ٹیکس ریٹرن فائل کا وقت آتے ہی بہت سے لوگ کسی ایجنٹ یا اکاؤنٹنٹ کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم، اپنی آمدن اور مالی ریکارڈ کو سمجھنے والا فرد FBR کے آن لائن نظام IRIS کے ذریعے خود بھی ریٹرن جمع کرا سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ ریٹرن فائل کرنے والوں کو پہلے رجسٹریشن کرانا ہوتی ہے، جبکہ پہلے سے رجسٹرڈ افراد اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کرکے کام شروع کر سکتے ہیں۔
یہ رہنمائی بنیادی طور پر عام انفرادی ٹیکس دہندگان، خصوصاً تنخواہ دار افراد، کے لیے ہے۔ کاروبار، غیر ملکی آمدن یا جائیداد کی فروخت جیسے معاملات میں درست ٹیکس طریقہ سمجھنا بھی ضروری ہے؛ صرف فارم بھر دینا کافی نہیں۔
پہلے سمجھیں: ریٹرن کیا ہے؟
ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں آپ متعلقہ سال کی آمدن، اس پر بننے والا ٹیکس اور پہلے سے کٹنے یا ادا ہونے والے ٹیکس کی تفصیل دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اثاثوں، واجبات اور اخراجات کا حساب درج کیا جاتا ہے۔ FBR کی عمومی آن لائن رہنمائی کے مطابق ریٹرن مکمل کرنے کے لیے ان دونوں حصوں کی تکمیل ضروری ہے۔
ملازمت دینے والا ادارہ تنخواہ سے ٹیکس کاٹ رہا ہو، تب بھی اپنی سالانہ آمدن اور کٹوتی کا درست ریکارڈ تیار رکھیں۔ ٹیکس کٹنے کی رسید اور ریٹرن جمع ہونے کی تصدیق الگ چیزیں ہیں۔
1۔ درست ٹیکس سال کا ریکارڈ جمع کریں
پاکستان کا عمومی ٹیکس سال یکم جولائی سے 30 جون تک ہوتا ہے۔ اس حساب سے ٹیکس سال 2026 کے لیے یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 کی آمدن اور مالی معلومات استعمال ہوں گی۔ جن افراد پر خصوصی ٹیکس سال لاگو ہوتا ہے، ان کی مدت مختلف ہو سکتی ہے۔
پورٹل کھولنے سے پہلے یہ ریکارڈ ایک جگہ جمع کرلیں:
شناختی کارڈ، اپنے استعمال میں موجود موبائل نمبر اور ذاتی ای میل۔
پورے سال کا سیلری اور ٹیکس کٹوتی سرٹیفکیٹ۔
تمام بینک اکاؤنٹس کی سالانہ اسٹیٹمنٹس اور 30 جون کے بیلنس۔
بینک منافع، کرایہ، فری لانسنگ یا دوسری آمدن کی تفصیلات۔
مکان، پلاٹ، گاڑی، سرمایہ کاری اور دوسرے اثاثوں کی دستاویزات۔
قرضوں اور دوسرے واجبات کی تفصیلات۔
گھر، تعلیم، علاج، سفر اور دیگر ذاتی اخراجات کا حساب۔
گزشتہ سال کی ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ، اگر پہلے فائل کی تھی۔
اپنی سہولت کے لیے ایک الگ کاغذ پر سالانہ آمدن، ٹیکس کٹوتی، اخراجات اور اختتامی اثاثوں کے مجموعے لکھ لیں۔ اس سے مختلف خانوں میں رقم درج کرتے وقت غلطی کا امکان کم ہوگا۔
2۔ اپنا IRIS اکاؤنٹ بنائیں یا بازیافت کریں
سرکاری پورٹل iris.fbr.gov.pk کھولیں۔ نئے صارف رجسٹریشن کے آپشن سے شروع کریں اور شناختی کارڈ کے مطابق معلومات درج کریں۔ FBR انفرادی آن لائن رجسٹریشن کے لیے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم، ذاتی ای میل اور اپنے نام کے بینک اکاؤنٹ کا سرٹیفکیٹ رکھنے کی ہدایت دیتا ہے۔ کاروبار کی صورت میں کاروباری جگہ اور متعلقہ یوٹیلٹی بل کی دستاویزات بھی درکار ہو سکتی ہیں۔
اگر اکاؤنٹ پہلے سے بنا ہوا ہے تو نیا بنانے کی کوشش کے بجائے لاگ اِن کریں۔ پاس ورڈ بھول جانے پر Forgot Password / Account Recovery استعمال کریں؛ FBR کی رہنمائی کے مطابق بازیافت کے کوڈ رجسٹرڈ موبائل اور ای میل پر بھیجے جاتے ہیں۔
اپنے اکاؤنٹ میں ذاتی موبائل اور ای میل رکھنا آئندہ خود کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ پاس ورڈ، تصدیقی کوڈ اور جمع کرانے کا PIN محفوظ رکھیں۔
3۔ متعلقہ سال اور مناسب ریٹرن منتخب کریں
لاگ اِن کے بعد ریٹرن یا ڈیکلریشن کے متعلقہ حصے میں جائیں، اصل سالانہ ریٹرن کھولیں اور Tax Year 2026 منتخب کریں۔ فارم کا عنوان اور سال دیکھ کر آگے بڑھیں؛ پورٹل میں مختلف سالوں کے فارم موجود ہو سکتے ہیں۔
FBR کی رہنمائی میں تنخواہ دار افراد کے لیے 114(I) فارم بیان کیا گیا ہے، جسے تنخواہ اور دیگر ذرائع سے آمدن رکھنے والے وہ افراد استعمال کر سکتے ہیں جن کی مجموعی آمدن میں تنخواہ کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو۔ اپنے منتخب ٹیکس سال کے دستیاب فارم اور اس کی اہلیت بھی ضرور دیکھیں۔
پورٹل کے بٹن یا مینو مختلف نظر آئیں تو FBR کی سرکاری ہیلپ اور صارف رہنمائی سے متعلقہ ہدایات کھولیں۔ یہاں ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے تحریری اور ویڈیو گائیڈ موجود ہیں۔
4۔ آمدن درج کرتے وقت بینک بیلنس کو آمدن نہ سمجھیں
تنخواہ دار فرد اپنے ادارے کے سالانہ سرٹیفکیٹ سے متعلقہ آمدن اور کٹوتی درج کرے۔ صرف اکاؤنٹ میں آنے والی ماہانہ رقم کو مجموعی تنخواہ سمجھ لینا غلطی کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ٹیکس یا دوسری کٹوتیاں ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ہر بینک کریڈٹ لازماً نئی آمدن نہیں ہوتا۔ اپنے ایک اکاؤنٹ سے دوسرے میں منتقل ہونے والی رقم کو دوبارہ آمدن شمار کرنے سے حساب بڑھ سکتا ہے۔ قرض، تحفے اور دوسری وصولیوں کی نوعیت الگ سمجھیں اور ان کا ثبوت رکھیں۔
کرایہ، کاروبار، بینک منافع یا فری لانسنگ کی آمدن ہو تو اسے مناسب خانے میں درج کریں۔ کاروباری وصولیوں اور قابلِ ٹیکس منافع کو ایک ہی رقم سمجھ کر فارم نہ بھریں۔ ان مراحل کے لیے متعلقہ ٹیکس سال کی سرکاری ریٹرن گائیڈ دیکھنا مفید ہے۔
5۔ پہلے سے کٹا ہوا ٹیکس احتیاط سے درج کریں
سیلری سرٹیفکیٹ، بینک کے ٹیکس سرٹیفکیٹ اور دوسری رسیدوں کو سامنے رکھ کر ٹیکس کٹوتی درج کریں۔ اگر پورٹل کوئی معلومات پہلے سے دکھا رہا ہو تو اسے اپنے ریکارڈ سے ملائیں۔
ہر کٹوتی کو خودکار طور پر قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہ سمجھیں۔ مختلف آمدنیوں اور ادائیگیوں پر ٹیکس کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے؛ متعلقہ خانے کی ہدایات پڑھ کر رقم درج کریں۔ ایک ہی کٹوتی دو مرتبہ درج کرنے سے بھی نتیجہ غلط ہو سکتا ہے۔ FBR کی سرکاری ریٹرن گائیڈ میں آمدن اور ٹیکس کے متعلقہ حصوں کی رہنمائی دی گئی ہے۔
6۔ ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اثاثے اور واجبات لکھیں
متعلقہ سال کے اختتام، یعنی عام ٹیکس سال کے لیے 30 جون، پر اپنے اثاثوں اور واجبات کا حساب تیار کریں۔ بینک میں موجود رقم، نقدی، جائیداد، گاڑی، سرمایہ کاری اور قرض جیسے متعلقہ اندراجات اصل ریکارڈ کے مطابق کریں۔
جہاں فارم Value at Cost مانگے، وہاں محض آج کی اندازاً مارکیٹ قیمت نہ لکھیں۔ FBR کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ ہدایات میں اثاثوں کو لاگت، بشمول متعلقہ حصولی اخراجات، پر ظاہر کرنے کا اصول دیا گیا ہے۔ وراثت یا تحفے جیسے خصوصی معاملات میں متعلقہ ہدایت دیکھیں۔
پہلی مرتبہ ریٹرن فائل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے پہلے آپ کے کوئی اثاثے نہیں تھے۔ سابقہ اثاثوں اور بچت کے لیے دستاویزات اور حقیقی مالی تاریخ سامنے رکھیں۔
7۔ آمدن، اخراجات اور بچت کا حساب ملائیں
ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی Reconciliation میں دیکھا جاتا ہے کہ اثاثوں میں اضافہ یا کمی آپ کی آمدن اور اخراجات سے کیسے مطابقت رکھتی ہے۔ FBR کے مطابق حساب نہ ملنے پر ویلتھ اسٹیٹمنٹ کامیابی سے جمع نہیں ہوتی۔
ایک فرضی مثال لیں: اگر سال کے آغاز پر خالص اثاثے 5 لاکھ روپے تھے، سال بھر کی تمام متعلقہ وصولیاں 12 لاکھ اور مجموعی اخراجات و دیگر ادائیگیاں 9 لاکھ تھیں، تو سادہ حساب میں اختتامی خالص اثاثے 8 لاکھ بنتے ہیں۔ یہ مثال فرض کرتی ہے کہ کوئی دوسری وصولی، ادائیگی یا اثاثوں میں الگ تبدیلی نہیں ہوئی۔
اگر آپ کے اعداد نہیں مل رہے تو پہلے اصل وجہ تلاش کریں: کوئی بینک اکاؤنٹ رہ تو نہیں گیا، اخراجات نامکمل تو نہیں، یا قرض اور دوسری وصولیاں غلط جگہ تو نہیں درج ہوئیں؟ صرف فرق ختم کرنے کے لیے فرضی تحفہ یا غیر حقیقی اخراجات نہ لکھیں۔
8۔ واجب الادا ٹیکس ہو تو ادائیگی کریں
ریٹرن کا حساب مکمل ہونے پر اگر مزید ٹیکس واجب الادا ہو تو IRIS کے ePayment حصے سے متعلقہ ادائیگی بنائیں۔ ٹیکس کی قسم، شناختی معلومات، سال اور رقم چیک کرکے PSID حاصل کریں۔
FBR کے ePayment 2.0 نظام کے ذریعے PSID کی ادائیگی موبائل بینکنگ، انٹرنیٹ بینکنگ یا دوسرے معاون بینکاری ذرائع سے کی جا سکتی ہے۔ کامیاب ادائیگی کی سرکاری رسید CPR کہلاتی ہے، جسے محفوظ کریں اور پورٹل پر ادائیگی کی تصدیق دیکھیں۔ PSID بن جانا، ادائیگی مکمل ہونے کا ثبوت نہیں۔
9۔ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے سے پہلے آخری جائزہ لیں
ایک مرتبہ پوری ریٹرن دوبارہ پڑھیں۔ خصوصاً ٹیکس سال، سالانہ آمدن، ٹیکس کٹوتیوں، بینک بیلنس، اثاثوں، واجبات اور اخراجات کو اصل ریکارڈ سے ملائیں۔ پورٹل کوئی غلطی یا نامکمل اندراج دکھائے تو اسے درست کریں۔
فارم محفوظ کرنے کے بعد باقاعدہ Submit کا مرحلہ مکمل کریں۔ FBR کے مطابق کامیاب جمع آوری کی تصدیق یہ ہے کہ ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ دونوں Draft سے Completed Task میں منتقل ہو جائیں۔ صرف ڈرافٹ محفوظ کرکے پورٹل بند نہ کریں۔
10۔ رسیدیں محفوظ کریں اور فائلر اسٹیٹس دیکھیں
جمع شدہ ریٹرن، ویلتھ اسٹیٹمنٹ، تصدیقی ریکارڈ اور CPR کی نقول ڈاؤن لوڈ کرکے محفوظ رکھیں۔ FBR کی ہدایت کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والوں کو ریٹرن کا ریکارڈ چھ سال رکھنا ہوتا ہے۔
اس کے بعد سرکاری پورٹل کے Active Taxpayer List — Income Tax تصدیقی آپشن سے اپنا اسٹیٹس چیک کریں۔ رجسٹریشن ہونے اور فعال ٹیکس دہندہ فہرست میں موجود ہونے کی تصدیق الگ الگ کریں۔
خود ریٹرن فائل کرنے کی بنیاد اپنے مالی ریکارڈ پر گرفت ہے۔ جہاں مسئلہ پورٹل استعمال کرنے کا ہو، وہاں FBR کی سرکاری گائیڈ مدد دے سکتی ہے۔ جہاں معاملہ آمدن کی قانونی درجہ بندی، غیر ملکی اثاثوں، کاروباری حساب یا پرانے غلط اندراجات کا ہو، وہاں مخصوص سوال پر مستند مشورہ لینا بہتر ہے۔ تکنیکی مدد کے لیے IRIS پر درج FBR ہیلپ لائن 051-111-772-772 اور helpline@fbr.gov.pk بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
