محمد عبداللہ ڈنمارک حادثہ 27

بورے والا کے ہونہار طالبعلم محمد عبداللہ ڈنمارک حادثہ میں‌ المناک موت

ڈنمارک کے شہر Roskilde کے قریب پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں پاکستانی طالب علم محمد عبداللہ جان کی بازی ہار گئے۔ وہ DTU یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے اور ان کا تعلق بورے والا، پاکستان سے تھا۔

 

محمد عبداللہ ڈنمارک حادثہ میں جان کی بازی ہار گیا مگر اس کی تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے آج پاکستان میں ہر آنکھ اشک بار ہے۔

 

عبداللہ کیلئے تعلیمی مشکلات

 

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے پبلک ریلیشن آفس کے مطابق محمد عبداللہ کی زندگی محنت، جدوجہد اور قربانی کی ایک مثال تھی۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اہل خانہ کی مالی مشکلات اس قدر تھیں کہ بعض اوقات بجلی کا بل ادا کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا تھا۔

 

امتحانات کی تیاری کے لیے وہ کریانہ اسٹور کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھتے تھے، مگر غربت ان کے حوصلے کو کبھی شکست نہ دے سکی۔

 

شاندار تعلیمی کیرئیر

 

وہ سکول کے زمانے سے ہی نمایاں طالب علم تھے اور ہمیشہ اپنی کلاس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے رہے۔

 

 

سکول مکمل کرنے کے بعد چار مختلف کالجوں نے انہیں اسکالرشپ کی پیشکش کی، جس میں سے انہوں نے پنجاب کالج کا انتخاب کیا اور وہاں بھی اپنی بہترین کارکردگی برقرار رکھی۔ بعد ازاں انہوں نے UET Lahore سے Mechanical Engineering کی تعلیم حاصل کی۔

 

محمد عبداللہ کی غیر معمولی تعلیمی صلاحیتوں کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا۔

 

بین الاقوامی مواقع

 

2022 میں انہیں یورپ کے معروف REMplus-Erasmus Mundus Program کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں Computational Fluid Mechanics، Finite Element Analysis اور Machine Learning جیسے جدید شعبوں میں تحقیق کے مواقع فراہم کیے گئے۔

 

اس پروگرام کے تحت انہیں Ireland، Spain، France، Norway، Netherlands، Denmark اور UK کی جامعات میں تعلیمی و تحقیقی مواقع حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ Commonwealth Shared Scholarship اور EMship-Erasmus Mundus Scholarship کے لیے بھی منتخب ہوئے تھے، جو ان کی غیر معمولی علمی قابلیت کا واضح ثبوت ہے۔

 

تعلیم کے ہر مرحلے پر اسکالرشپ حاصل کرنے والے عبداللہ بعد میں ڈنمارک پہنچے، جہاں وہ DTU یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی انہیں ملازمت بھی مل چکی تھی اور ان کے روشن مستقبل کی امیدیں مزید مضبوط ہو گئی تھیں۔

 

مرحوم کی میت پاکستان پہنچانے کے انتظامات مکمل

 

محمد عبداللہ ڈنمارک حادثہ میں جان کی بازی ہار گئے تو ابتدائی طور پر پاکستانی کمیونٹی نے ڈنمارک میں مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کی۔  میت پاکستان بھیجنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ آج ان کی میت پاکستان روانہ کی جائے گی، جہاں اہل خانہ اور عزیز و اقارب انہیں سپردِ خاک کریں گے۔

 

محمد عبداللہ کی زندگی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ محنت، صلاحیت اور عزم انسان کو بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں، مگر بعض اوقات تقدیر انسان کے تمام خواب ایک لمحے میں ادھورے چھوڑ دیتی ہے۔

 

ایک ایسا نوجوان جس نے غربت، مشکلات اور محرومیوں کو شکست دے کر دنیا کی بہترین جامعات تک رسائی حاصل کی، آج ہزاروں لوگوں کی آنکھیں نم کر کے رخصت ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں