سلیم الاشقر 21

اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی فٹبالر سلیم الاشقر شہید

غزہ میں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ روز بروز سمٹتا جا رہا ہے۔ یہاں اب صرف عمارتیں ہی نہیں گرتیں، بلکہ خواب، خاندان، پیشے اور مستقبل بھی ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں۔

اسی سلسلے کی ایک اور دل دہلا دینے والی داستان فلسطینی فٹبالر اور گول کیپر سلیم خضر الاشقر کی ہے، جنہیں جنوبی غزہ کے علاقے القرارہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے قتل کر دیا گیا۔

اس واقعہ پر فیفا کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ فلسطین فٹبال فیڈریشن نے واقعہ پر فیفا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔

 

سلیم الاشقر جنگجو نہیں کھلاڑی تھے

32 سالہ سلیم الاشقر کسی جنگجو تنظیم کے رکن نہیں تھے، بلکہ وہ غزہ کے معروف کلب خدمات خان یونس کے گول کیپر تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں الاقصیٰ اسپورٹس کلب اور المصدر اسپورٹس کلب کی بھی نمائندگی کی۔

ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت باب شاید ابھی شروع ہی ہوا تھا۔ صرف پانچ ماہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی اور ان کی اہلیہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کی منتظر ہیں۔ لیکن ایک گولی نے ایک باپ بننے والے شخص کا مستقبل، ایک عورت کا سہارا اور ایک آنے والے بچے کا باپ ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔

یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ اس انسانی المیے کی علامت ہے جو برسوں سے غزہ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ کھیل ہمیشہ امن، امید اور نوجوان نسل کے خوابوں کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر غزہ میں کھیل کے میدان بھی جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

فلسطین میں جان گنوانے والی کھلاڑی

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی کھلاڑی اور کھیلوں سے وابستہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں سینکڑوں فٹبالرز بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور بین الاقوامی میڈیا نے انہیں نقل کیا ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً جنیوا کنونشنز، مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔ اگر کسی شہری کو جان بوجھ کر یا غیرقانونی طور پر نشانہ بنایا جائے تو ایسے واقعات جنگی جرائم (War Crimes) کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

سلیم الاشقر کے معاملے میں فلسطینی حکام اور متعدد میڈیا اداروں نے اسرائیلی فوج کو ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ اس واقعے پر اسرائیلی فوج کا کوئی تفصیلی عوامی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

سلیم الاشقر کی تصویر دیکھ کر شاید کسی کو صرف ایک فٹبالر نظر آئے، مگر حقیقت میں وہ ایک شوہر تھے، ایک ہونے والے باپ تھے، اپنے خاندان کی امید تھے اور غزہ کے ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ایک تھے جو کھیل کے ذریعے اپنی شناخت بنانا چاہتے تھے۔ ان کی موت یہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ جب جنگ میں کھلاڑی، ڈاکٹر، صحافی، اساتذہ اور بچے بھی محفوظ نہ رہیں تو پھر انسانی قوانین کی اصل روح کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

غزہ کی سرزمین پر شاید ایک اور گول کیپر خاموش ہو گیا، مگر اس کی کہانی دنیا کے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرتی رہے گی کہ کیا جنگ میں بھی انسانیت کے لیے کوئی حد باقی ہے، یا پھر ہر نئی صبح ایک اور خواب کے خون سے لکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں