برِاعظم انٹارکٹیکا 26

برِاعظم انٹارکٹیکا کی برف کی تہہ کے نیچے پوشیدہ سرسبز و شاداب وادیاں، پہاڑ اور دریا

زمین کی تاریخ اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے، مگر بعض راز ایسے ہوتے ہیں جو کروڑوں برس تک برف، چٹانوں یا سمندر کی تہوں میں چھپے رہتے ہیں۔

حال ہی میں سائنسدانوں نے مشرقی برِاعظم انٹارکٹیکا کے علاقے ولکس لینڈ میں ایک ایسی ہی حیرت انگیز دریافت کی ہے، جہاں تقریباً ایک میل (1.6 کلومیٹر) موٹی برف کے نیچے ایک قدیم زمینی منظر محفوظ ملا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منظر کم از کم 3 کروڑ 40 لاکھ سال سے تقریباً اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

برف کے نیچے کیا ملا؟

 

جدید سیٹلائٹ ریڈار اور آئس پینیٹریٹنگ ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدانوں نے برف کے نیچے ایسے پہاڑی سلسلے، گہری وادیاں اور دریاؤں کے قدیم راستے دریافت کیے ہیں جو اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب برِاعظم انٹارکٹیکا برف سے نہیں بلکہ نسبتاً گرم اور سرسبز ماحول کا حامل تھا۔

یہ قدیم زمینی منظر اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ لاکھوں سال پہلے یہاں بہتے دریا، بلند و بالا پہاڑ اور نباتاتی زندگی کے لیے سازگار حالات موجود تھے۔

یہ منظر کروڑوں سال تک محفوظ کیسے رہا؟

 

عام طور پر گلیشیئر اپنی حرکت کے دوران نیچے موجود زمین کو گھس کر اس کی شکل تبدیل کر دیتے ہیں، لیکن برِاعظم انٹارکٹیکا کے علاقے ولکس لینڈ کا یہ علاقہ غیر معمولی طور پر سرد اور مستحکم رہا۔ برف کی انتہائی سست رفتار حرکت نے اس قدیم زمینی منظر کو تقریباً جوں کا توں محفوظ رکھا، جس کی وجہ سے سائنسدان آج بھی اس کے خدوخال کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ راز کیسے دریافت کیا؟

 

اس دریافت کے لیے جدید سائنسی آلات کا استعمال کیا گیا، جن میں سیٹلائٹ مشاہدات، آئس پینیٹریٹنگ ریڈار اور ریڈیو ایکو ساؤنڈنگ شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی برف کو کاٹے بغیر اس کے نیچے موجود زمین کی ساخت کا نقشہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے محققین کو کروڑوں سال پرانے زمینی مناظر کا سراغ ملا۔

کیا واقعی وہاں گھنے جنگلات تھے؟

 

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ سال پہلے انٹارکٹیکا کا موسم آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم تھا۔ مختلف سائنسی تحقیقات میں قدیم درختوں، پودوں اور جرگ (پولن) کے شواہد مل چکے ہیں، جو اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ماضی میں یہ براعظم سرسبز اور زندگی سے بھرپور تھا۔

تاہم اس نئی تحقیق میں براہِ راست جنگلات دریافت نہیں ہوئے، بلکہ زمین کی ساخت سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں ایسے حالات موجود تھے جہاں نباتات اور دریا پائے جاتے تھے۔

اس دریافت کی اہمیت کیا ہے؟

 

ماہرین کے نزدیک یہ دریافت صرف ایک قدیم زمینی منظر کی بازیافت نہیں بلکہ زمین کی موسمیاتی تاریخ کو سمجھنے کی ایک اہم کڑی ہے۔

اس تحقیق سے سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انٹارکٹیکا کس طرح ایک سرسبز خطے سے دنیا کے سب سے بڑے برفانی براعظم میں تبدیل ہوا، اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی برفانی چادروں اور سمندری سطح پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

کیا برف پگھلنے سے کوئی "گمشدہ دنیا” سامنے آئے گی؟

 

اگرچہ یہ خیال دلچسپ ہے، لیکن سائنسدان اس بارے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ برف کے نیچے محفوظ یہ قدیم زمین کسی گمشدہ تہذیب یا مکمل محفوظ جنگل پر مشتمل نہیں، بلکہ ایک قدیم زمینی منظر ہے جس میں پہاڑ، وادیاں اور دریاؤں کے آثار موجود ہیں۔

اگر مستقبل میں برف میں بڑی تبدیلی آئے تو ان قدرتی خدوخال کا مزید تفصیلی مطالعہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اس سے متعلق کسی سنسنی خیز دعوے کی تاحال سائنسی بنیاد موجود نہیں۔

ولکس لینڈ میں برف کے نیچے محفوظ یہ قدیم زمینی منظر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہماری زمین مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف کروڑوں سال پرانے ماحول کی جھلک پیش کرتی ہے بلکہ مستقبل کی موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ سائنسدانوں کے لیے یہ دریافت ماضی کے ایک ایسے باب کی کھڑکی ہے جسے اب تک برف نے خاموشی سے اپنے دامن میں چھپا رکھا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں