ڈیٹا سینٹرز 16

چور بھی اب اے آئی کے پیچھے : ڈیٹا سینٹرز نئی شکار گاہ بن گئے

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی جہاں ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھول رہی ہے، وہیں اس انقلاب نے جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔

امریکہ میں تیزی سے تعمیر ہونے والے اے آئی ڈیٹا سینٹرز اب صرف سائبر حملوں کا ہی نہیں بلکہ منظم کارگو چوری کرنے والے گروہوں کا بھی اہم ہدف بنتے جا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں امریکی ریاست الی نوائے (Illinois) میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ایسی کارروائی کی جس نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔

حکام نے شکاگو کے قریب ایک ٹرک یارڈ سے دو چوری شدہ ٹریلرز برآمد کیے جن میں تقریباً 13 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا قیمتی سامان موجود تھا۔ اس میں 3 لاکھ ڈالر مالیت کی تانبے کی تاریں اور 10 لاکھ ڈالر مالیت کا جدید ڈیٹا سینٹر کا سامان شامل تھا۔

 

اے آئی انفراسٹرکچر کیوں بن گیا چوروں کی پہلی پسند؟

 

گزشتہ چند برسوں میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے ہزاروں ٹن تعمیراتی اور برقی سامان درکار ہوتا ہے، جس میں تانبہ، سرورز، پاور سسٹمز، کولنگ یونٹس، ٹرانسفارمرز اور نیٹ ورکنگ آلات شامل ہیں۔

یہ سامان عموماً مختلف ریاستوں اور شہروں سے تعمیراتی مقامات تک ٹرکوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سپلائی چین کا یہی مرحلہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے، جہاں منظم جرائم پیشہ گروہ منصوبہ بندی کے ساتھ قیمتی سامان چوری کر لیتے ہیں۔

تانبہ ہی کیوں؟

 

اس پوری کہانی کا سب سے اہم کردار تانبہ (Copper) ہے، جو جدید ڈیٹا سینٹرز کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔

سرورز کو بجلی فراہم کرنے، پاور ڈسٹری بیوشن، کولنگ سسٹمز، گراؤنڈنگ اور ہائی وولٹیج کیبلز میں بڑی مقدار میں تانبہ استعمال ہوتا ہے۔ ایک بڑے ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹر میں ہزاروں ٹن تانبہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عالمی منڈی میں تانبے کی بڑھتی ہوئی قیمت نے اسے جرائم پیشہ گروہوں کے لیے انتہائی منافع بخش بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چوری شدہ تانبے کو پگھلا کر یا سکریپ مارکیٹ میں فروخت کر دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا سراغ لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

جی پی یوز کے بجائے تعمیراتی سامان کیوں چرایا جا رہا ہے؟

 

بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں استعمال ہونے والے مہنگے گرافکس پروسیسرز (GPUs) زیادہ قیمتی ہوتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

جدید اے آئی چپس کے سیریل نمبرز، رجسٹریشن اور سپلائی چین کی مکمل نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ ان کی فروخت بھی محدود اور دستاویزی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس تانبے کی تاریں، برقی آلات اور دیگر انفراسٹرکچر کا سامان نسبتاً آسانی سے غیر قانونی مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔

اسی وجہ سے جرائم پیشہ گروہ براہِ راست ڈیٹا سینٹر کے اندر نصب مہنگے سرورز کے بجائے ان کی تعمیر کے دوران منتقل کیے جانے والے سامان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

منظم کارگو چوری کا نیا رجحان

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق یہ وارداتیں کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہیں بلکہ امریکہ بھر میں منظم کارگو چوری کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کئی جرائم پیشہ گروہ جعلی ٹرانسپورٹ کمپنیاں قائم کرتے ہیں، اصل ڈرائیوروں کی شناخت استعمال کرتے ہیں یا جعلی دستاویزات کے ذریعے قیمتی سامان لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔

چونکہ ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے دوران روزانہ سینکڑوں ٹرک مختلف سامان پہنچاتے ہیں، اس لیے مجرموں کے لیے سپلائی چین میں نقب لگانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان

 

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق ہر سال کارگو چوری کے باعث کاروباری اداروں کو 35 ارب ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حالیہ برسوں میں نہ صرف کارگو چوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ خاص طور پر دھاتوں، برقی آلات اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر سے متعلق سامان کی چوری میں بھی غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی حکمت عملی تبدیل ہونے لگی

 

مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ٹیکنالوجی کمپنیاں اور لاجسٹکس ادارے اپنی سیکیورٹی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔

اب قیمتی سامان کی نقل و حمل کے دوران جی پی ایس ٹریکنگ، جیو فینسنگ، ڈرائیوروں کی سخت تصدیق، الیکٹرانک نگرانی اور سپلائی چین کی مسلسل مانیٹرنگ جیسے جدید اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ سامان منزل تک محفوظ طریقے سے پہنچایا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت کا ایک نیا اور غیر متوقع چیلنج

 

مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ نے دنیا کو نئی ٹیکنالوجی، نئے کاروباری مواقع اور معاشی امکانات فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر پہلے کم توجہ دی جاتی تھی۔

جہاں اب تک بحث زیادہ تر اے آئی چپس، بجلی کی بڑھتی طلب اور پانی کے استعمال پر مرکوز تھی، وہیں اب ڈیٹا سینٹرز کی سپلائی چین بھی منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے نشانے پر آ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، لاگت اور تکمیل کے اوقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں