ڈینگی 26

ڈینگی کے سدِباب کیلئے ماہرین کا نیا اور انوکھا فارمولا

انسان اور مچھر کے درمیان بقا کی جنگ صدیوں پرانی ہے اور ہر سال کروڑوں افراد ڈینگی، ملیریا اور زیکا جیسے جان لیوا امراض کا شکار ہوتے ہیں۔

تاہم، اب سائنسدانوں نے جینیاتی انجینیئرنگ کی مدد سے ایک ایسا انوکھا اور حیران کن طریقہ دریافت کر لیا ہے جو مچھروں کی افزائش نسل کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔

یہ انقلابی پیش رفت نر مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کرنے پر مبنی ہے، تاکہ وہ مادہ کی کشش سے دور رہیں اور ڈینگی جیسی بیماریاں پھیلانے والی نسل آگے نہ بڑھ سکے۔

فضائی رقص اور آواز کی کشش: مچھروں کا طریقہِ ملاپ

 

مچھروں کی نسل بڑھنے کا عمل کوئی سادہ سا کام نہیں ہے، بلکہ یہ ہوا میں اڑتے ہوئے ایک پیچیدہ فضائی رقص پر مبنی ہوتا ہے۔ مادہ مچھر جب اڑتی ہے تو اس کے پروں کی مخصوص پھرپھراہٹ ایک خاص فریکوئنسی یا گونج پیدا کرتی ہے۔

نر مچھر کی قوتِ سماعت دراصل اسی خاص آواز کو پکڑنے کے لیے بنی ہے۔ جب تک نر مچھر مادہ کے پروں کی اس دلفریب آواز کو سنتا نہیں، وہ اس کی جانب متوجہ نہیں ہوتا۔ یہ ملاپ محض چند سیکنڈز کے دورانیے کا ہوتا ہے، لیکن اسی کی بدولت مچھروں کی پوری نسل پروان چڑھتی ہے۔

جینیاتی وار: ‘trpVa’ پروٹین کا خاتمہ

 

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے مچھروں کی اس حیاتیاتی ضرورت کو ان کی سب سے بڑی کمزوری میں بدلتے ہوئے ’ایڈیس ایجپٹائی‘ نامی نسل کا انتخاب کیا، جو سالانہ 40 کروڑ سے زائد انسانوں میں وائرس منتقل کرنے کی ذمہ دار ہے۔

محققین نے مچھروں کے ڈی این اے میں ’trpVa‘ نامی پروٹین کی نشاندہی کی جو ان کے سننے والے اعصاب کو فعال رکھتا ہے۔ جدید جینیاتی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اس پروٹین کو غیر فعال یا ناک آؤٹ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں نر مچھر مکمل طور پر بہرے ہو گئے۔

جب ان قوتِ سماعت سے محروم نر مچھروں کو مادہ مچھروں کے ساتھ ایک بند ماحول میں رکھا گیا، تو حیران کن طور پر تین دن گزرنے کے باوجود انہوں نے مادہ سے کوئی جنسی ملاپ نہیں کیا۔

اس کے برعکس، عام نر مچھروں نے جن کے جینز تبدیل نہیں کیے گئے تھے، چند ہی گھنٹوں میں تمام مادہ مچھروں کو فرٹیلائز کر دیا۔ مشہور سائنسی جریدے ’PNAS‘ میں شائع ہونے والے اس تجربے کے نتائج نے سائنسی برادری میں تہلکہ مچا دیا ہے۔

متبادل حکمتِ عملیاں اور ماہرین کی رائے

 

جرمنی کی اولڈن برگ یونیورسٹی کے ممتاز محقق، ڈاکٹر جورگ البرٹ کے مطابق، یہ تحقیق اس بات کا پہلا مالیکیولر ثبوت ہے کہ مچھروں کا سننا محض ایک حسی عمل نہیں، بلکہ ان کی بقا اور افزائش کے لیے ناگزیر ہے۔

اس جینیاتی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ، سائنسدان ایک اور حکمتِ عملی پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے تحت لیبارٹریز میں جراثیم سے پاک یا بانجھ نر مچھر تیار کیے جاتے ہیں۔ جب ان بانجھ مچھروں کو وبا زدہ علاقوں میں چھوڑا جاتا ہے تو مادہ کے انڈے بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتے، جس سے مچھروں کی آبادی تیزی سے گرنے لگتی ہے۔

ماحولیاتی توازن اور احتیاط کا پہلو

 

ایک طرف جہاں مچھروں کی مکمل نابودی انسانوں کے لیے ایک خواب معلوم ہوتی ہے، وہیں ماہرین کو ماحولیاتی توازن کی بھی فکر لاحق ہے کیونکہ مچھر قدرت کے وسیع فوڈ چین کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ مینڈکوں، چمگادڑوں، مچھلیوں اور پرندوں کی بنیادی خوراک میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ پودوں کی پولینیشن یعنی زردانوں کی منتقلی کا بھی اہم فریضہ انجام دیتے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں نر مچھروں کو بہرا کر کے ان کی نسل کشی کا یہ طریقہ بلاشبہ سائنس کی ایک عظیم فتح ہے۔ اگرچہ اس پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن یہ طریقہ مستقبل میں جان لیوا بیماریوں کے خلاف ایک مؤثر اور حتمی علاج ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں