تاریخ میں ایسے کردار بہت کم ملتے ہیں جن کی موت کے بعد بھی دشمن خوفزدہ رہے۔ پنجاب کے اسی "رابن ہڈ” یعنی نظام لوہار کا جنازہ، تاریخ کا وہ پہلا اور آخری جنازہ تھا جس میں شرکت کے لیے انگریز سرکار نے مسلمانوں پر ‘ٹیکس’ عائد کر دیا تھا۔
واقعہ کیا تھا؟
یہ 1877 کی بات ہے۔ پنجاب کے ایک غریب لوہار کا جنازہ اٹھا تو انگریز سرکار کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا۔ انتظامیہ اس قدر خائف تھی کہ اعلان کر دیا گیا کہ جو شخص نظام کے جنازے میں شرکت کرے گا، اسے 2 روپے جرمانہ (جو اس دور میں ایک خطیر رقم تھی) ادا کرنا ہوگا۔
لیکن، ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو کوئی ٹیکس نہیں روک سکا۔ 18 ہزار لوگوں کا سمندر اس جنازے کے لیے امڈ آیا۔
نظام لوہار اور انتقام کی آگ
کہانی اس سیاہ رات سے شروع ہوئی جب ایک برطانوی افسر نے نظام کے گھر میں گھس کر اس کی ضعیف ماں کو شہید اور جوان بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالا۔ نظام نے اس رات اپنی بھٹی میں لوہا نہیں، اپنا غصہ پگھلایا۔
بہن کو محفوظ ٹھکانے پر پہنچایا اور اگلے ہی دن تھانے کے آہنی دروازے توڑ کر اس ظالم افسر کا سر تن سے جدا کر دیا۔
موت کا فرشتہ
اس کے بعد نظام انگریزوں کے لیے موت کا دوسرا نام بن گیا۔ اس نے ایک کے بعد ایک انگریز افسر (بشمول ایس ایس پی رونالڈ) کو جہنم واصل کیا۔ اسی سفر کے دوران اس نے سوجھا سنگھ نامی ایک باغی کو پولیس کی حراست سے چھڑایا۔ سوجھا کی ماں نے نظام کو اپنا بیٹا تسلیم کر لیا، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ شیر کبھی دشمنوں سے نہیں ہارتا، اسے ہمیشہ اپنوں کی غداری ہی لے ڈوبتی ہے۔
غداری اور آخری معرکہ
سوجھا سنگھ عشقِ مجازی میں اندھا ہو کر غیرت بھول گیا۔ محض 10 ہزار روپے اور 4 مربع زمین کے لالچ میں اس نے رات کے اندھیرے میں پولیس کو نظام کے ٹھکانے پر پہنچا دیا۔ پولیس نے چھتیں پھاڑ کر حملہ کیا۔ نظام آخری گولی تک لڑتا رہا۔
جب بارود ختم ہوا تو ہتھیار ڈالنے کے بجائے مسکرا کر کہا: "پنجاب کا شیر، بھیڑیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا!” اور سینہ تان کر گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
تاریخ کا دردناک کلائمکس
اس داستان کا سب سے حیران کن پہلو سوجھا سنگھ کی ماں کا کردار ہے۔ جب اس بوڑھی شیرنی کو معلوم ہوا کہ اس کے اپنے بیٹے نے نظام جیسے بہادر کی مخبری کی ہے، تو وہ طیش میں آ گئی۔
بھری پنچایت میں اس نے اپنے سگے بیٹے کے سینے کے پار برچھی کر دی۔ سوجھا تڑپتا رہا اور ماں نے دہاڑ کر کہا: "نظام پنجاب کا بیٹا تھا، تو نے غداری کی ہے! میں تجھے قیامت تک اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔”
آج بھی قصور کے قبرستان میں نظام لوہار کی قبر، پنجاب کی مٹی کے اس بہادر سپوت کی لازوال داستان سنا رہی ہے۔
