
پاکستان میں سال 2026 کی پہلی ہلاکت کریمیئن کانگو ہیمرجک فیور (CCHF)، المعروف کانگو وائرس، کے باعث کراچی میں رپورٹ ہوئی ہے، جہاں ایک 17 سالہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ لڑکا مویشی فارم پر کام کرتا تھا اور شدید بخار کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کے ٹیسٹ مثبت آئے اور اسے فوری طور پر آئسولیشن میں رکھا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
یہ کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں عیدالاضحی قریب ہے، اور ماہرین صحت پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اس موسم میں مویشیوں سے بڑھتا ہوا رابطہ وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔
کانگو وائرس کیا ہے؟
کریمیئن کانگو ہیمرجک فیور ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر چیچڑ (ticks) کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس جانوروں، خاص طور پر گائے، بکری اور بھیڑ میں پایا جاتا ہے اور انسانوں میں یا تو چیچڑ کے کاٹنے سے یا متاثرہ جانوروں اور انسانوں کے خون و جسمانی رطوبت کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
یہ بیماری دنیا کے کئی خطوں میں پائی جاتی ہے اور پاکستان میں بھی اسے ایک مستقل صحتی خطرہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مویشیوں کی خرید و فروخت زیادہ ہوتی ہے۔
علامات اور بیماری کی شدت
کانگو وائرس کی علامات عام طور پر اچانک ظاہر ہوتی ہیں۔ مریض کو تیز بخار، جسم میں درد، سر درد اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالت سنگین ہو سکتی ہے اور مریض میں خون بہنے کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے ناک سے خون آنا یا جلد کے نیچے خون جمنا۔
شدید کیسز میں یہ بیماری جگر کی خرابی، اندرونی خون بہنے اور حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک مہلک بیماری تصور کیا جاتا ہے۔
شرح اموات اور پاکستان میں صورتحال
طبی ماہرین کے مطابق کانگو وائرس کی شرح اموات عام طور پر 10 سے 40 فیصد کے درمیان ہوتی ہے، جو کہ اسے ایک انتہائی خطرناک بیماری بناتی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ برس بھی اس بیماری کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اور صحت کے اداروں نے خبردار کیا تھا کہ ہر سال عیدالاضحی کے قریب اس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس دوران انسانوں اور مویشیوں کا رابطہ بڑھ جاتا ہے۔
کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟
یہ وائرس خاص طور پر ان افراد کو متاثر کرتا ہے جو مویشیوں کے قریب کام کرتے ہیں۔ مویشی پالنے والے، قصاب، ویٹرنری ڈاکٹرز اور مویشی منڈیوں میں جانے والے افراد اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ شہری علاقوں میں مویشی منڈیوں کے قریب رہنے والے افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین صحت کے مطابق کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ مویشیوں کے ساتھ کام کرتے وقت حفاظتی دستانے اور لباس استعمال کرنا چاہیے اور جانوروں کو چھونے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھونا ضروری ہے۔ چیچڑ سے بچاؤ کے لیے اسپرے کا استعمال بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
گھروں میں جانوروں کو رہائشی جگہ سے دور رکھنا چاہیے اور بچوں کو مویشیوں کے قریب جانے سے روکنا چاہیے۔ اگر کسی شخص میں تیز بخار یا خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
کانگو وائرس اب پاکستانیوں کیلئے ایک بڑا خطرہ
کراچی میں 17 سالہ نوجوان کی ہلاکت اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ کانگو وائرس اب بھی پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ خاص طور پر عیدالاضحی کے قریب، عوام کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بروقت احتیاطی تدابیر اور آگاہی کے ذریعے اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔



