مغربی ممالک میں صحت کے نظام کو بنیادی انسانی حقوق (Basic Human Rights) کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں حکومت ہر شہری کو صحت کی بنیادی سہولیات مفت یا پھر انتہائی کم خرچ پر مہیا کرتی ہے۔
ان ممالک میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، شمالی امریکہ اور کینیڈا سر فہرست ہیں اور تقریباً ان تمام ممالک میں سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا واضح تصور موجود ہے۔
ان ممالک کے سرکاری ہسپتالوں کا نظام اتنا مضبوط اور معیاری ہے کہ کسی کو پرائیویٹ ہسپتالوں پر انحصار کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
یہ ممالک اپنی جی ڈی پی میں سے صحت کے لیے سالانہ 8 سے 13 فیصد کا بجٹ مختص کرتے ہیں۔
پاکستان کا نظامِ صحت بمقابلہ دنیا
دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا نظام موجود ہے۔ سرکاری ہسپتال کم قیمت یا بالکل مفت خدمات سر انجام دیتے ہیں لیکن ادویات، آلات، عملہ اور سہولیات کی کمی کی شکایات اکثر لوگوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
پاکستان میں جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں وہاں ان کے لیے پرائیویٹ علاج کرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
حال ہی میں پنجاب میں بنیادی صحت مرکز کو پبلک پرائیویٹ ایکٹ کے تحت ٹھیکیداروں کو دے دیا گیا ہے جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ صحت جیسے بنیادی حقوق بھی اگر حکومت فراہم نہیں کر سکتی اور ان کو ہی پرائیویٹ کرنا ہے تو حکومت کا خود کیا کام ہے بس اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنا ہی ان کا مقصد ہے۔
پنجاب میں صحت کے نظام میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ ہسپتال جن کو ہم بیسیوں سال سے بنیادی مراکز صحت کہتے آئے ہیں ان کا نام تبدیل کر کے مریم نواز ہیلتھ کلینک رکھ دیا گیا۔ یاد رہے کہ ان مراکز کا قیام 1961 میں عمل میں لایا گیا یعنی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی پیدائش سے بھی پہلے۔
نظام صحت کے دو بڑے منصوبے
اگر ملک کے نظامِ صحت میں آج تک کوئی عوام کی بہتری کے لیے یا عملی طور پر کوئی منصوبے لائے گئے ہیں تو ان میں یہ دو منصوبے سر فہرست ہیں۔
پہلا منصوبہ وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہی کے دور حکومت میں پنجاب میں ریسکیو 1122 کا منصوبہ لایا گیا جو ایک بہترین اقدام تھا اور آج تک ہزاروں نہیں شاید لاکھوں لوگوں کی اس سے جانیں بچائی جا چکی ہیں۔
دوسرا وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں "نیا قومی صحت کارڈ” منصوبہ لایا گیا جس میں کوئی بھی خاندان سالانہ 10 لاکھ تک کا مفت علاج کرا سکتا تھا۔
International Journal of Environmental Research and Public Health ایک عالمی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق اور ڈان کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2016 سے 2024 تک اس منصوبے کے تحت لاکھوں افراد نے مفت علاج کی سہولت حاصل کی۔ یہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کا ایک منصوبہ تھا، جو عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے نہایت مؤثر ثابت ہوا اور ملک کے صحت کے نظام میں ایک اہم پیش رفت سمجھا گیا۔
پاکستان میں صحت کا نظام کمزور کیوں
پاکستان میں نظامِ صحت کمزور ہونے کی سے بڑی وجہ پاکستانی حکومت کا صحت کے لیے مختص کیا گیا کم ترین بجٹ ہے۔ پاکستان اپنے جی ڈی پی کا تقریباً 0.8 سے 0.9 فیصد تک کا حصہ صحت کے لیے مختص کرتا ہے جبکہ عالمی ادارے صحت کے مطابق ممالک اپنی جی ڈی پی کا کم سے کم 4 سے 5 فیصد حصہ صحت کے لئے مختص کریں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کے نظام صحت کے کئی بڑے مسائل کی نشان دہی کی ہے جس میں صحت کے شعبہ میں کم سرمایہ کاری، کمزور بنیادی مرکز صحت، طبی عملے کی کمی، ناقص انفراسٹرکچر، کمزور ہیلتھ انفارمیشن سسٹم، نجی شعبے کی محدود نگرانی اور صوبائی اور وفاقی سطح پر ہم آہنگی کے شدید مسائل ہیں۔
ایک عالمی رپورٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 10 ہزار افراد کے لیے تقریباً 11 ڈاکٹر موجود ہیں یعنی تقریباً ایک ڈاکٹر ایک ہزار افراد کے لیے موجود ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔
اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں سہولیات کی کمی، آبادی میں تیزی سے اضافہ اور احتساب اور انتظامی مسائل اور منصوبہ بندی میں کمزوریاں موجود ہیں جس سے صحت کے نظام پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نظام صحت میں بہتری
اگر پاکستان کے نظامِ صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے تو صحت کا سالانہ بجٹ کافی حد تک بڑھانا ہوگا، اس کے علاوہ میڈیکل کالج میں اعلیٰ معیاری اور اخلاقی تعلیم دے کر ڈاکٹرز کی تعداد کو بھی بڑھانا ہوگا۔
ملک بھر میں بنیادی مرکز صحت کو مضبوط کرنا ہوگا، فیملی ڈاکٹر سسٹم متعارف کرانا ہو گا جس میں ہر خاندان ایک بنیادی ڈاکٹر سے منسلک ہو اور یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب ڈاکٹرز کی تعداد کو بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر احتساب اور شفافیت کو بروئے کار لانا ہوگا جس سے بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔
