برطانیہ کی حکومت نے امیگریشن قوانین میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی اصلاحات متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت ورک ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا، فیملی ویزا، اسائلم، وزیٹر ویزا اور ملک بدری (Deportation) سے متعلق قواعد میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد امیگریشن نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور سخت بنانا، غیر قانونی قیام کی حوصلہ شکنی کرنا اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ تبدیلیاں "Statement of Changes HC 259” کے ذریعے 9 جولائی 2026 کو برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کی گئیں، جس کے تحت امیگریشن رولز کی 42 مختلف شقوں میں ترمیم کی گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر تبدیلیاں 3 اگست 2026 سے نافذ العمل ہوں گی، جبکہ یورپی یونین سیٹلمنٹ اسکیم (EU Settlement Scheme) سے متعلق بعض ترامیم 30 جولائی 2026 سے نافذ ہوں گی۔
امیگریشن اصلاحات کیوں متعارف کرائی گئیں؟
برطانیہ امیگریشن قوانین میں یہ اصلاحات ایسے وقت میں لائی گئی ہیں جب ملک میں امیگریشن، سرحدی سلامتی اور قانونی و غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے سیاسی اور عوامی بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے قوانین کے ذریعے:
- امیگریشن نظام کو مزید منظم بنایا جائے گا۔
- غیر قانونی قیام کی روک تھام ہوگی۔
- سنگین جرائم میں ملوث غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی آسان ہوگی۔
- ورک، اسٹڈی اور فیملی ویزا کے مختلف قواعد میں یکسانیت پیدا کی جائے گی۔
- اسپانسر بننے والے اداروں اور کمپنیوں کی ذمہ داریاں مزید واضح کی جائیں گی۔
ملک بدری کے قوانین مزید سخت
ان اصلاحات کا سب سے نمایاں پہلو ملک بدری (Deportation) کے اختیارات میں توسیع ہے۔
ماضی میں عام طور پر وہ غیر ملکی شہری ملک بدری کے اہل سمجھے جاتے تھے جنہیں کم از کم 12 ماہ قید کی سزا سنائی جاتی تھی۔
نئے قوانین کے مطابق اگر کسی غیر ملکی کو 12 ماہ یا اس سے زیادہ مدت کی معطل سزا (Suspended Sentence) بھی دی جاتی ہے، تو وہ بھی برطانیہ سے بے دخل کیے جانے کے عمل کا سامنا کر سکتا ہے، بشرطیکہ جرم 22 مارچ 2026 یا اس کے بعد کیا گیا ہو۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ معطل سزا پانے والے افراد بھی اب امیگریشن قوانین کے تحت سخت کارروائی کی زد میں آئیں گے۔
اسی معیار کو اب بعض دیگر امیگریشن درخواستوں، جیسے Electronic Travel Authorisation (ETA) اور Child Student Visa میں بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
تقریباً تمام ویزا کیٹیگریز کے لیے سخت تعمیل کے قواعد
حکومت نے تقریباً 30 مختلف ویزا کیٹیگریز میں امیگریشن قوانین کو یکساں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اب برطانیہ میں قیام کی توسیع یا نئی اجازت حاصل کرنے والے درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ:
- وہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوں۔
- وہ امیگریشن بیل (Immigration Bail) پر نہ ہوں، سوائے ان صورتوں کے جہاں قانون استثنا دیتا ہو۔
- وہ متعلقہ ویزا کی تمام شرائط پوری کرتے ہوں۔
یہ قواعد اب درج ذیل اہم ویزا کیٹیگریز پر بھی لاگو ہوں گے جن میں اسکلڈ ورکر ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا، گریجویٹ ویزا، گلوبل ٹیلنٹ ویزا، فیملی ویزا، وزیٹر ویزا، یوتھ موبیلٹی اسکیم شامل ہیں۔ اس سے پہلے مختلف ویزا کیٹیگریز میں یہ شرائط ایک جیسی نہیں تھیں۔
اسکلڈ ورکر ویزا رکھنے والوں کے لیے اہم تبدیلیاں
برطانیہ میں ملازمت کے لیے آنے والے افراد کے لیے بھی کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
سرٹیفکیٹ آف اسپانسرشپ (Certificate of Sponsorship)
اب مستقبل میں تنخواہ کے تعین اور منتقلی کے قواعد کا حساب ویزا درخواست جمع کرانے کی تاریخ کے بجائے Certificate of Sponsorship (CoS) جاری ہونے کی تاریخ سے کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ کوئی کمپنی یا درخواست گزار درخواست میں تاخیر کرکے کم تنخواہ والے پرانے قوانین سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
Scale-up Visa میں والدین کے لیے سہولت
نئے قوانین کے تحت Neonatal Leave یعنی ایسے والدین جن کے نومولود بچوں کو خصوصی طبی نگہداشت درکار ہو، ان کی رخصت کو بھی اب مسلسل ملازمت کے عرصے میں شمار کیا جائے گا، جیسے پہلے میٹرنٹی، پیٹرنٹی اور ایڈاپشن لیو کو شمار کیا جاتا تھا۔
وزیٹر ویزا میں بھی ترامیم
نئے قوانین میں بعض سفارتی ویزا انتظامات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جن کا تعلق بالخصوص بھارتی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں سے ہے۔
عام سیاحتی ویزا (Visitor Visa) کے بنیادی قواعد میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔
پاکستانیوں اور دیگر تارکین وطن پر ممکنہ اثرات
برطانیہ میں ہزاروں پاکستانی طلبہ، ہنر مند ورکرز اور خاندان مختلف ویزا کیٹیگریز کے تحت مقیم ہیں، اس لیے ان برطانیہ امیگریشن قوانین میں اصلاحات کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک کے شہریوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق:
- ورک ویزا حاصل کرنے والے افراد کو اسپانسر شپ اور تنخواہ کے قواعد پر پہلے سے زیادہ توجہ دینا ہوگی۔
- طلبہ اور گریجویٹس کو اپنی امیگریشن حیثیت برقرار رکھنے کے لیے قوانین کی سختی سے پابندی کرنا ہوگی۔
- فیملی ویزا درخواست گزاروں کو بچوں کی رہائش اور نگہداشت سے متعلق مزید شواہد فراہم کرنا پڑ سکتے ہیں۔
- معمولی نوعیت کے نہیں بلکہ 12 ماہ یا اس سے زیادہ معطل سزا پانے والے غیر ملکی بھی اب ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
