ذرا تصور کیجیے کہ آپ ایک مسافر طیارے میں سوار ہوتے ہیں، لیکن سیٹوں پر مسافروں کے بجائے آلوؤں سے بھرے بورے رکھے ہوں۔
یہ منظر کسی مزاحیہ فلم یا سوشل میڈیا کی فرضی کہانی نہیں، بلکہ 2012 میں امریکی فضائی کمپنی بوئنگ (Boeing) کی جانب سے کیا گیا ایک حقیقی سائنسی تجربہ تھا۔ اس حیران کن منصوبے کا مقصد محض دلچسپی پیدا کرنا نہیں، بلکہ جدید طیاروں میں وائرلیس کمیونیکیشن اور وائی فائی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا تھا۔
ایک ایسا مسئلہ جس کا حل غیر معمولی تھا
جب مسافر طیاروں میں انٹرنیٹ اور دیگر وائرلیس سہولیات متعارف کروائی جا رہی تھیں تو بوئنگ کے انجینئرز کو ایک اہم سوال کا سامنا تھا: ایک بھرے ہوئے طیارے میں ریڈیو اور وائی فائی سگنلز کس طرح سفر کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ انسانی جسم بڑی مقدار میں پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اور پانی ریڈیو فریکوئنسی (Radio Frequency) سگنلز کو جذب اور منتشر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے خالی جہاز میں حاصل ہونے والے نتائج، مسافروں سے بھرے جہاز کے نتائج سے مختلف ہوتے ہیں۔
اگر اس تحقیق کے لیے سینکڑوں افراد کو کئی دن تک جہاز میں بٹھایا جاتا تو یہ نہایت مہنگا، وقت طلب اور انتظامی طور پر مشکل کام ہوتا۔ اسی مسئلے نے انجینئرز کو ایک منفرد حل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
آخر آلو ہی کیوں؟
بوئنگ کے انجینئرز نے انسانوں کی جگہ تقریباً 20 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 9 ٹن) آلو استعمال کیے، اور اس کی وجہ انتہائی دلچسپ مگر سائنسی تھی۔ آلو میں تقریباً 70 سے 80 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ریڈیو فریکوئنسی سگنلز کے ساتھ ایسی برقی خصوصیات (Dielectric Properties) ظاہر کرتے ہیں جو انسانی جسم سے کافی حد تک مشابہ ہوتی ہیں۔
اگرچہ آلو انسانوں کا مکمل متبادل نہیں، لیکن وائرلیس سگنلز کے رویے کا جائزہ لینے کے لیے یہ ایک مؤثر اور کم لاگت متبادل ثابت ہوئے۔ اس کے علاوہ آلو آسانی سے دستیاب تھے، ان کی قیمت نسبتاً کم تھی، انہیں نہ کھانے پینے کی ضرورت تھی اور نہ ہی آرام یا وقفے کی، جبکہ وہ اپنی جگہ پر مستقل رہتے تھے، جس سے تجربے کے نتائج زیادہ درست اور یکساں حاصل ہوئے۔
SPUDS نامی منفرد منصوبہ
اس تجربے کو SPUDS کا نام دیا گیا، جس کا مطلب ہے Synthetic Personnel Using Dielectric Substitution، یعنی ایسے مصنوعی "مسافر” استعمال کرنا جن کی برقی خصوصیات انسانی جسم سے ملتی جلتی ہوں۔
بوئنگ نے ایک ریٹائرڈ طیارے کے اندر تقریباً 20 ہزار پاؤنڈ آلو رکھے اور جدید آلات کی مدد سے یہ جانچا کہ وائی فائی اور دیگر وائرلیس سگنلز جہاز کے مختلف حصوں میں کس طرح پھیلتے ہیں، کہاں سگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور کن مقامات پر نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
صرف 10 گھنٹوں میں وہ کام جو پہلے دو ہفتے لیتا تھا
بوئنگ کے مطابق اگر یہی تجربہ حقیقی مسافروں کے ساتھ کیا جاتا تو اسے مکمل ہونے میں دو ہفتوں سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا تھا، لیکن آلو استعمال کرنے سے ابتدائی وائرلیس تجزیہ تقریباً 10 گھنٹوں میں مکمل ہو گیا۔
بعد ازاں انہی نتائج کی تصدیق حقیقی رضاکاروں کے ذریعے بھی کی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تحقیق درست اور قابلِ اعتماد ہے۔ اس طریقۂ کار نے نہ صرف وقت بچایا بلکہ تحقیق کی لاگت میں بھی نمایاں کمی کر دی۔
صرف وائی فائی نہیں، پورا وائرلیس نظام زیرِ مطالعہ تھا
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تجربہ صرف مسافروں کے وائی فائی یا انٹرنیٹ کے لیے کیا گیا تھا، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
اس تحقیق کے دوران انجینئرز نے جہاز کے اندر وائی فائی کوریج، ریڈیو فریکوئنسی سگنلز کی ترسیل، مختلف وائرلیس کمیونیکیشن سسٹمز کی کارکردگی، سگنلز میں رکاوٹ پیدا کرنے والے عوامل اور کیبن کے ان حصوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جہاں سگنلز کمزور ہو جاتے تھے۔
حاصل ہونے والی معلومات نے مستقبل کے طیاروں میں زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد وائرلیس نظام تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کیا آلو واقعی انسانوں کی جگہ لے سکتے ہیں؟
اس سوال کا مختصر جواب نہیں ہے۔ آلو صرف ابتدائی سائنسی تجربات کے لیے استعمال کیے گئے کیونکہ ان کی برقی خصوصیات انسانی جسم سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہیں۔
تاہم تحقیق مکمل ہونے کے بعد بوئنگ نے حقیقی انسانوں کے ساتھ بھی تجربات کیے تاکہ نتائج کی تصدیق ہو سکے۔ گویا آلوؤں نے انسانوں کی مکمل جگہ نہیں لی، بلکہ تحقیق کو زیادہ تیز، آسان اور کم خرچ ضرور بنا دیا۔
ایک غیر معمولی سوچ، جس نے انجینئرنگ کی دنیا کو حیران کر دیا
بوئنگ کا SPUDS منصوبہ اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ ہر بڑی سائنسی کامیابی کے لیے پیچیدہ یا مہنگی ٹیکنالوجی ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک سادہ سی چیز—جیسے آلو—بھی جدید انجینئرنگ کے ایک پیچیدہ مسئلے کا مؤثر حل بن سکتی ہے۔
آج بھی یہ تجربہ انجینئرنگ کی دنیا میں تخلیقی سوچ، عملی ذہانت اور کم لاگت حل تلاش کرنے کی ایک منفرد مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں عام آلو کروڑوں ہوائی مسافروں کے سفر کو بہتر بنانے میں اپنا خاموش کردار ادا کر گئے۔
