ٹیوشن سینٹر 35

کاہنہ میں‌ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کئی ماؤں کی گود اجڑ‌گئی

لاہور کے علاقے کاہنہ میں منگل کے روز اس وقت قیامت برپا ہو گئی جب ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی زیرِ تعمیر عمارت کی چھت اچانک گر گئی۔ ملبے تلے دب کر کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

واقعے کے بعد عمارت کے مالک اور تعمیراتی کام سے وابستہ ایک شخص کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر والدین، ہر تعلیمی ادارے اور ہر سرکاری محکمے کے سامنے کھڑا ہے کہ آخر ہمارے بچوں کی جان کی قیمت کیا ہے؟

چند ہفتے قبل پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں بھی ایک نجی اسکول کی کلاس روم کی چھت گرنے سے چار معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ عمارت پر تعمیراتی کام اور حفاظتی غفلت حادثے کی بڑی وجوہات میں شامل تھیں۔

 

نجی ٹیوشن سنٹرز کی بڑھتی تعداد اور ناقص انتظامات

 

یہ دونوں سانحات ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں نجی اسکولوں، ٹیوشن سینٹر اور اکیڈمیوں کی تعداد تو بڑھتی جا رہی ہے، لیکن ان کی عمارتوں کی حفاظت، تعمیراتی معیار اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات پر شاید ہی کبھی سنجیدگی سے توجہ دی جاتی ہو۔

شہروں اور قصبوں میں قائم متعدد اکیڈمیاں رہائشی گھروں، پلازوں یا ایسی عمارتوں میں چل رہی ہیں جو کبھی تعلیمی مقاصد کے لیے تعمیر ہی نہیں کی گئیں۔ کہیں تنگ کمروں میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ بچے بٹھائے جاتے ہیں، کہیں مناسب ہوا اور روشنی تک میسر نہیں ہوتی، کہیں ایمرجنسی اخراج کا راستہ موجود نہیں ہوتا، جبکہ بعض مقامات پر اوپر تعمیراتی کام جاری ہوتا ہے اور نیچے بچے سبق پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے والدین صرف اچھے نتائج کی امید میں ان بنیادی خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ بچے بھی خاموشی سے ہر مشکل برداشت کر لیتے ہیں۔ نہ وہ بھیڑ کی شکایت کرتے ہیں، نہ گرمی کی، نہ کمزور عمارت کی۔ انہیں تو صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ پڑھائی ضروری ہے۔

تعلیمی اداروں کا مقصد صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر ایک عمارت بنیادی حفاظتی معیار پر پوری نہیں اترتی تو وہاں کلاسیں لگانا صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

 

کیا اگلا سانحہ ہونے سے روکا جارہاہے؟

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عمارتیں گرنے کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ناقص تعمیراتی معیار، حفاظتی قوانین پر کمزور عمل درآمد اور لاگت بچانے کے لیے غیر معیاری تعمیراتی سامان کا استعمال ہے۔ یہی وجوہات بار بار ایسے المناک سانحات کو جنم دیتی ہیں۔

کاہنہ کے ٹیوشن سینٹر  معصوم بچوں کی اموات اور اس سے قبل ڈیرہ غازی خان کے سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا باقاعدہ اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ، فائر سیفٹی معائنہ اور تعمیراتی نگرانی یقینی نہ بنائی گئی تو ایسے حادثات دوبارہ بھی پیش آ سکتے ہیں۔

سوال صرف یہ نہیں کہ اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگلا سانحہ روکنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ کیونکہ اگر ہر حادثے کے بعد صرف تحقیقات، مقدمات اور تعزیتی بیانات تک ہی معاملہ محدود رہا تو شاید کل پھر کسی اسکول یا اکیڈمی کے باہر والدین اپنے بچوں کا انتظار نہیں بلکہ ان کی شناخت کر رہے ہوں گے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں