پاکستان کی سیاست بھی عجیب رنگ دکھاتی ہے۔ کبھی اقتدار کے ایوانوں میں واپسی کے خواب سجائے جاتے ہیں، کبھی انتخابی میدان میں نئے معرکوں کی تیاری ہوتی ہے، مگر قسمت کے فیصلے بعض اوقات ایسے راستے کھول دیتے ہیں جہاں منزل کچھ اور نکلتی ہے۔
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، جن کے بارے میں سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ آزاد کشمیر کی سیاست میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے اور وزارت عظمیٰ کے منصب کے خواہاں ہیں، اب ایک نئے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں۔ انہیں لاہور کے تاریخی ورثے کی بحالی کے بورڈ کی سربراہی دے دی گئی ہے۔
نواز شریف تاریخی ورثہ بن گئے
یعنی جس سیاست دان کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ وہ دوبارہ اقتدار کے بڑے منصب کی طرف بڑھیں گے، اب انہیں شہر کے ماضی کو سنبھالنے کی ذمہ داری مل گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سیاست نے ایک نیا فارمولا متعارف کرا دیا ہے:
"اگر مستقبل کی حکومت نہ ملے تو ماضی کے ورثے کی حفاظت سونپ دی جائے۔”
لاہور واقعی ایک تاریخی شہر ہے۔ مغل دور کے قلعے، بادشاہی مسجد، پرانے بازار اور گلیاں اس شہر کی پہچان ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تاریخی عمارتوں کی بحالی کے لیے صرف عہدے کافی ہیں یا ماہرین، شفاف منصوبہ بندی اور عملی اقدامات بھی ضروری ہوں گے؟
سیاسی مخالفین اس تقرری کو اپنے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شخصیت کبھی ملک کے سیاسی مستقبل کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی، اسے اب اینٹوں، دروازوں اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "سیاست کے پرانے کھلاڑی اب تاریخ کے محافظ بن گئے ہیں۔”
دوسری جانب حامیوں کا مؤقف ہے کہ نواز شریف کا انتظامی تجربہ اور ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لاہور کے تاریخی ورثے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
میاں محمد نواز شریف اب پاکستان کا ماضی سنبھالیں گے
باکستان کی سیاست میں یہ ایک دلچسپ منظر ضرور ہے کہ ایک ایسا رہنما جس کا نام ہمیشہ وزیراعظم ہاؤس کے ساتھ جوڑا جاتا رہا، اب لاہور کی تاریخی گلیوں، عمارتوں اور ثقافتی شناخت کی بحالی کے منصوبے کے ساتھ جڑ گیا ہے۔
شاید تاریخ بھی کبھی کبھی سیاست دانوں کے لیے عجیب فیصلے لکھتی ہے۔ کسی کو اقتدار کے تخت کی تلاش ہوتی ہے، اور ہاتھ میں آ جاتا ہے” تاریخ کا تخت۔”
