اسلام آباد مفاہمتی یاداشت 38

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کر دیئے گئے

فروری 2026 کے اواخر میں جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جنگ کے سیاہ بادل چھائے، تو پوری دنیا کی سانسیں رک گئیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائیوں نے دنیا کو ایک ایسی عالمی کشمکش کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا جس کے نتائج کا تصور ہی لرزہ خیز تھا۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی بحری ناکہ بندی نے عالمی معیشت کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگ کے شعلے سب کچھ بھسم کرنے لگتے ہیں، تو کچھ رہنماء اور اقوام امن کے پیامبر بن کر ابھرتے ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے گئے

18 جون 2026 کی تاریخ ایک ایسے ہی روشن اور طمانیت بخش باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ یہ وہ دن ہے جب تباہی کے خوف میں مبتلا دنیا کو ایک بڑی اور خوشگوار خبر ملی۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے دنیا کو نوید دی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں۔

یہ محض کاغذ پر لکھی گئی چند سطور نہیں ہیں، بلکہ یہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں اور ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ان دستخطوں کے ساتھ ہی پاکستان نے بطورِ ضامن اور ثالث اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے درج کروا لیا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر فوری اور ثمر آور نتائج

اس معاہدے کی سب سے خاص اور حیران کن بات اس کا فوری نفاذ ہے۔ چودہ نکات پر مشتمل اس فریم ورک معاہدے نے خطے کو راتوں رات ایک نئی امید دی ہے۔

ایک طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی تجارت کی شہ رگ سمجھی جانے والی ’آبنائے ہرمز‘ کو تجارتی جہاز رانی کے لیے فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے، تو دوسری جانب امریکہ نے اپنے تمام تر بحری بیڑوں کو ناکہ بندی ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اس معاہدے نے نہ صرف جاری عسکری کارروائیوں کو روکا ہے، بلکہ آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک جامع اور مستقل امن معاہدے، اور ایران پر عائد پابندیوں کے بتدریج خاتمے کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔

پاکستان کا سفارتی ماسٹر سٹروک

اس پوری کہانی کا سب سے درخشاں اور فخر سے لبریز پہلو پاکستان کا وہ کلیدی کردار ہے جس نے دو دہائیوں سے متصادم اور حالتِ جنگ میں موجود قوتوں کو ایک میز پر بٹھا دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی پوری ٹیم نے جس طرح اس کٹھن سفر میں ثالثی کی، وہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک لازوال کارنامہ ہے۔

خاص طور پر، اس پوری پیشرفت میں پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت، لگن اور خاموش مگر فیصلہ کن سفارت کاری کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے وہ 21 گھنٹے طویل اور صبر آزما مذاکرات دراصل اسی پرامن مستقبل کی بنیاد تھے جس کا پھل آج پوری دنیا کھا رہی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ محض ایک تماشائی نہیں، بلکہ خطے میں استحکام لانے والا ایک مضبوط ستون ہے۔

اس کامیابی کے سفر میں برادر اسلامی ممالک—قطر، مملکتِ سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور مصر—کی قیادت کا تعاون بھی انتہائی اہم رہا، جنہوں نے قدم قدم پر اس پرامن کاوش کو پسِ پردہ رہ کر تقویت بخشی۔

جنگ بندی دنیا کیلئے بڑا پیغام

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت محض ایک عارضی جنگ بندی کا مسودہ نہیں، بلکہ باہمی احترام، افہام و تفہیم اور مشرقِ وسطیٰ کی مشترکہ خوشحالی کی ایک پائیدار بنیاد ہے۔

آج دنیا نے ایک بار پھر یہ سیکھ لیا ہے کہ انسانیت کے پیچیدہ ترین مسائل کا حل بارود کی بو، تباہ کن بموں اور میزائلوں کے شور میں نہیں، بلکہ مذاکرات کی میز پر، سفارت کاری کے دھیمے لہجوں میں پوشیدہ ہے۔

آج کا دن سفارت کاری کی جیت اور جنگ کی ہار کا دن ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” سے اٹھنے والی یہ امن کی ہوا پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ایک مستقل اور خوشحال مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں