حضرت عمر فاروقؓ 31

یومِ شہادتِ حضرت عمر فاروقؓ : کیا آج ایسا حکمران مل سکتا ہے؟

یکم محرم الحرام تاریخِ اسلام کا وہ دن ہے جب عدل، دیانت، جرات اور حکمرانی کے ایک درخشندہ باب کا اختتام ہوا۔ یہ وہ دن ہے جب امیرالمؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ محرابِ نبوی میں زخمی ہونے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ان کی شہادت صرف ایک فرد کی وفات نہیں تھی بلکہ ایک ایسے عہد کا خاتمہ تھا جس میں اقتدار خدمت تھا، حکومت امانت تھی اور حکمران خود کو رعایا کا خادم سمجھتا تھا۔

 

بیت المقدس کی فتح اور حضرت عمر فاروقؓ  کی سادگی

 

شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

فقط اسلام دنیا میں یہ منظر پیش کرتا ہے
کہ آقا چل پڑے پیدل، سواری پر غلام آیا

یہ شعر حضرت عمرؓ اور ان کے غلام کے اس تاریخی سفر کی یاد دلاتا ہے جب بیت المقدس کی فتح کے موقع پر دونوں باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ شہر میں داخلے کی باری غلام کی تھی، اس لیے خلیفۂ وقت اونٹ کی نکیل پکڑے پیدل چل رہے تھے جبکہ غلام سوار تھا۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اور مثال ملے جہاں ایک عظیم سلطنت کا فرمانروا اپنے غلام کو اپنے برابر کا انسان سمجھے۔

 

حضرت عمر کی عظمت

 

حضرت عمرؓ کی عظمت صرف ان کی حکمرانی میں نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے ہر پہلو میں جھلکتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔”

یہ اعزاز کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوا۔ نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے یہ الفاظ حضرت عمرؓ کی بصیرت، حق شناسی اور کردار کی بلندی کا اعلان تھے۔

حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام نے بھی اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ مسلمان جو مکہ کی گلیوں میں چھپ کر عبادت کرنے پر مجبور تھے، عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد پہلی بار صفیں باندھ کر کعبۃ اللہ میں نماز ادا کرنے لگے۔ حق کو چھپانے کا دور ختم ہوا اور اسلام نے اعتماد کے ساتھ اپنا وجود منوانا شروع کیا۔

 

حضرت عمر کے دور میں اسلامی سلطنت کا پھیلاؤ

 

خلافت سنبھالنے کے بعد حضرت عمرؓ نے صرف سلطنت کو وسیع نہیں کیا بلکہ حکمرانی کے ایسے اصول قائم کیے جو آج بھی جدید ریاستوں کے لیے مثال ہیں۔ ان کے دور میں عراق، شام، مصر اور فارس کے وسیع علاقے اسلامی ریاست کا حصہ بنے، مگر فتوحات کے باوجود ان کی زندگی میں کوئی شاہانہ رنگ پیدا نہ ہوا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے لباس پر سترہ پیوند تھے۔ مگر یہی وہ حکمران تھا جس کی حکومت تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھی۔ آج کے حکمرانوں کے محلات اور پروٹوکول دیکھ کر یہ حقیقت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے کہ:

کپڑوں پر سترہ پیوند تھے، مگر خلافت اور کردار پر ایک داغ بھی نہ تھا۔

 

حضرت عمر فاروقؓ کی حکمرانی کی  نمایاں خصوصیات

 

حضرت عمر فاروقؓ کی حکمرانی کی سب سے نمایاں خصوصیت احتساب تھی۔ وہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ کسی ضرورت مند کی آہ ان تک پہنچنے سے پہلے اللہ کے حضور شکایت نہ بن جائے۔ ان کا مشہور قول آج بھی حکمرانوں کے لیے لرزہ خیز پیغام ہے:

"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”

یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ حکمرانی کا وہ فلسفہ ہے جس میں ریاست کی ذمہ داری انسانوں سے بڑھ کر جانوروں تک پہنچ جاتی ہے۔ آج جب مسلم دنیا کے کئی ممالک غربت، بدعنوانی، ناانصافی، مہنگائی اور طبقاتی تقسیم کا شکار ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران اپنے عوام کے بارے میں اتنا ہی حساس ہیں جتنا عمرؓ ایک کتے کے بارے میں تھے؟

 

آج کے مسلم حکمرانوں کیلئے حیات حضرت عمر سے سبق

 

آج مسلم دنیا کے بیشتر حکمران حضرت عمرؓ کے نام پر کانفرنسیں تو منعقد کرتے ہیں لیکن ان کے اصول اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ عمرؓ نے اقتدار کو استحقاق نہیں بلکہ جواب دہی سمجھا۔ آج اقتدار کو مراعات اور استثنیٰ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ عمرؓ کے دور میں قانون حکمران اور عام شہری کے لیے یکساں تھا، جبکہ آج کئی ریاستوں میں قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہے۔

یومِ شہادتِ حضرت عمرؓ صرف عقیدت کا دن نہیں بلکہ احتساب کا دن بھی ہے۔ یہ دن مسلم حکمرانوں سے سوال کرتا ہے کہ کیا ان کے دروازے عام آدمی کے لیے کھلے ہیں؟ کیا ان کے فیصلوں میں عدل ہے؟ کیا وہ عوام کے ٹیکس کو امانت سمجھتے ہیں؟ کیا وہ اپنی رعایا کی بھوک، بے روزگاری اور محرومی کا درد محسوس کرتے ہیں؟

حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم ریاستیں ہتھیاروں، محلات اور پروٹوکول سے نہیں بلکہ انصاف، سادگی اور جواب دہی سے بنتی ہیں۔ اگر آج کے مسلم حکمران واقعی امت کے زوال پر فکر مند ہیں تو انہیں عمرؓ کی سوانح پڑھنے سے زیادہ ان کے طرزِ حکمرانی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

یکم محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے صفحات میں وہی حکمران زندہ رہتے ہیں جو اقتدار سے نہیں بلکہ کردار سے عظیم بنتے ہیں۔ اور عمرؓ انہی عظیم ترین حکمرانوں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں صدیوں بعد بھی دنیا انصاف کی مثالیں دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں