کراچی میں مبینہ منشیات نیٹ ورک کے حوالے سے کئی ماہ تک خبروں میں رہنے والی انمول عرف پنکی ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ گرفتاری یا پولیس کے دعوے نہیں بلکہ عدالت سے بریت ہے۔
13 اگست 2026 کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے گزری تھانے میں درج 2021 کے منشیات کے مقدمے میں انمول پنکی کی بریت کی درخواست منظور کرلی۔
عدالت میں دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس مقدمے میں انمول کو شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر نامزد کیا گیا تھا، جبکہ مقدمے کے دو شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے تھے۔ عدالت نے استغاثہ کے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسے اس مقدمے سے بری کردیا۔ لیکن یہ کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔
2019 سے مقدمات، پھر 2020، 2021 اور 2022 کی کارروائیاں
دستیاب پولیس اور عدالتی ریکارڈ سے متعلق میڈیا رپورٹس کے مطابق انمول پنکی کا نام کراچی میں منشیات کے مختلف مقدمات میں کئی سال پہلے سامنے آچکا تھا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس نے 2019 میں کلفٹن میں ایک مقدمہ درج کیا، جس میں انمول کو بعد میں مفرور قرار دیا گیا جبکہ ان کے بھائی محمد ناصر کو عدالت سے بریت مل گئی۔ ایک الگ گزری تھانے کے مقدمے میں بھی انمول کو مفرور قرار دیا گیا جبکہ دیگر ملزمان بری ہوگئے۔
پولیس کے مطابق انمول کے خلاف گزری تھانے میں 2020، 2021 اور 2022 کے دوران بھی متعدد مقدمات درج ہوئے، لیکن وہ ان کیسز میں طویل عرصے تک پولیس کی گرفت سے باہر رہیں۔
مئی 2026 میں کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ انمول سے متعلق مقدمات کی تعداد 20 تک پہنچ چکی تھی، جبکہ بعض پرانے کیسز میں وہ مفرور یا اشتہاری قرار دی گئی تھیں۔
11 مئی 2026 کو انمول عرف پنکی کی اچانک گرفتاری
کئی سال تک مختلف مقدمات میں مطلوب رہنے کے بعد مئی 2026 میں انمول پنکی کی گرفتاری نے پورے ملک میں توجہ حاصل کرلی۔
پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں کراچی کے علاقے گارڈن میں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے وقت منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا، جبکہ بعد کی تفتیش میں ان کے خلاف موجود پرانے مقدمات میں بھی انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا۔
یہ وہ مرحلہ تھا جب انمول پنکی کا نام صرف ایک پرانے مقدمے کی ملزمہ کے طور پر نہیں بلکہ کراچی میں مبینہ منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کی تحقیقات کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا۔
پولیس کے بڑے دعوے
گرفتاری کے بعد پولیس نے انمول پنکی کے مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں کئی بڑے دعوے کیے۔
کراچی پولیس کے سربراہ نے مئی میں بتایا کہ ایک وسیع تحقیقات شروع کی گئی ہے جس میں سندھ اور پنجاب پولیس کے علاوہ اے این ایف، ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق انمول کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے میں سیکڑوں نمبرز سامنے آئے، جن میں پولیس نے متعدد نمبرز کو مبینہ صارفین سے جوڑا۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مبینہ نیٹ ورک کراچی سے باہر دوسرے شہروں تک پھیلا ہوا تھا۔
گارڈن کے مقدمے کے ابتدائی چالان میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ انمول کی گرفتاری کے وقت ایک بڑی مقدار میں تیار شدہ کوکین، کیپسول، نقد رقم اور منشیات کی تیاری سے متعلق سامان برآمد ہوا۔ اس مقدمے میں 16 گواہوں کو بھی نامزد کیا گیا۔
یہ تمام باتیں پولیس کے الزامات اور تفتیشی دعوے تھے، جنہیں عدالت میں ثابت ہونا ابھی ضروری تھا۔
گرفتاری کے بعد عدالتوں کا سلسلہ
گرفتاری کے بعد انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش کیا گیا۔
مئی میں مختلف مقدمات میں جسمانی ریمانڈ لیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے اسے متعدد مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ 22 مئی کو عدالت نے تفتیشی افسران کو مقدمات کے چالان مکمل کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
یعنی گرفتاری کے وقت جو تاثر سامنے آیا تھا کہ اب تمام مقدمات میں قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھے گی، حقیقت میں اس کے بعد اصل امتحان تفتیش، شواہد اور پراسیکیوشن کا تھا۔
جولائی میں فردِ جرم کی تیاری
10 جولائی 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں انمول پنکی کے خلاف گزری تھانے کے چھ مقدمات کی سماعت ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق ان مقدمات کے چالان اور گواہوں کے بیانات کی نقول ملزمہ کو جیل میں فراہم کردی گئی تھیں اور عدالت نے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی تھی۔
یہ مقدمات 2020، 2021 اور 2022 میں درج کیے گئے تھے اور پولیس کے مطابق انمول ان میں طویل عرصے تک مفرور رہی تھیں۔
اور پھر اگست میں عدالت سے بریت
اب کہانی نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ 13 اگست کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے گزری تھانے کے 2021 کے منشیات مقدمے میں انمول پنکی کی بریت کی درخواست منظور کرلی۔
دفاع کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ انمول کو شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ وہ شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے تھے۔ عدالت کے سامنے استغاثہ انمول کے خلاف ایسا قابلِ اعتماد مواد پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھایا جاسکے۔
اے اے جے نیوز نے اسی روز رپورٹ کیا کہ عدالت نے انمول پنکی کو تین مقدمات میں بری کیا، جبکہ دیگر رپورٹس نے خاص طور پر 2021 کے گزری مقدمے میں بریت کی تصدیق کی ہے۔
تو کیا انمول پنکی تمام مقدمات سے بری ہوگئی؟
نہیں۔ یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم قانونی نکتہ ہے۔ ایک یا چند مقدمات میں بریت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ملزم کے خلاف موجود تمام مقدمات ختم ہوگئے۔
انمول پنکی کے خلاف مختلف تھانوں اور اداروں سے متعلق متعدد مقدمات کا ریکارڈ سامنے آچکا ہے۔ بعض مقدمات میں وہ پہلے ہی بری ہوچکی تھیں، بعض میں مفرور قرار دی گئی تھیں، جبکہ بعض مقدمات کی کارروائی 2026 میں گرفتاری کے بعد دوبارہ آگے بڑھی۔
لہٰذا آج کی عدالتی پیش رفت کو "انمول پنکی تمام مقدمات سے بری ہوگئی” کہنا درست نہیں ہوگا۔
انمول عرف پنکی کی کہانی کا سب سے اہم پہلو صرف یہ نہیں کہ ایک مبینہ منشیات فروش گرفتار ہوئی اور پھر ایک مقدمے میں بری ہوگئی۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے خلاف برسوں تک متعدد مقدمات درج رہے، اسے مفرور یا اشتہاری قرار دیا گیا، پھر گرفتاری کے بعد پولیس نے ایک بڑے نیٹ ورک کے دعوے کیے، تو ان مقدمات میں مضبوط، قابلِ قبول اور عدالت میں ثابت ہونے والے شواہد کہاں ہیں؟
