اہم خبریںپاکستان

آف گرڈ اور 25 کلوواٹ سے کم نیٹ میٹرنگ صارفین نیپرا لائسنس سے مستثنیٰ

گزشتہ دنوں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت 25 کلو واٹ سے کم کے سولر سسٹمز پر بھی 1000 روپے فی کلو واٹ فیس اور لائسنس کی شرط لازمی قرار دی گئی تھی۔

پاکستان میں مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ حال ہی میں شمسی توانائی (سولر پینلز) پر عائد کی جانے والی مجوزہ فیسوں اور شرائط پر شدید عوامی ردعمل کے بعد، حکومت نے چھوٹے سولر صارفین کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

"سورج کی روشنی پر ٹیکس” اور حکومتی ایکشن

 

گزشتہ دنوں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت 25 کلو واٹ سے کم کے سولر سسٹمز پر بھی 1000 روپے فی کلو واٹ فیس اور لائسنسکی شرط لازمی قرار دی گئی تھی۔

اس اقدام کو عوامی اور انڈسٹری کے حلقوں میں "سورج کی روشنی پر ٹیکس” (Sunlight Tax) کا نام دیا گیا اور اس پر کڑی تنقید کی گئی۔

عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا مہم کے بعد، وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے نیپرا کو باضابطہ درخواست کی ہے جس میں 25 کلو واٹ تک کے گھریلو سولر صارفین کے لیے لائسنسنگ اور ایپلیکیشن فیس کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ وہ کلین انرجی کے حق میں ہے اور ملک میں سولر کے رجحان کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنا چاہتی۔

آف گرڈ صارفین اور آن گرڈ صارفین کے حوالے سے اہم وضاحت

 

اس تمام صورتحال میں بہت سے صارفین ابہام کا شکار تھے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ جو صارفین آف گرڈ ہیں (یعنی ان کا سسٹم نیشنل گرڈ اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے منسلک نہیں ہے اور وہ صرف بیٹریوں کے ذریعے اپنا بیک اپ چلاتے ہیں)، ان پر کسی قسم کے لائسنس، ٹیکس یا منظوری کی کوئی شرط لاگو نہیں ہوتی۔

دوسری جانب، جو صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اپنا سسٹم گرڈ سے منسلک کرتے ہیں (آن گرڈ)، ان کے لیے بھی 25 کلو واٹ تک کے سسٹمز پر نئی پابندیاں واپس لی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

 

سولر صارفین: لوڈشیڈنگ کے شکار ملک کے لیے ایک نعمت

 

جیسا کہ توانائی کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں، نیٹ میٹرنگ کی سہولت استعمال کرنے والے صارفین دراصل ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک بہترین سہارا ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • نیشنل گرڈ کو سپورٹ: پاکستان طویل عرصے سے بجلی کی پیداواری قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کا شکار ہے۔ نیٹ میٹرنگ والے صارفین دن کے اوقات میں اپنی ضرورت سے زائد پیدا ہونے والی اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کرتے ہیں، جس سے شارٹ فال میں کمی آتی ہے اور گرڈ کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

  • مہنگے ایندھن کی بچت: حکومت کو بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگا درآمدی فرنس آئل اور ایل این جی منگوانی پڑتی ہے۔ سولر صارفین کی جانب سے ملنے والی سستی اور صاف بجلی سے حکومتی امپورٹ بل میں کمی واقع ہوتی ہے۔

  • بہترین پاور بیک اپ: ایسے وقت میں جب ملکی سسٹم اوور لوڈڈ ہے، گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر جنریشن سے پاور سیکٹر پر دباؤ کم ہوتا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

 

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ نئی پالیسیوں کے تحت نیٹ میٹرنگ کے معاوضے کے طریقہ کار (نیٹ بلنگ) میں کچھ تبدیلیاں زیرِ غور رہی ہیں تاکہ گرڈ سے درآمدی اور برآمدی بجلی کی قیمتوں کا توازن برقرار رکھا جا سکے، تاہم پرانے صارفین کے معاہدوں کو موجودہ شرائط پر تحفظ حاصل ہے۔

مجموعی طور پر، حکومت کا چھوٹے صارفین کے لیے لائسنس اور فیس کی شرط کو ختم کرنا ایک خوش آئند قدم ہے۔

سولر انرجی محض ایک سہولت نہیں بلکہ پاکستان میں جاری توانائی کے بحران کا ایک موثر، سستا اور پائیدار حل ہے، اور اس کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button