آرٹیکلزاویہ

زراعت بحران، کسان کی مشکلات اور حکومتی پالیساں

کسان پچھلے چند سالوں میں خسارے میں گیا ہے جہاں پر حکومتی ذرعی اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں اور ڈیزل کی قیمت بھی اضافہ ہوا ہے وہیں پر دوسری طرف گندم کا ریٹ کم ہوا ہے ۔

صوبہ پنجاب  16.5 ملین ٹن گندم کی پیداوار کے ساتھ ملک کی زرعی ترقی میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے ۔ لیکن پچھلے چند سالوں سے پنجاب کا کسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ چاہے وہ حکومتی پالیسی ہو، حکومتی زرعی اشیاء کے نرخ میں اضافہ ہو یا پھر کسان کی اپنی زرعی مشینری کے اخراجات ہوں ہر طرف سے کسان پر بوجھ بڑھ رہا ہے ۔

یاد رہے کہ پنجاب کا تقریبا 57 فیصد سے زائد رقبہ کاشت کاری پر مشتمل ہے جو اسے  پاکستان کے زیر کاشت رقبے کا سب سے بڑا حصہ دار بناتا  ہے۔  ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں تقریبا 70 فیصد کا حصہ بھی پنجاب سے آتا ہے۔

 

گندم کی فصل میں کسان کے اخراجات اور آمدن کا تقابلی  جائزہ

 

گندم کے حکومتی ریٹ یا پھر کسان کے اخراجات کی بات کی جائے تو22-2021میں حکومتی ریٹ  ساڑھے پانچ ہزار روپے فی بوری  تھا۔ لیکن آڑھتی حضرات نے اوپن مارکیٹ میں 12 سے 13 ہزار روپے فی  بوری کے حساب سے بھی کسان سے گندم خریدی ۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب سال   2021 کے آغاز میں ڈیزل کی قیمت 112 روپے تھی۔ لیکن سال 2025 کی صورتحال پر بات کی جائے تو گندم کا جو ریٹ حکومت نے  مختص کیا تھا وہ 8750 روپے فی بوری تھا لیکن آڑھتی حضرات نے 5500 روپے فی بوری کے حساب سے کسان سے خریدی جبکہ ڈیزل کی قیمت 298 روپے فی لیٹر تھی۔

اس سے واضح طور پر نظر ارہا ہے کہ کسان پچھلے چند سالوں میں خسارے میں گیا ہے جہاں پر حکومتی ذرعی اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں اور ڈیزل کی قیمت بھی اضافہ ہوا ہے وہیں پر دوسری طرف گندم کا ریٹ کم ہوا ہے ۔

 

شہری آبادی سے دور کسانوں کے اخراجات اور آمدن کا تقابلی جائزہ

 

شہری آبادی سے دور اگر ہم کچے کے علاقے کی بات کریں جو کہ لاکھوں ایکڑ پر مشتمل  ہوتا ہے وہاں پر کسان کے اخراجات مزید بڑھے ہیں ۔

ان علاقوں میں آج سے تین سال پہلے جہاں پر ہارویسٹر فی ایکڑ ریٹ 4500 تھا، گندم بھرائی وغیرہ کی مزدوری کا ریٹ 30 روپے فی بوری تھا اور ٹریکٹر پر گندم لانے کے اخراجات 200 روپے فی بوری تھا وہیں پر گندم کا ریٹ تقریبا 9 سے 10 ہزار تھا اور اگر آج کی بات کی جائے تو آج ہار ویسٹر فی ایکڑ ریٹ تقریباً 7 ہزار روپے ہے۔

اس کے علاوہ  گندم بھرائی وغیرہ  کی مزدوری کا ریٹ 60 روپے بوری ہے۔ٹریکٹر پر گندم لانے کے اخراجات 300 روپے بوری ہیں اور گندم کا ریٹ اس سال حکومتی پالیسی کے مطابق 8750 روپے تو ہے لیکن یہ چند دنوں تک کم ہو کر چھ ہزار تک آنے کا شدید خدشہ ہے۔

 واضح رہے کہ ان تمام اخراجات میں میں سپرے، کھاد یا بوائی کے اخراجات شامل نہیں ہیں ۔

 

کیا بڑا کسان فائدے میں ہے؟

 

اس بارے عمومی رائے ہے  کہ بڑے زمینداروں یا بڑے کسانوں کو فائدہ ہی فائدہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ جو جتنا بڑا زمیندار تھا اسے اتنا بڑا نقصان ہوا ہے اگر کسی کی گندم چار سال پہلے ایک کروڑ کی بکی  تھی تو اج کے حساب سے اور  سے اس کی گندم 60 لاکھ تک بک رہی ہے۔

کسان کے لیے گندم شہنشاہ فصل سمجھی جاتی ہے لیکن اگر یہی حالات رہے تو کسان اس سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے گا اور صرف اپنے لیے محدود حد تک گندم کی کاشت کرے گا بلکہ ایسا ہو رہا ہے اور کسان گندم سے گنے کی طرف روخ کر رہا ہے۔

پنجاب میں پچھلے چند سالوں میں واضح طور پر گنے کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا ہے 2021/22 میں مجموعی طور پر تقریبا 57.15 ملین میٹرک ٹن کی پیداوار ہوئی تھی اور 2025/26  میں یہ پیداوار بڑھ کر تقریبا 83 سے 85 ملین میٹرن تک جا پہنچی ہے۔

 

کسانوں سے متعقلق حکومتی پالیسی

 

2021 میں عمران خان کے دور حکومت میں کسان کارڈ کا آغاز کیا  جس میں کسان کارڈ رکھنے والے حضرات کو چھ ماہ کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے گئے اور رقبے کے حساب سے اس سے زیادہ بھی دیئے گئے ۔

کسان کارڈ رکھنے والے حضرات کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا اور کسان کارڈ سے چھ ماہ کے لیے ہمیں نہ صرف ڈیڑھ لاکھ روپے ملا بلکہ مقررہ تاریخ پر  رقم واپس کرنے پر ہم سے ڈیڑھ لاکھ کی بجائے صرف ایک لاکھ لیا گیا اور پھر دوبارہ ڈبل رقم بھی ہمارے کسان کارڈ میں چھ ماہ کی مدت کے لئے منتقل کر دی گئی۔

حالیہ صوبائی حکومتوں یا پھر وفاقی حکومت کی بات کی جائے تو  کوئی خاطر خواہ پالیسی کسانوں کے لیے ہمیں نظر نہیں آئی بلکہ ایک موقع پر تو پنجاب کی وزیر اعلی محترمہ مریم نواز صاحبہ نے تو زمینداروں کو "کسان مافیا” بھی قرار دے دیا ۔

کسان کا حکومت سے تمام زرعی اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور خاص طور پر ڈیزل کی کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کسان کو فصل کی قیمت چاہیے، کارڈ نہیں

 

کسان کسی کارڈ کا محتاج نہیں بلکہ وہ اپنی فصل کی پوری قیمت کا طلبگار ہے تاکہ وہ اپنی آئندہ نسل کو قائل کر سکے کہ  زراعت سے جڑے رہنے میں فائدہ ہے۔ وگرنہ نئی نسل جب اپنے بزرگوں کے ساتھ اس موضوع پر بحث میں آتی ہے تو اکثر بزرگ لاجواب ہو جاتے ہیں۔

 

 

محمد جنید اسلم خان

محمد جنید اسلم خان ایک ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی ہیں جو جدید صحافت کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ تحقیق پر مبنی رپورٹنگ اور معیاری تحریر کے ذریعے اہم موضوعات کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب حقائق، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button