اہم خبریںپاکستانجرم و سزا

پی ٹی آئی رہنما افضال عظیم پاہٹ ایڈوکیٹ کی سزا لاہور ہائیکورٹ سے معطل

افضال عظیم پاہٹ پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما ہیں ۔ انہوں نے 2024 کے جنرل الیکشن میں موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑا۔ 

نو مئی کے مقدمہ شیر پاؤ پل میں 10 سال سزا پانے  والے پی ٹی آئی رہنما ایڈوکیٹ افضال عظیم پاہٹ کی سزا لاہور ہائی کورٹ نے معطل کر دی۔
افضال عظیم پاہٹ پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما ہیں ۔ انہوں نے 2024 کے جنرل الیکشن میں موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑا۔
اگرچہ وہ اس الیکشن میں ناکام رہے تاہم پی ٹی آئی میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
انہیں 9 مئی کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے دس سال کی قید سنائی تھی۔ تاہم ان کے خلاف یہ کمزور کیس لاہور ہائیکورٹ میں نہ ٹھہر سکا۔

سزا سننے کے بعد ایڈوکیٹ افضال عظیم پاہٹ کا رد عمل کیا تھا؟

افضال عظیم پاہٹ کی سزا معطل ہونے کے بعد ان کو سزا ہونے والے روز کی کہانی سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل رہنما ملک پرویز اقبال اموی نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ "دس گھنٹے سے ہم مسلسل فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ فیصلہ تھا کہ عدالت پہنچ نہیں پا رہا تھا۔رات کے ساڑھے 12 بجے اہلمد نے آواز لگائی کہ فیصلہ سنایا جانے لگا ہے۔ ہم سب دوڑ کر عدالت پہنچے "
ملک پرویز اقبال نے لکھا کہ ” جج صاحب باہر ائے ان کی نظریں اپنے پیروں پر تھیں۔۔جج صاحب 13 سیکنڈ کے لیے عدالت رکے۔۔۔۔جن کو سزا دی ان کے نام لیے اور تیرویں سیکنڈ میں عدالت سے غائب ہو گئے”۔
ایڈوکیٹ پرویز اقبال کا کہنا تھا کہ "وہ رات قیامت تھی۔ بے گناہ قیادت کو دس دس سال کی سزائیں سنائی گئیں۔ جب افضال پاہٹ کا نام لے کر جج نے 10 سال سزا پکاری تو افضال پاہٹ نے نعرہ لگایا عمران خان زندہ باد۔۔۔۔۔۔اس ایک نعرے نے اس فیصلے کو مٹی میں ملا دیا۔”
ملک پرویز اقبال نے مزید لکھا کہ ” آج افضال پاہٹ سرخرو ہوا۔۔ اج افضال پاہٹ کو اللہ تعالی نے عزت بخشی۔ مگر افضال پاہٹ جیسے شیروں کو جعلی سزائیں سنانے والے اور سنوانے والے ہمیشہ کے لیے اس قوم کی نظروں سے گرچکے ہیں۔”

اعلیٰ عدلیہ  میں 9 مئی کے کیسز کمزور کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کے کیسز کے فیصلے عجلت میں سنائے گئے۔ ان فیصلوں میں شواہد کی کمی اور شدید قانونی سقم ہیں جو اعلیٰ عدلیہ میں نہیں ٹھہر پاتے۔ خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 9 مئی  کے کیس بھی سرپم کورٹ میں نہ ٹھہر پائے۔
تاہم اس وقت پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کو جو سب سے بڑا مسئلہ در پیش ہے وہ یا کیسز کا مقرر نہ ہونا ہے یا پھر فیصلے کی تفصیلی کاپی کا نہ ملنا ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی کے کیسز میں ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماؤں کو آج تک فیصلے کی تفصیلی کاپیاں نہیں ملی ہیں جن سے ان پر لگے الزامات کی تفصیل جانی جا سکے۔
یاد رہے کہ ملٹری کورٹس کے فیصلے کو ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ تاہم اب تک تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ان فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے لیکن اس کیلئے تفصیلی فیصلے کی کاپی ہونا ضروری ہے جو کہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button