درخت کاٹ کر مجرم پکڑنے کا فن 26

درخت کاٹ کر مجرم پکڑنے کا فن

ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوٹ چھٹہ کی یہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرتی اور ریاستی نظام کا ایک ایسا نوحہ ہے جسے سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔

ایک اشتہاری (کلیم ڈمرا) جو 26 سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھا، گرفتاری سے بچنے کے لیے 60 فٹ اونچے کھجور کے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ وہ وہاں سے طنزیہ انداز میں ‘لائیو کوریج’ کرتا رہا، نیچے ہجوم تماشہ دیکھتا رہا، اور پھر اداروں نے اپنی ’حکمتِ عملی‘ کا وہ شاہکار پیش کیا جس پر عقل بھی دنگ رہ جائے: ملزم کو اتارنے کے لیے وہ 60 فٹ کا درخت ہی جڑ سے کاٹ دیا گیا۔

40 سال کا سفر اور ایک لمحے کا کلہاڑا

یہاں رک کر ذرا اس المیے کی گہرائی کو سمجھیے۔ کھجور کا جو درخت 60 فٹ کی بلندی تک پہنچا ہو، کیا وہ راتوں رات اگ آیا تھا؟ زراعت اور نباتات کے ماہرین جانتے ہیں کہ کھجور کو اس قامت تک پہنچنے، زمین کی تہوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے اور آسمان سے باتیں کرنے میں کم از کم 40 سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

چار دہائیوں کی دھوپ، سردی، بارش اور طوفانوں کا مقابلہ کرنے والا وہ درخت، محض ایک مجرم کو نیچے اتارنے کی جلد بازی میں چند منٹوں کے اندر کاٹ کر گرا دیا گیا۔

کیا واقعی کوئی اور راستہ نہیں تھا؟ کیا کرین نہیں منگوائی جا سکتی تھی؟ کیا جال بچھا کر اس کے بھوکا پیاسا ہو کر نیچے اترنے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا؟ لیکن نہیں! ہماری تربیت میں الجھی ہوئی گرہ کو تحمل سے کھولنا شامل ہی نہیں، ہم سیدھا تلوار چلاتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں چھت پر بیٹھے کبوتر کو پکڑنے کے لیے پوری عمارت کی بنیادوں میں بارود رکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔

78 سالہ تاریخ کا استعارہ

آپ کی بات بالکل درست ہے کہ یہ چھوٹی سی، بظاہر مضحکہ خیز کہانی میں دراصل ہماری 78 سالہ ملکی تاریخ کا پورا عکس موجود ہے۔ یہ واقعہ ہماری قومی نفسیات، ہماری ریاستی حکمتِ عملی اور ہماری مجموعی "اوقات” کی ایک تلخ اور منہ بولتی تصویر ہے:

  • شارٹ کٹ کی لت: ہم نے بحیثیت قوم ہمیشہ وقتی اور فوری حل (Short-term fixes) تلاش کیے ہیں۔ ایک چھوٹے، مقامی یا وقتی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم ان اداروں، ان روایات اور ان بنیادوں کو کاٹ دیتے ہیں جنہیں بننے میں دہائیاں لگی ہوتی ہیں۔

  • تماشے کی خام خیالی: وہ مجرم جو درخت کی چوٹی پر بیٹھ کر لائیو کوریج کر رہا تھا، وہ دراصل اس معاشرے کا منہ چڑا رہا تھا جو ہر چیز کو ‘ٹرینڈ’ اور ‘تماشہ’ بنا دینے کا عادی ہو چکا ہے۔ ہم بحیثیت قوم تماشہ دیکھنے کے اتنے شوقین اور اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس لائیو کوریج کی قیمت کس چیز کی تباہی صورت میں چکائی جا رہی ہے۔

  • اداروں اور ریاستی اپروچ کا دیوالیہ پن: 40 سالہ درخت گرا کر ایک شخص کو گرفتار کرنا یہ بتاتا ہے کہ ہماری ترجیحات کس قدر کھوکھلی ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے پاس پیچیدہ مسائل (Complex Problems) سے نمٹنے کی نہ تو کوئی تربیت ہے اور نہ ہی کوئی وژن۔

درخت کاٹ کر مجرم پکڑنے کا فن

 

ہم 78 سال سے یہی تو کر رہے ہیں۔ جب بھی کوئی سیاسی، معاشی یا سماجی مسئلہ درپیش آیا، ہم نے بجائے اس کے کہ کوئی پائیدار حل نکالتے، ہم نے اس درخت پر ہی کلہاڑا چلا دیا جس کی چھاؤں میں ہم بیٹھے تھے۔ کوٹ چھٹہ کا کٹا ہوا وہ کھجور کا درخت آج زمین پر پڑا ہم سے یہی سوال کر رہا ہے کہ: تم نے ایک مجرم تو پکڑ لیا، لیکن اس 40 سال کے سرمائے کا کیا جو تم نے اپنی ہی حماقت اور جلد بازی سے تباہ کر دیا؟ ہماری غیر پیشہ ورانہ پولیسنگ پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

جب تک ہماری اپروچ "درخت کاٹ کر بندہ اتارنے” والی رہے گی، تب تک ہم بحیثیت قوم 78 سال کیا، اگلی کئی صدیوں تک بھی کھوکھلی کامیابیوں کا جشن مناتے رہیں گے اور اپنی ہی جڑیں کاٹتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں