نان فائلر 21

نان فائلر انفلوئنسرز پر دگنا ٹیکس کر دیا گیا

پاکستان میں اب سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام ہزاروں پاکستانیوں کے لیے روزگار، کاروبار اور زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ لیکن اب اس ڈیجیٹل کمائی پر حکومت کی نظر بھی پڑ چکی ہے۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کے لیے نیا ودہولڈنگ ٹیکس نظام نافذ کر دیا ہے۔

یکم جولائی 2026 سے Active Taxpayers List یعنی ATL میں شامل کریئیٹرز کی سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد جبکہ Non-ATL کریئیٹرز کی آمدن پر 10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا۔ یوں نان فائلر یا نان-ATL افراد کے لیے شرح فائلرز کے مقابلے میں دگنی ہے۔

یہ تبدیلی Finance Act 2026 کے بعد جاری کیے گئے FBR کے نئے Withholding Tax Card میں شامل کی گئی ہے۔ اس کا تعلق Income Tax Ordinance کے Section 154B سے ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس کے دائرے میں لاتا ہے۔

حکومت کا مؤقف: سب کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے

 

حکومت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس فیصلے کی ایک مضبوط وجہ موجود ہے۔

اگر ایک شخص روایتی کاروبار یا ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس ادا کرتا ہے تو لاکھوں روپے آن لائن کمانے والے شخص کو مکمل طور پر ٹیکس سے باہر رکھنا بھی قابلِ جواز نہیں۔

ڈیجیٹل معیشت اب اتنی بڑی ہو چکی ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کا مقصد سوشل میڈیا آمدن کو دستاویزی بنانا اور ان افراد کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے جو ابھی تک اس نظام سے باہر ہیں۔

مسئلہ ٹیکس لگانے کا نہیں، ٹیکس لگانے کے طریقہ کار کا ہے۔

نان فائلر کے لیے 10 فیصد کیوں؟

 

حکومت نے فائلر اور نان فائلر کے درمیان واضح فرق رکھا ہے۔

ATL میں شامل کریئیٹر سے سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لیا جائے گا، جبکہ ATL میں شامل نہ ہونے والے کریئیٹر سے 10 فیصد کٹوتی ہوگی۔

اس کا مقصد واضح طور پر لوگوں کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور Active Taxpayers List میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا ہر نان فائلر لازماً ٹیکس چور ہے؟ ضروری نہیں۔

بہت سے نوجوان کریئیٹرز ابھی اپنے ڈیجیٹل سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ کچھ کی آمدن معمولی اور غیر مستقل ہے، کچھ طالب علم ہیں، جبکہ کئی لوگ ٹیکس نظام کی پیچیدگی سے ہی واقف نہیں۔

ایسے افراد سے دگنا ٹیکس وصول کرنا انہیں فائلر بنانے کی ترغیب بھی دے سکتا ہے، لیکن اگر طریقہ کار پیچیدہ رہا تو یہی پالیسی انہیں رسمی معیشت سے مزید دور بھی کر سکتی ہے۔

اصل مسئلہ: آمدن اور منافع میں فرق

 

یہاں حکومت کو ایک بنیادی معاشی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا سے آنے والی پوری رقم لازماً منافع نہیں ہوتی۔

ایک پروفیشنل کریئیٹر کو کیمرہ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، اسٹوڈیو، ایڈیٹر، گرافک ڈیزائنر، سافٹ ویئر، سفر اور دیگر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

فرض کریں ایک کریئیٹر کو ایک سال میں 20 لاکھ روپے موصول ہوئے، لیکن اس نے مواد تیار کرنے پر 12 لاکھ روپے خرچ کیے۔ اس کی حقیقی کاروباری آمدن 8 لاکھ روپے بنتی ہے، 20 لاکھ نہیں۔

ایسے میں رقم وصول ہوتے ہی withholding tax کاٹنے سے اس کے cash flow پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

KPMG کے مطابق Section 154B کے تحت یہ withholding resident creators کے لیے minimum tax کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ بعض non-resident cases میں اسے final tax تصور کیا جاتا ہے۔

یہ ایک ایسی پیچیدگی ہے جسے عام کریئیٹر کے لیے آسان زبان میں سمجھانا ضروری ہے۔

بڑے انفلوئنسر اور چھوٹے کریئیٹر کو ایک ترازو میں کیوں؟

 

ایک ایسا انفلوئنسر جو ہر ماہ لاکھوں روپے کماتا ہے اور ایک طالب علم جو چند ہزار روپے کمانے کے لیے یوٹیوب چینل چلا رہا ہے، دونوں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا دانشمندانہ پالیسی نہیں۔

پاکستان میں ڈیجیٹل کریئیٹرز کی ایک بڑی تعداد ابھی چھوٹے پیمانے پر کام کر رہی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ:

  • کم آمدن والے کریئیٹرز کے لیے مناسب tax threshold مقرر کرے؛
  • چھوٹے کریئیٹرز کے لیے آسان ٹیکس ریٹرن متعارف کرائے؛
  • جائز کاروباری اخراجات کو مناسب طریقے سے تسلیم کرے؛
  • اور بڑے کمرشل انفلوئنسرز کو مکمل ٹیکس نظام میں لائے۔

اس طرح حکومت کو بھی آمدن ملے گی اور ڈیجیٹل کاروبار کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہوگی۔

 

بینکوں کے ذریعے ٹیکس کٹوتی: ایک اور بڑا سوال

 

نئے نظام میں بینک اور متعلقہ مالیاتی ادارے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کٹوتی کے اہم کردار میں آتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بینک کیسے یقینی بنائے گا کہ بیرون ملک سے آنے والی ہر مخصوص ڈیجیٹل ادائیگی واقعی سوشل میڈیا آمدن ہے؟

ایک ہی شخص کو مختلف ذرائع سے ادائیگیاں مل سکتی ہیں۔ وہ YouTube کے ساتھ ساتھ freelancing، digital marketing، consultancy یا کسی دوسرے آن لائن کاروبار سے بھی آمدن حاصل کر سکتا ہے۔

اگر کسی ادائیگی کی غلط classification ہوگئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

ایک عام کریئیٹر کے لیے پہلے ٹیکس کٹ جانا اور بعد میں اس کی وضاحتیں دینا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

اسی لیے FBR کو واضح اور شفاف identification mechanism دینا ہوگا۔

کیا یہ فیصلہ ڈیجیٹل معیشت کو نقصان پہنچائے گا؟

 

ضروری نہیں۔اگر اس پالیسی کو شفاف، منصفانہ اور آسان بنایا جائے تو یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو زیادہ دستاویزی اور منظم بنا سکتی ہے۔

لیکن اگر حکومت کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ withholding tax وصول کرنا بن گیا تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل کریئیٹر صرف ایک شخص نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ویڈیو ایڈیٹر، گرافک ڈیزائنر، کیمرہ مین، سوشل میڈیا مینیجر، رائٹر اور دیگر افراد بھی روزگار حاصل کرتے ہیں۔

ایک کامیاب creator economy دراصل ایک پوری چھوٹی صنعت کو جنم دیتی ہے۔

اس لیے حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آج 10 فیصد ٹیکس سے کتنا ریونیو آیا سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کل اس پالیسی کے نتیجے میں کتنے نئے ڈیجیٹل کاروبار پیدا ہوئے؟

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں