محسوس ہونے والا درجہ حرارت 24

پاکستان میں‌محسوس ہونے والا درجہ حرات 60 ڈگری تک پہنچ گیا

پاکستان اس وقت سال کی شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان محکمۂ موسمیات (PMD) کے مطابق شدید گرمی اور بلند نمی (Humidity) کے امتزاج نے کئی شہروں میں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت (feels like)  60 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچا دیا ہے۔

دوسری جانب یورپ بھی رواں موسمِ گرما کی پہلی بڑی ہیٹ ویو کی زد میں آ گیا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جس نے ماہرین کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات پر مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

محسوس ہونے والا درجہ حرارت 60 ڈگری

 

پاکستان محکمۂ موسمیات کے مطابق بدھ دوپہر 2 بجے ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار میں پشاور میں سب سے زیادہ 59.9 ڈگری سینٹی گریڈ کا محسوس ہونے والا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ شہر کا اصل درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ اور نمی کی شرح 48 فیصد تھی۔ اسی طرح بھکر میں 56.7، سکھر میں 55.8 جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 53.7 ڈگری سینٹی گریڈ کا ہیٹ انڈیکس ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین موسمیات کے مطابق یہ اعداد و شمار اصل فضائی درجہ حرارت نہیں بلکہ ہیٹ انڈیکس (Heat Index) یا محسوس ہونے والا درجہ حرارت ظاہر کرتے ہیں، جو درجہ حرارت کے ساتھ نمی کو بھی مدنظر رکھ کر معلوم کیا جاتا ہے۔ جب ہوا میں نمی زیادہ ہو تو انسانی جسم سے پسینہ بخارات بن کر مؤثر انداز میں خارج نہیں ہو پاتا، جس کے باعث جسم کو گرمی کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ہیٹ اسٹروک سمیت مختلف طبی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

 

طبی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موسمی حالات میں ہیٹ اسٹروک، شدید پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور ہیٹ ایگزاسشن کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور ممکن ہو تو ٹھنڈی یا سایہ دار جگہوں پر رہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں مون سون بارشوں کے آغاز کے بعد گرمی کی شدت میں کچھ کمی متوقع ہے، تاہم اس وقت ملک کے کئی علاقوں میں شدید گرمی اور نمی بدستور برقرار رہنے کا امکان ہے۔

کے مطابق موجودہ یورپی ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلیوں کے بغیر تقریباً ناممکن سمجھی جاتی۔

 

عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی

 

اگرچہ پاکستان ہر سال شدید گرمی کا سامنا کرتا ہے، تاہم اس مرتبہ زیادہ نمی نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، جس کے باعث اصل درجہ حرارت 42 ڈگری ہونے کے باوجود جسم کو گرمی تقریباً 60 ڈگری سینٹی گریڈ جیسی محسوس ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپ میں بیک وقت شدید گرمی کی لہروں کا آنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا میں انتہائی موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہیٹ ویوز سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کریں، شہری علاقوں کو زیادہ موسمیاتی مزاحمت کے قابل بنائیں اور عوام میں گرمی سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں