ملائیشیا نے بینکاری کے شعبے میں ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے عام صارفین کے لیے ایک خوش آئند اور عوام دوست اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ملک کی بینکاری تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے تمام بینک صارفین کسی بھی بینک کے اے ٹی ایم یا اسمارٹ ری سائیکلر مشین (SRM) سے نقد رقم نکال سکیں گے اور اس پر عائد RM1 (ایک رنگٹ) کی انٹربینک فیس مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔
اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی صارف کا اکاؤنٹ ایک بینک میں ہے اور وہ دوسرے بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکالتا ہے تو اسے اب اضافی فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی۔ اس سہولت کے تحت ملائیشیا بھر میں موجود 14 ہزار سے زائد اے ٹی ایمز اور SRMs تک بلا معاوضہ رسائی حاصل ہوگی، جبکہ مفت ٹرانزیکشنز کی تعداد پر بھی کوئی حد نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود نقد رقم اب بھی لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ دیہی علاقوں، بزرگ شہریوں، چھوٹے کاروباروں اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے نقد رقم تک آسان اور سستی رسائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ ملائیشین بینکاری صنعت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مالیاتی خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی، سستا اور جامع بنانا ہے جبکہ عوام پر روزمرہ اخراجات کا بوجھ کم کرنا بھی اس کا اہم مقصد ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ملائیشیا تیزی سے کیش لیس معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں کی بینکاری صنعت نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ صارفین کو اپنی پسند کے مطابق ادائیگی کا طریقہ اختیار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
عوام کا ردِعمل
سوشل میڈیا اور آن لائن فورمز پر اس اعلان کو بڑی حد تک سراہا گیا۔ کئی صارفین نے لکھا کہ وہ صرف ایک رنگٹ بچانے کے لیے دور دراز اپنے بینک کے اے ٹی ایم تلاش کرتے تھے۔ بعض نے کہا کہ فیس ختم ہونے سے وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ہوگی، جبکہ کچھ صارفین کا خیال تھا کہ یہ قدم کافی پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ (
پاکستان کے لیے سبق
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے؟
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیجیٹل بینکاری میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ راستانے (Raast) جیسے نظام نے فوری رقوم کی منتقلی کو آسان بنایا ہے، تاہم عام صارفین اب بھی مختلف قسم کی بینکاری فیسوں اور حدود کا سامنا کرتے ہیں۔
کئی بینک مخصوص تعداد سے زیادہ ATM ٹرانزیکشنز پر فیس وصول کرتے ہیں۔ بعض اوقات دوسرے بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے پر بھی چارجز لاگو ہوتے ہیں۔ اسی طرح بینک ٹو بینک فنڈ ٹرانسفرز (IBFT) پر بعض حالات میں فیس یا دیگر اخراجات سامنے آتے ہیں، جبکہ صارفین کو مختلف شرائط، حدود اور پالیسیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
عام آدمی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سوال بالکل سادہ ہے: جب صارف اپنا ہی پیسہ نکال رہا ہے یا ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کر رہا ہے تو اس پر اضافی مالی بوجھ کیوں ڈالا جائے؟
ملائیشیا کا حالیہ فیصلہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بینکاری نظام صرف منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی سہولت کا ایک بنیادی ڈھانچہ بھی ہے۔ اگر بینکنگ خدمات زیادہ آسان، کم خرچ اور صارف دوست ہوں تو اس سے مالی شمولیت (Financial Inclusion) میں اضافہ ہوتا ہے، نقد اور ڈیجیٹل دونوں نظاموں پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت کو مجموعی فائدہ پہنچتا ہے۔
وقت آ گیا ہے؟
پاکستان میں بھی اس موضوع پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اسٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں اور متعلقہ اداروں کو مل کر یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا ATM استعمال، IBFT ٹرانزیکشنز اور دیگر بنیادی بینکاری خدمات پر عائد غیر ضروری اخراجات کو مزید کم یا مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
ملائیشیا نے ثابت کیا ہے کہ صارف دوست فیصلے صرف عوام کو ریلیف نہیں دیتے بلکہ پورے مالیاتی نظام پر اعتماد کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ شاید اب پاکستان کو بھی اسی سمت میں ایک قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔