نشانِ قائد 39

حکومتِ پاکستان بھارت کے دو مرے ہوئے ڈاکٹروں کو نشانِ قائد کیوں دینے جا رہی ہے؟

قیامِ پاکستان کی تاریخ ان گنت قربانیوں اور بے مثال حکمتِ عملیوں سے عبارت ہے، لیکن ان سب کے درمیان ایک ایسا خاموش راز بھی پوشیدہ تھا جس نے برصغیر کی تقسیم اور ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کو ممکن بنایا۔

 

یہ راز بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی جان لیوا بیماری تھی، جسے اگر وقت سے پہلے ظاہر کر دیا جاتا تو شاید آج تاریخ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

 

تشویش ناک تشخیص اور جینے کی مہلت

 

جون 1946 میں بمبئی کے دو نامور پارسی معالجین، فزیشن ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو نے قائدِ اعظم کے پھیپھڑوں کا ایکسرے کیا تو ایک ہولناک حقیقت سامنے آئی۔ تپِ دق (ٹی بی) ان کے پھیپھڑوں کو تیزی سے ختم کر رہی تھی۔

ڈاکٹر پٹیل نے قائدِ اعظم کو انتہائی واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ ان کی جسمانی قوت جواب دے رہی ہے۔ اگر انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیات ترک کر کے مکمل آرام نہ کیا، تو ان کے پاس جینے کے لیے بمشکل ایک یا دو برس ہی باقی ہیں۔ اس لرزہ خیز خبر کے باوجود، قائد کے زرد چہرے پر خوف یا گھبراہٹ کی کوئی لکیر نہ ابھری، اور انہوں نے سینیٹوریم کے بستر پر لیٹ کر اپنی جدوجہد ترک کرنے سے دوٹوک انکار کر دیا۔

ایک خاموش معاہدہ اور غیر معمولی عزم

 

قائدِ اعظم کی دور اندیش نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ اگر ان کے سیاسی مخالفین یا برطانوی حکام کو ان کی اس گرتی ہوئی صحت کا علم ہو گیا، تو وہ پاکستان کے مطالبے پر سنجیدگی دکھانے کے بجائے محض ان کی موت کا انتظار کریں گے، اور یوں مسلمانوں کی آزادی کا خواب ہمیشہ کے لیے بکھر جائے گا۔

چنانچہ قائد کے اصرار پر، دونوں ڈاکٹروں نے پیشہ ورانہ دیانت اور رازداری کا بے مثال ثبوت دیتے ہوئے اس راز کو اپنے سینوں میں دفن کر لیا۔ یہ فیصلہ قائدِ اعظم کو وہ قیمتی مہلت دینے کا سبب بنا جو تاریخ کا دھارا موڑنے کے لیے درکار تھی۔

 

تھکن اور بیماری کے باوجود انتھک جدوجہد

 

آزادی کے قریب آتے آتے قائدِ اعظم کی صحت بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔ مصنف ہیکٹر بولیتھو اور مشہور کتاب ‘فریڈم ایٹ مڈنائٹ’ کے مطابق، جناح صرف ڈاکٹروں کی جانب سے لگائے جانے والے انجیکشنز کے سہارے توانائی حاصل کر کے اپنے مشن میں جُتے رہے۔

ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی کڑی نگرانی اور فکر مندی کے باوجود، جناح نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کے حصول کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد جب ان کے دیرینہ دوست جمشید نسروانجی نے انہیں تھکے ہارے روپ میں دیکھا تو جناح کے لبوں پر صرف ایک ہی جملہ تھا: "میں بہت تھک گیا ہوں، جمشید، بہت تھک گیا ہوں۔”

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی حیرت اور برطانوی انٹیلی جنس کی ناکامی

 

اس راز کو اس قدر احتیاط سے چھپایا گیا تھا کہ برطانوی انٹیلی جنس سروس تک اس کی بھنک نہ پا سکی۔ برسوں بعد جب مصنفین لیری کولنز اور ڈومینک لیپیئر نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے اس راز سے پردہ اٹھایا تو وہ دنگ رہ گئے۔ ماؤنٹ بیٹن نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ اگر انہیں اپریل 1947 میں جناح کی بیماری کی سنگینی کا علم ہوتا، تو وہ آزادی کے عمل کو چند ماہ کے لیے مؤخر کر دیتے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ پاکستان کبھی وجود میں ہی نہ آتا۔

79 برس بعد قومی اعتراف اور نشانِ قائد

 

آزادی کا تحفہ اپنی قوم کے حوالے کرنے کے محض ایک سال بعد، 11 ستمبر 1948 کو بانیِ پاکستان اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

آج، قیامِ پاکستان کے 79 برس بعد، حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈیبو کی اس خاموش مگر تاریخ ساز پیشہ ورانہ دیانت کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا ہے۔ ان حالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے پر، جنھوں نے پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا، دونوں معالجین کو ملک کے اعلیٰ ترین سِول اعزاز ‘نشانِ قائدِ اعظم’ سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو انہیں آئندہ سال 23 مارچ کو ایک باقاعدہ تقریب میں عطا کیا جائے گا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں