذکر کیا۔
ان بیانات سے سیاسی کشیدگی واضح ہوتی ہے، لیکن کسی ممکنہ اقدام پر گفتگو اور اس کے عملی نفاذ میں فرق برقرار ہے۔
وفاقی حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 30 ستمبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی گفتگو کو قبل از وقت قرار دیا تھا۔ اردوپوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں پر تبصرے کے بجائے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے صوبائی حکومت کی امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سخت تنقید کی۔
یہ مؤقف اس لیے اہم ہے کہ مروت سے منسوب بیان ایک ممکنہ کونسل کی بات کرتا ہے، جبکہ مذکورہ حکومتی بیان کسی حتمی انتظامی فیصلے کا اعلان نہیں کرتا۔ اس مرحلے پر یہ لکھنا کہ وفاق نے خیبرپختونخوا کو کونسل کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے، دستیاب شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔
مروت خود بھی ایمرجنسی کے خلاف مؤقف دے چکے ہیں
اس معاملے کا ایک قابلِ توجہ پہلو شیر افضل مروت کا اپنا حالیہ مؤقف ہے۔ 29 ستمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے منتخب حکومت کو ایمرجنسی کے ذریعے گھر بھیجنے کی مخالفت کی اور اسے غیرآئینی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا اقدام پی ٹی آئی کو سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ انہوں نے وفاق کو احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال پر احتیاط سے ردعمل دینے کا مشورہ بھی دیا۔
اس تناظر میں کونسل سے متعلق ان کا دعویٰ کسی مبینہ منصوبے کی اطلاع سمجھا جا سکتا ہے؛ اسے اس منصوبے کی ان کی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مجوزہ کونسل پر کون سے سوالات اٹھتے ہیں؟
اگر صوبے کا انتظام کسی کونسل کو دینے کی تجویز واقعی زیرِ غور ہے تو سب سے پہلے اس کی قانونی بنیاد، اختیارات اور جواب دہی واضح کرنا ضروری ہوگا۔ کیا یہ صرف مشاورتی ادارہ ہوگا، یا منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات بھی استعمال کرے گا؟ اس کے ارکان کون مقرر کرے گا اور ان کے فیصلوں کی نگرانی کون کرے گا؟
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق مخصوص طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ اس میں صدر کی جانب سے صوبائی حکومت کے بعض اختیارات سنبھالنے یا گورنر کو سونپنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، مروت سے منسوب گرافک میں یہ واضح نہیں کہ مبینہ کونسل کس آئینی یا قانونی انتظام کے تحت بنے گی۔ اس لیے اسے خودبخود گورنر راج کے مساوی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بااثر افراد کی اولاد کی شمولیت کا الزام کیوں اہم ہے؟
مروت سے منسوب بیان کا سیاسی طور پر حساس حصہ مبینہ اقرباپروری کا الزام ہے۔ اگر کسی انتظامی ادارے میں تقرریاں اہلیت کے بجائے خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پر ہوں تو میرٹ، عوامی نمائندگی اور جواب دہی پر سوال اٹھیں گے۔
لیکن موجودہ مواد میں کسی شخص، اس کی اولاد یا تقرری کی کوشش کا قابلِ جانچ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اس الزام کی بنیاد پر مخصوص سیاسی خاندانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ دعوے کو مضبوط کرنے کے لیے نام، دستاویزات یا متعلقہ فریقوں کے واضح بیانات درکار ہوں گے۔
فیصلہ ہو چکا ہے یا صرف دعویٰ سامنے آیا ہے؟
یکم اکتوبر 2026 تک اس تحقیق میں سامنے آنے والے مواد کی بنیاد پر خبر کا مرکزی نکتہ شیر افضل مروت سے منسوب کونسل کی تشکیل کا دعویٰ ہے۔ خیبرپختونخوا میں سیاسی اور انتظامی تبدیلی کے امکانات پر بحث ضرور جاری ہے، مگر اس مخصوص کونسل کی تشکیل کا تصدیق شدہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ مروت اپنے بیان کی مزید تفصیلات یا شواہد پیش کرتے ہیں یا نہیں، اور وفاقی حکومت اس مخصوص دعوے پر کیا جواب دیتی ہے۔ انہی معلومات سے واضح ہوگا کہ یہ کسی حقیقی تجویز کی اطلاع ہے یا جاری سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آنے والا ایک غیرمصدقہ دعویٰ۔
