اہم خبریںپاکستانعوام

حکومت کا رائٹ سائزنگ اور گولڈن ہینڈ شیک پالیسی پر تیزی سے گامزن

ان محکموں کے وہ مستقل ملازمین جو رضاکارانہ طور پر یہ اسکیم قبول نہیں کریں گے، انہیں 'سرپلس پول' (Surplus Pool) میں شامل کر کے دیگر سرکاری اداروں میں کھپانے کی کوشش کی جائے گی۔

 وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کو مالی استحکام فراہم کرنے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ‘رائٹ سائزنگ’ (Rightsizing) پالیسی پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔

اس پالیسی کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی کڑی شرائط کو پورا کرنا ہے۔ اس مہم کے تحت غیر ضروری محکموں کی بندش، وزارتوں کا انضمام، لاکھوں خالی آسامیوں کا خاتمہ اور زائد سرکاری ملازمین کے لیے گولڈن ہینڈ شیک پالیسی (Golden Handshake) اسکیم جیسے سخت لیکن ناگزیر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گولڈن ہینڈ شیک پالیسی اور والنٹری سیورینس اسکیم

 

آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر پینشن اور تنخواہوں کے بجٹ کو محدود کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے ان محکموں کے ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی کی اسکیم (VSS) اور گولڈن ہینڈ شیک پالیسی متعارف کروائی ہے جنہیں بند یا ضم کیا جا رہا ہے۔

اس اسکیم کے تحت ملازمین کو ایک پرکشش مالی پیکج دے کر باعزت طریقے سے ملازمت سے فارغ کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں قومی خزانے پر تنخواہوں کا مستقل بوجھ کم کیا جا سکے۔

ان محکموں کے وہ مستقل ملازمین جو رضاکارانہ طور پر یہ اسکیم قبول نہیں کریں گے، انہیں ‘سرپلس پول’ (Surplus Pool) میں شامل کر کے دیگر سرکاری اداروں میں کھپانے کی کوشش کی جائے گی۔

ڈیڑھ لاکھ  سرکاری آسامیوں کا خاتمہ

 

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات پر حکومت نے وفاقی محکموں میں خالی پڑی 1 لاکھ 50 ہزار آسامیوں کو مستقل طور پر ختم کر دیا ہے۔

  • یہ آسامیاں زیادہ تر گریڈ 1 سے 16 تک کی تھیں، جو طویل عرصے سے خالی تھیں اور بجٹ میں ان کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے تھے۔

  • حکومت نے انہیں ‘ڈائنگ پوسٹس’ (Dying Posts) قرار دے دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ان عہدوں پر کبھی بھرتیاں نہیں کی جائیں گی۔

  • اسی طرز پر عمل کرتے ہوئے حال ہی میں پنجاب حکومت نے بھی تعلیمی محکموں (اسکول ٹیچرز وغیرہ) اور دیگر سرکاری اداروں میں تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ صوبائی بجٹ کے خسارے کو کم کیا جا سکے۔

وزارتوں اور محکموں کا انضمام

 

حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے 40 سے زائد وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 82 سرکاری اداروں (SOEs) کو ضم یا تحلیل کرنے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:

 

  • کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ڈویژن (CAD) کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

  • وزارت امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور وزارت سیفران (SAFRON) کو آپس میں ضم کر دیا گیا ہے۔

  • وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس ڈویژن اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ماتحت درجنوں اداروں کو بھی کم کر کے ان کا حجم محدود کیا گیا ہے۔

اہم سرکاری اداروں کی بندش

 

حکومتی رائٹ سائزنگ کا سب سے بڑا شکار وہ عوامی اور تعمیراتی ادارے بنے ہیں جو سالہا سال سے مالی خسارے کا سامنا کر رہے تھے:

یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (USC):

سستی اور رعایتی اشیاء فراہم کرنے والا ملک کا یہ سب سے بڑا ریٹیل نیٹ ورک 31 جولائی 2025 کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس ادارے کو 15 ارب روپے سے زائد کے مجموعی خسارے کا سامنا تھا۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں اس کے تقریباً 4,000 سے زائد آؤٹ لیٹس بند کر دیے گئے ہیں۔

پاک پی ڈبلیو ڈی (Pak-PWD):

تعمیرات کے اس بڑے سرکاری ادارے کو ناقص کارکردگی، بے ضابطگیوں اور مالی خرد برد کی شکایات پر وفاقی حکومت کی جانب سے بند کر دیا گیا ہے، اور اس کے تمام زیرِ التواء منصوبے صوبائی حکومتوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

عوامی اور ملازمین کا ردِ عمل

 

ان معاشی اقدامات نے ایک طرف ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بحال کیا ہے، وہیں مقامی سطح پر اس کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اساتذہ کی تنظیموں اور آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (APCA) کی جانب سے ان پالیسیوں پر سخت احتجاج کیا جا رہا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ ایسے فیصلوں سے جہاں بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، وہیں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عملے کی شدید قلت پیدا ہوگی جو براہِ راست عام آدمی کو متاثر کرے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button