فیفا 28

ٹرمپ کے فون پر فیفانے قوانین بدل ڈالے

عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا (FIFA) ہمیشہ خود کو سیاست سے بالاتر اور کھیل کی غیرجانبداری کی علامت قرار دیتی رہی ہے، مگر 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران سامنے آنے والا ایک فیصلہ اس دعوے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

امریکی فارورڈ فلورین (فولارن) بالوگن کو ریڈ کارڈ ملنے کے بعد اگلے میچ کی خودکار معطلی کا سامنا تھا، لیکن حیران کن طور پر فیفا نے اس معطلی کے نفاذ کو ایک سال کے لیے مؤخر کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف ناک آؤٹ مرحلے کا انتہائی اہم میچ کھیلنے کے اہل قرار پائے۔

اس فیصلے سے صرف ایک کھلاڑی کی قسمت نہیں بدلی بلکہ عالمی فٹبال میں انصاف، شفافیت اور سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

معاملہ کیا ہے؟

امریکا اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان میچ میں امریکی اسٹرائیکر فولارن بالوگن کو ایک سخت ٹیکل پر وی اے آر (VAR) جائزے کے بعد سیدھا ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔

فیفا کے مقابلہ جاتی قوانین کے مطابق سیدھے ریڈ کارڈ کے بعد اگلے میچ کی خودکار معطلی لازم ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بالوگن کو بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر تصور کیا جا رہا تھا۔

تاہم چند ہی دن بعد صورتحال نے غیر متوقع رخ اختیار کیا۔

ٹرمپ کی فون کال اور پھر فیفا کا غیر معمولی فیصلہ

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کیا اور بالوگن کے معاملے پر نظرثانی کی درخواست کی۔

اس کے بعد فیفا نے اعلان کیا کہ وہ بالوگن کی معطلی ختم نہیں کر رہی بلکہ اس کے نفاذ کو اپنے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت ایک سال کے لیے معطل کر رہی ہے۔

اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی اسٹرائیکر بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترنے کے اہل ہوگئے، جبکہ سزا مستقبل کے لیے مؤخر کردی گئی۔

یہ اقدام فیفا کی تاریخ کے غیر معمولی فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یورپ کا شدید ردعمل

فیصلے کے بعد سب سے سخت ردعمل یورپی فٹبال اداروں کی جانب سے سامنے آیا۔

یوفا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ریڈ کارڈ کے بعد خودکار معطلی جیسے بنیادی اصول بھی استثنا کا شکار ہونے لگیں تو مقابلے کی ساکھ متاثر ہوگی۔

بیلجیئم فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہر ٹیم کے لیے قوانین یکساں نہیں رہتے تو عالمی مقابلوں کی شفافیت متاثر ہوگی۔ تنظیم نے قانونی کارروائی سمیت مختلف آپشنز کا جائزہ لینے کا اعلان بھی کیا۔

کیا سپر پاور ہونے کا فائدہ ملا؟

یہ وہ سوال ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے۔

اگر یہی واقعہ کسی نسبتاً کمزور یا چھوٹے فٹبال ملک کے ساتھ پیش آتا تو کیا فیفا اسی رفتار سے فیصلہ کرتی؟

کیا کسی افریقی، ایشیائی یا لاطینی امریکی ٹیم کو بھی یہی رعایت ملتی؟

اگر کسی کمزور ملک کا صدر فیفا صدر کو فون کرتا تو کیا نتیجہ بھی یہی نکلتا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب فیفا کے پاس فی الحال موجود نہیں۔

سیاست اور کھیل کی باریک سرحد

فیفا کے قوانین واضح طور پر کھیل میں حکومتی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں۔

ماضی میں متعدد ممالک کی فٹبال فیڈریشنز کو صرف اس بنیاد پر معطل کیا جا چکا ہے کہ وہاں حکومتی مداخلت ہوئی تھی۔

اسی لیے موجودہ معاملہ مزید حساس بن گیا ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق اگر دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر کی درخواست کے فوراً بعد ایسا فیصلہ سامنے آتا ہے تو غیرجانبداری کے دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔

فیفا اگرچہ اسے اپنے ضابطوں کے اندر لیا گیا انتظامی فیصلہ قرار دے رہی ہے، لیکن تاثر یہ پیدا ہو رہا ہے کہ عالمی سیاست کھیل کے میدان تک پہنچ چکی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایک نئی مثال قائم ہوگئی ہے۔

اب اگر آئندہ کسی اور ٹیم کے کھلاڑی کو اسی نوعیت کی سزا ملتی ہے تو وہ بھی اسی قسم کی رعایت کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو فیفا پر امتیازی سلوک کے الزامات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

فیفا کے لیے سب سے بڑا امتحان

اس واقعے نے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے۔

کیا فیفا واقعی دنیا کے تمام رکن ممالک کے لیے یکساں اصول نافذ کرتی ہے، یا عالمی طاقتوں کے دباؤ میں قواعد کی تشریح بھی بدل سکتی ہے؟

یہ معاملہ صرف فولارن بالوگن کے کھیلنے یا نہ کھیلنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب بحث عالمی کھیلوں کی حکمرانی، ادارہ جاتی خودمختاری اور سیاسی اثر و رسوخ تک پہنچ چکی ہے۔

فیفا نے اگرچہ اپنے فیصلے کو قانونی قرار دیا ہے، لیکن دنیا بھر میں ہونے والی تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی فٹبال کی غیرجانبداری پہلی بار اس شدت سے عوامی بحث کا موضوع بنی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فیفا گزشتہ سال ٹرمپ پو فیفا امن انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں