
یہ معاملہ محض ایک تاخیر کا نہیں بلکہ آئینی اصولوں، فوجداری انصاف کے بنیادی تقاضوں اور ریاستی شفافیت کے پورے ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔
9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد جن شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے، ان کے بارے میں 21 دسمبر 2024 کو سزائیں سنانے کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان فیصلوں کی تحریری نقول جاری نہ ہونا کئی سنگین قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کوئی بھی عدالتی فیصلہ کب مکمل ہوتا ہے؟
سب سے پہلے اصولی بات یہ ہے کہ کسی بھی عدالت—چاہے وہ سول ہو یا خصوصی—کا فیصلہ صرف زبانی اعلان تک محدود نہیں ہوتا۔
ایک فیصلہ اس وقت مکمل سمجھا جاتا ہے جب اس کی وجوہات (reasoned judgment) تحریری صورت میں فراہم کی جائیں۔
یہی وہ دستاویز ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ملزم اپیل دائر کرتا ہے، اعلیٰ عدالتیں نظرِ ثانی کرتی ہیں، اور عوام یہ پرکھتے ہیں کہ آیا انصاف واقعی ہوا بھی ہے یا نہیں۔ تحریری فیصلہ نہ دینا دراصل اپیل کے حق کو غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے آئینی فریم ورک میں بھی یہ اصول واضح ہے۔ آرٹیکل 10-A (حقِ منصفانہ ٹرائل) صرف ٹرائل کے انعقاد تک محدود نہیں بلکہ اس کے تمام لوازمات کا احاطہ کرتا ہے، جن میں شفاف کارروائی، وجوہات پر مبنی فیصلہ، اور مؤثر اپیل کا حق شامل ہیں۔
جب فیصلے کی وجوہات ہی سامنے نہ آئیں تو نہ صرف ملزم بلکہ اس کے وکلاء بھی اندھیرے میں رہتے ہیں کہ کن بنیادوں پر سزا سنائی گئی۔
فوجی عدالتوں میں غیر شفاف ٹرائل اور تفصیلی فیصلہ نہ ملنا
فوجی عدالتوں کے حوالے سے یہ معاملہ پہلے ہی حساس رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان میں شہریوں کا ٹرائل کیا گیا۔ اس تناظر میں شفافیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگر فیصلے واقعی مضبوط شواہد اور ٹھوس قانونی بنیادوں پر مبنی ہیں تو انہیں منظرِ عام پر لانے میں تاخیر کیوں؟ اور اگر تاخیر ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ عام شہریوں کے ذہنوں میں بھی ابھر رہے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو اپیل کے حق کا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ان فیصلوں کے خلاف اپیل یا نظرِ ثانی کا حق اسی وقت مؤثر طریقے سے استعمال ہو سکتا ہے جب مکمل تحریری فیصلے دستیاب ہوں۔ بصورتِ دیگر، اپیل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے، جس میں دفاع کے پاس ٹھوس بنیاد ہی موجود نہیں ہوتی کہ وہ فیصلہ چیلنج کر سکے۔
تحریری فیصلہ ملزمان کا آئینی وقانونی حق
بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول بھی اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر سزا یافتہ شخص کو ایک reasoned judgment تک رسائی حاصل ہو۔ یہ نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ جب فیصلے خفیہ یا غیر واضح رکھے جائیں تو شکوک و شبہات بڑھتے ہیں اور یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید کچھ چھپایا جا رہا ہے۔
نتیجتاً، 21 دسمبر 2024 کو سنائے گئے فیصلوں کے باوجود تحریری احکامات کا آج تک منظرِ عام پر نہ آنا ایک سنجیدہ آئینی اور قانونی مسئلہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ افراد کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہے بلکہ پورے نظامِ انصاف کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلے نہ صرف بروقت تحریری صورت میں جاری کیے جائیں بلکہ انہیں اس انداز میں پیش کیا جائے کہ ہر فریق اور عام شہری یہ سمجھ سکے کہ قانون کے مطابق کیا اور کیوں فیصلہ کیا گیا
نوٹ: یہ تحریر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل رہنما ملک پرویز اقبال اموی کی فیس بک وال سے لی گئی ہے۔



