عمران خان کی رہائی میں تاخیر: کیا بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ ناکام ہو گئے؟
عوامی سطح پر اور خود پی ٹی آئی کے اندر سے اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ قیادت عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے اور کوئی بڑی عوامی تحریک کھڑی کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ ایک انتہائی نازک موڑ سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت کے بانی عمران خان طویل عرصے سے پابندِ سلاسل ہیں، تو دوسری جانب ان کی جماعت کی باگ ڈور بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرم راجہ جیسے انتہائی قابل اور پڑھے لکھے قانون دانوں کے ہاتھ میں ہے۔
عوامی سطح پر اور خود پی ٹی آئی کے اندر سے اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ قیادت عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے اور کوئی بڑی عوامی تحریک کھڑی کرنے میں کیوں ناکام ہے؟
اس سوال کا جواب کسی فردِ واحد کی خامیوں میں نہیں، بلکہ ہمارے نظام کی خامیوں اور سیاسی و قانونی جدوجہد کے فرق میں پوشیدہ ہے۔
قانون کی حکمرانی کا فقدان: اصل رکاوٹ
کسی بھی مہذب معاشرے میں انصاف کا حصول عدالتوں اور قانون کے ذریعے ہوتا ہے۔ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ پاکستان کے صفِ اول کے قانون دان ہیں۔ اگر اس ملک میں آئین و قانون کی حقیقی حکمرانی ہوتی اور معاملات خالصتاً میرٹ پر طے پا رہے ہوتے، تو ان دونوں کی قانونی مہارت عمران خان کو ایک دن بھی جیل میں نہ رہنے دیتی۔
قانونی محاذ پر ان وکلاء نے ہر ممکن دلائل دیے ہیں، مقدمات جیتے ہیں، اور عدالتوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات محض قانونی نوعیت کے نہیں بلکہ گہرے سیاسی اور ریاستی مقاصد کے تحت بنائے گئے ہیں۔ جب نظام قانون کی بجائے طاقت کے اصول پر چلنے لگے، تو وہاں بہترین سے بہترین وکیل بھی اس غیر مرئی دیوار کو محض قانونی کتابوں سے نہیں گرا سکتا۔
خالصتاً سیاسی تحریک اور وکلاء کی فطرت
سیاسیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ عوامی تحاریک چلانا، سڑکوں پر مجمع اکٹھا کرنا، اور ریاست کے ساتھ سڑکوں پر محاذ آرائی کرنا خالصتاً "ہارڈ کور” سیاستدانوں کا کام ہوتا ہے۔ ایک منجھا ہوا سیاستدان عوام کی نفسیات سے کھیلتا ہے، وہ سڑکوں کی سیاست کا ماہر ہوتا ہے اور ریاستی دباؤ کو عوامی طاقت سے کاؤنٹر کرنا جانتا ہے۔
اس کے برعکس، سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر پیشہ ور وکلاء ہیں۔ ان کی تربیت عدالتوں کے پرسکون اور مدلل ماحول میں ہوئی ہے، سڑکوں کے ہنگاموں میں نہیں۔ یہ ان کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی فطرت ہے۔
پی ٹی آئی جیسی انتہائی متحرک، جذباتی اور مزاحمتی جماعت کی قیادت کرنا ایسے افراد کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں، کیونکہ پارٹی کا ووٹر ان سے سڑکوں پر نکل کر نظام جام کرنے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ ان کی مہارت اور طریقہ کار قانونی اور آئینی دائرے کے اندر رہ کر جنگ لڑنا ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا تلخ سیاسی تجربہ
سلمان اکرم راجہ نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے عملی سیاست میں قدم رکھا اور الیکشن لڑا۔ انہوں نے ایک مشکل ترین وقت میں اپنی مہم چلائی اور عوام نے انہیں بھرپور پذیرائی بخشی۔
حقائق اور عوامی تاثر یہی بتاتا ہے کہ انہوں نے ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کی لیڈ سے کامیابی حاصل کی، لیکن فارم 47 کی سیاست نے ان کا مینڈیٹ تبدیل کر دیا۔ آج تک انہیں ان کا وہ سیاسی حق نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔
ایک ایسے پڑھے لکھے اور باوقار شخص کے لیے سیاست کا یہ پہلا ایکسپوژر انتہائی تلخ اور دل برداشتہ کر دینے والا ہے۔ جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی دن دہاڑے توہین کی جا سکتی ہے اور قانون اس کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے، تو اس کا اس نظام پر سے اعتبار اٹھ جانا ایک فطری امر ہے۔ ا
س کے باوجود ان کا میدان میں ڈٹے رہنا ان کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔
بیرسٹر گوہر: شرافت اور برداشت کا استعارہ
بیرسٹر گوہر کو جس وقت پی ٹی آئی کا چیئرمین بنایا گیا، وہ پارٹی کے لیے مشکل ترین وقت تھا۔ وہ کوئی روایتی سیاستدان نہیں ہیں جو شعلہ بیانی سے مجمع گرم کریں۔ ان کے ذمے ایک ایسے وقت میں پارٹی کو متحد رکھنے کا اعزاز اور بوجھ ہے جب پارٹی کو چاروں طرف سے کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔
بطور چیئرمین، بیرسٹر گوہر کی سب سے بڑی خوبی ان کی شرافت اور دھیما پن ہے۔ وہ اتنے روادار ہیں کہ اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور عمران خان کی فیملی ممبران کی جانب سے ہونے والی سخت تنقید اور برا بھلا بھی خاموشی سے سن لیتے ہیں اور مسکرا کر ٹال دیتے ہیں۔
یہ ان کی کوئی کمزوری نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے اعلیٰ ظرف اور نفیس انسان ہونے کی دلیل ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کارکن جذباتیت کا شکار ہیں، اس لیے وہ غصے کا جواب غصے سے دینے کے بجائے پارٹی کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
وہ تحریک چلانے یا سڑکوں پر ٹائر جلانے والے رہنما نہیں ہیں، بلکہ معاملات کو قانونی اور سیاسی ڈائیلاگ سے سلجھانے پر یقین رکھتے ہیں۔
سیاسی کلچر کو بدلنے کی ضرورت
اگر ہم منصفانہ جائزہ لیں تو عمران خان کی رہائی میں تاخیر کا ملبہ سلمان اکرم راجہ یا بیرسٹر گوہر پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا تصور ڈھل چکا ہے۔ ہم نے ایک ایسا نظام تشکیل دے دیا ہے جہاں دلیل اور قانون کے بجائے طاقت اور دھونس کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
اگر ہم واقعی اپنا سیاسی اور سماجی کلچر بدلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سیاست میں سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر جیسے منجھے ہوئے، پڑھے لکھے اور نفیس لوگوں کی قدکرنا ہوگی۔
اگر ہم ایسے باوقار لوگوں کو صرف اس لیے ناکام قرار دے کر سیاست سے باہر کر دیں گے کہ وہ سڑکوں پر ہنگامہ آرائی نہیں کر سکتے، تو سیاست میں صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو گالی گلوچ اور محاذ آرائی کے ماہر ہیں۔ معاشروں کی ترقی سڑکوں پر گھیراؤ جلاؤ سے نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی اور پڑھے لکھے افراد کو پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنے سے ہوتی ہے۔



