مصنوعی ذہانت 15

مصنوعی ذہانت اور پانی: ترقی کی وہ قیمت جس پر کم بات ہوتی ہے

مصنوعی ذہانت نے دنیا میں ایک نئی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ چند لمحوں میں سوالوں کے جواب، تصاویر کی تیاری، ویڈیوز کی تدوین، ترجمہ اور معلومات کا تجزیہ—یہ سب کام اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

لیکن اس تیز رفتار ترقی کے پیچھے صرف بجلی اور کمپیوٹر ہی نہیں، بلکہ پانی بھی استعمال ہو رہا ہے۔

 

آخر مصنوعی ذہانت کو پانی کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

 

مصنوعی ذہانت خود پانی استعمال نہیں کرتی، بلکہ اسے چلانے والے بڑے مراکز پانی استعمال کر سکتے ہیں۔

ان مراکز میں ہزاروں طاقتور کمپیوٹر اور مشینی چِپس مسلسل کام کرتی ہیں۔ یہ مشینیں بہت زیادہ حرارت پیدا کرتی ہیں۔ اگر اس حرارت کو ختم نہ کیا جائے تو مشینیں گرم ہو کر خراب ہو سکتی ہیں۔

اسی لیے انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے مختلف نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔

بعض مراکز میں پانی کے ذریعے حرارت کم کی جاتی ہے۔ پانی حرارت جذب کرتا ہے اور پھر اس کا کچھ حصہ بھاپ بن کر فضا میں چلا جاتا ہے۔

یعنی جس طرح گاڑی کے انجن کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نظامِ تبرید ضروری ہوتا ہے، اسی طرح بڑے کمپیوٹر مراکز کو بھی مسلسل ٹھنڈا رکھنا پڑتا ہے۔

کیا ہر کمپیوٹر مرکز اتنا ہی پانی استعمال کرتا ہے؟

 

نہیں۔ پانی کا استعمال اس بات پر منحصر ہے کہ مرکز کہاں قائم ہے، وہاں موسم کیسا ہے اور اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے کون سا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

کچھ جدید مراکز ایسے نظام استعمال کر رہے ہیں جن میں پانی بار بار گردش کرتا ہے اور تازہ پانی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر مصنوعی ذہانت کا نظام ایک ہی مقدار میں پانی استعمال کرتا ہے۔

پانی صرف ٹھنڈا کرنے کے لیے ہی نہیں لگتا

 

یہ معاملہ اس سے بھی بڑا ہے۔ ان مراکز کو چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے بعض طریقوں میں بھی پانی استعمال ہوتا ہے۔

چنانچہ مصنوعی ذہانت کے پانی کے اثرات کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے:

براہِ راست استعمال: کمپیوٹر مراکز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی۔

بالواسطہ استعمال: ان مراکز کو بجلی فراہم کرنے کے دوران استعمال ہونے والا پانی۔

اسی وجہ سے مختلف تحقیقات میں پانی کے استعمال کے مختلف اعداد سامنے آتے ہیں۔

2025 میں کتنا پانی استعمال ہوا؟

 

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ حالیہ تحقیق اور تجزیوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2025 میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مراکز کا پانی کا استعمال تقریباً 312.5 ارب سے 764.6 ارب لیٹر کے درمیان ہو سکتا ہے۔

اس حساب کے درمیان تقریباً 560 ارب لیٹر کا عدد آتا ہے۔

لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ تخمینہ ہے، براہِ راست دنیا بھر کے تمام مراکز سے حاصل کیا گیا حتمی شمار نہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طرف سے ہر مرکز کے پانی کے استعمال کی مکمل معلومات عوامی طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ پانی کے حساب میں یہ فرق بھی پڑتا ہے کہ صرف مرکز کے اندر استعمال ہونے والا پانی شمار کیا جائے یا بجلی پیدا کرنے میں استعمال ہونے والا پانی بھی شامل کیا جائے۔

 

دنیا میں دوسری طرف کیا صورتِ حال ہے؟

 

یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں آج بھی کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسان محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کی تازہ مشترکہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا کے تقریباً 2.1 ارب افراد کو محفوظ طریقے سے فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں تھی۔

ان میں تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ افراد ایسے بھی تھے جو براہِ راست دریاؤں، جھیلوں یا پانی کے دوسرے غیر محفوظ کھلے ذرائع سے پانی پیتے تھے۔

یعنی ایک طرف دنیا مصنوعی ذہانت کو مزید طاقتور بنانے کے لیے بڑے بڑے مراکز قائم کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک چوتھائی انسانیت اب بھی محفوظ پینے کے پانی کی مکمل سہولت سے محروم ہے۔

 

کیا مصنوعی ذہانت لوگوں کا پینے کا پانی چھین رہی ہے؟

 

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال براہِ راست ان 2.1 ارب لوگوں کا پانی چھین رہا ہے۔

اصل مسئلہ پانی کے وسائل پر مقامی دباؤ کا ہے۔ اگر کوئی بہت بڑا کمپیوٹر مرکز ایسے علاقے میں قائم کیا جائے جہاں پہلے ہی پانی کی شدید کمی ہو، تو وہاں اس مرکز کی اضافی پانی کی ضرورت مقامی آبادی، زراعت اور دوسرے شعبوں کے ساتھ مقابلہ پیدا کر سکتی ہے۔

اسی لیے ماہرین اب صرف یہ نہیں دیکھ رہے کہ مصنوعی ذہانت کتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس ترقی کے لیے پانی اور توانائی کہاں سے آ رہی ہے۔

اصل سوال مصنوعی ذہانت نہیں، اس کا طریقۂ استعمال ہے

 

مصنوعی ذہانت کو روکنا شاید مسئلے کا حل نہیں۔ یہ طب، تعلیم، زراعت، تحقیق اور بہت سے دوسرے شعبوں میں انسانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ترقی کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں؟

اگر ایک طرف ہم ایسی مشینیں بنا رہے ہیں جو انسانوں کے پیچیدہ مسائل حل کر سکتی ہیں، تو دوسری طرف ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ان مشینوں کو چلانے کے لیے قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال نہ ہو۔

مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف زیادہ طاقتور مشینوں کا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کم پانی، کم توانائی اور کم ماحولیاتی نقصان والی ٹیکنالوجی کا بھی ہونا چاہیے۔

اور شاید یہی وہ سوال ہے جس پر آج سے سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے:

ہم مصنوعی ذہانت کو کتنا ذہین بنا رہے ہیں، اور اسے قدرتی وسائل کے استعمال میں کتنا ذمہ دار بنا رہے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں