اہم خبریںپاکستانسیاست

امریکی پاسپورٹ پر ٹرمپ کی تصویر، کیا ٹرمپ پنجاب حکومت سے سیکھ رہے ہیں؟

اس خبر نے جہاں امریکی سیاست میں ہلچل مچائی ہے، وہیں پاکستانیوں کے لیے یہ صورتحال خاصی مانوس ہے، کیونکہ یہ طریقہِ کار بالکل وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تشہیری مہمات سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔

سیاست میں ذاتی تشہیر (Publicity) کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے دنیا بھر کے جمہوری حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔

امریکی تاریخ میں پہلی بار، ٹرمپ نے امریکی پاسپورٹ پر اپنی تصویر لگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس خبر نے جہاں امریکی سیاست میں ہلچل مچائی ہے، وہیں پاکستانیوں کے لیے یہ صورتحال خاصی مانوس ہے، کیونکہ یہ طریقہِ کار بالکل وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تشہیری مہمات سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔

امریکی پاسپورٹ پر ٹرمپ کی انٹری: اصل خبر کیا ہے؟

 

حالیہ امریکی نیوز رپورٹس اور امریکی محکمہ خارجہ  کے اپریل 2026 کے اعلانات کے مطابق، رواں سال جولائی میں امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس تاریخی موقع کی مناسبت سے محکمہ خارجہ نے ایک انتہائی غیر معمولی فیصلہ کیا ہے:

  • محدود ایڈیشن (Limited Edition) پاسپورٹس: محکمہ خارجہ 25,000 سے 30,000 خصوصی پاسپورٹ جاری کر رہا ہے جن کے اندرونی صفحے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر، امریکہ کے اعلانِ آزادی کا عکس اور نیچے ٹرمپ کے سنہری دستخط موجود ہوں گے۔

  • تاریخی روایت کا خاتمہ: جدید دنیا بالخصوص مغربی جمہوریتوں میں سفری دستاویزات پر تاریخی عمارات یا مناظر کی تصاویر لگائی جاتی ہیں۔ یہ امریکی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی برسرِ اقتدار صدر کی تصویر کو پاسپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہو۔

  • دستیابی: یہ خصوصی پاسپورٹ واشنگٹن ڈی سی کے پاسپورٹ آفس میں انفرادی طور پر اپلائی کرنے والوں کو دیے جائیں گے۔

سرکاری وسائل، ذاتی تشہیر: کیا ٹرمپ مریم نواز کے نقشِ قدم پر ہیں؟

 

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک دلچسپ سیاسی مماثلت سامنے آتی ہے۔ پاکستان، بالخصوص پنجاب میں، حکومتی منصوبوں پر رہنماؤں کی تصاویر لگانا کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت نے پبلسٹی کی اس روایت کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔

  • رمضان پیکیج سے لے کر اسکول بیگز تک: چاہے وہ پنجاب حکومت کا ‘نگہبان رمضان پیکیج’ کے راشن بیگز ہوں، کسان کارڈ ہو، سستی روٹی کا منصوبہ ہو، یا طلباء کے لیے اسکول بیگز کی تقسیم؛ ہر سرکاری چیز پر مریم نواز کی نمایاں تصویر لازمی جزو سمجھی جاتی ہے۔

  • پبلسٹی کی بین الاقوامی منتقلی: اس تناظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پنجاب حکومت کی اس کامیاب "فوٹو پالیسی” کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ٹرمپ کو شاید یہ سمجھ آ گئی ہے کہ جب تک عوام کی روزمرہ استعمال کی اہم ترین دستاویز (جیسے پاسپورٹ) پر آپ کا چہرہ نہ ہو، تب تک اقتدار کی اصل برانڈنگ مکمل نہیں ہوتی۔

"میرا منصوبہ، میری تصویر” کا عالمی ماڈل

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ صرف پاسپورٹ تک محدود نہیں رہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر 1 ڈالر کے نئے یادگاری سکے پر بھی ٹرمپ کی تصویر چھاپی جا رہی ہے، اور امریکی نیشنل پارکس کے پاسز پر بھی جارج واشنگٹن کے ساتھ ان کی تصویر لگا دی گئی ہے۔

اگر پنجاب حکومت کا کوئی مشیر اس صورتحال پر تبصرہ کرے تو شاید وہ فخریہ انداز میں کہے گا کہ، "ٹرمپ صاحب، یہ ماڈل تو ہم پنجاب میں برسوں سے کامیابی سے چلا رہے ہیں!”

ذاتی تشہیر کی بھی حد ہونی چاہیے

 

جمہوریت میں ریاستی اداروں اور سرکاری دستاویزات کو عام طور پر غیر جانبدار اور لیڈران کی ذاتی تشہیر سے پاک رکھا جاتا ہے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ اقدام نے ثابت کیا ہے کہ سیاستدان چاہے واشنگٹن کا ہو یا لاہور کا، پبلسٹی اور عوام کے ذہنوں پر چھائے رہنے کا شوق ہر جگہ یکساں پایا جاتا ہے۔ ا

گر ٹرمپ اسی طرح پنجاب حکومت کی حکمتِ عملی سے متاثر ہوتے رہے، تو بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں امریکیوں کو بھی ‘صدارتی ریلیف پیکیج’ کے تھیلے ٹرمپ کی بڑی سی مسکراتی تصویر کے ساتھ ملنا شروع ہو جائیں!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button