پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات کے مشروط بائیکاٹ کے اعلان نے ملک کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات ممکن نہیں، اس لیے انتخابی عمل میں شرکت کشمیری عوام کے ساتھ انصاف نہیں ہوگی۔ دوسری جانب سیاسی مخالفین اسے عوامی عدالت سے گریز قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر الیکشن بائیکاٹ پر پی ٹی آئی کا مؤقف
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی، احتجاج، سیاسی گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر مبینہ پابندیوں اور مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) سے متعلق صورتحال نے انتخابی ماحول کو متاثر کیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ جب تک سیاسی استحکام، تمام جماعتوں کے لیے یکساں مواقع اور عوامی مطالبات کے حل کی جانب پیش رفت نہیں ہوتی، کشمیر الیکشن میں حصہ لینا مناسب نہیں ہوگا۔ اسی فیصلے کے تحت پارٹی نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا عمل بھی روک دیا ہے۔
بائیکاٹ کا سیاسی فائدہ یا نقصان؟
جمہوری سیاست میں انتخابات کو عوامی حمایت جانچنے کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بڑی جماعت انتخابی میدان سے باہر رہتی ہے تو اس سے اس کے حریفوں کے لیے سیاسی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماضی کی پاکستانی سیاست میں بھی کئی انتخابی بائیکاٹس ایسے رہے جن کے نتیجے میں اسمبلیوں میں متعلقہ جماعتوں کی نمائندگی محدود ہو گئی۔
اسی تناظر میں بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی واقعی آزاد کشمیر کی مقبول ترین جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اس دعوے کی سب سے مضبوط تصدیق انتخابی میدان میں ہی ہو سکتی تھی۔ اس لئے پی ٹی آئی کو کشمیر الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔
کیا یہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہے؟
ایک رائے یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی نے مکمل اور حتمی بائیکاٹ کے بجائے "مشروط بائیکاٹ” کا اعلان کرکے اپنے لیے واپسی کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ اگر حکومت انتخابی شیڈول یا سیاسی ماحول سے متعلق کوئی پیش رفت کرتی ہے تو پارٹی اپنے فیصلے پر نظرثانی بھی کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ اعلان سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
مخالف جماعتوں کا اعتراض
حکومتی اتحاد اور دیگر سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انتخابات سے دستبرداری جمہوری عمل کو کمزور کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی جماعت کو اپنی عوامی مقبولیت پر یقین ہے تو اسے انتخابی میدان میں آکر ووٹ کے ذریعے اپنی طاقت ثابت کرنی چاہیے، نہ کہ بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اصل امتحان کس کا ہوگا؟
آزاد کشمیر کے انتخابات اب صرف نشستوں کی دوڑ نہیں رہے بلکہ انتخابی ماحول، سیاسی آزادی، عوامی اعتماد اور جمہوری عمل کی ساکھ بھی اس بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر موجودہ کشیدگی کم ہوتی ہے اور پی ٹی آئی انتخابات میں واپس آتی ہے تو سیاسی مقابلہ مزید دلچسپ ہو سکتا ہے، جبکہ اگر بائیکاٹ برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف انتخابی نتائج بلکہ مستقبل کی کشمیر سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا مشروط بائیکاٹ ایک ایسا فیصلہ ہے جسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی اسے اصولی اور عوامی مفاد پر مبنی مؤقف قرار دیتی ہے، جبکہ مخالفین اسے سیاسی رسک اور انتخابی میدان سے پسپائی کہتے ہیں۔ تاہم اس فیصلے کی کامیابی یا ناکامی کا حقیقی اندازہ اسی وقت ہوگا جب انتخابی عمل آگے بڑھے گا اور یہ واضح ہوگا کہ آیا سیاسی حالات میں بہتری آتی ہے یا نہیں۔
