ڈمپلز 15

دنیا کی پسندیدہ مسکراہٹ کا راز ڈمپلز کیسے وجود میں آتے ہیں؟

ایک مسکراہٹ ہزاروں جذبات کا اظہار کر سکتی ہے، مگر کچھ لوگوں کی مسکراہٹ میں ایک اور انوکھی چیز بھی شامل ہوتی ہے—گالوں پر بننے والے ننھے سے گڑھے، جنہیں ہم ڈمپلز کہتے ہیں۔

صدیوں سے ڈمپلز کو حسن، دلکشی اور معصومیت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ شاعری ہو، فلمیں ہوں یا روزمرہ زندگی، ڈمپلز ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کی خوبصورتی کے پیچھے ایک حیرت انگیز سائنسی حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے؟

عام تاثر یہ ہے کہ ڈمپلز صرف ایک خوبصورت نشانی ہیں، مگر حقیقت میں یہ چہرے کی ساخت بننے کے دوران پیدا ہونے والی ایک معمولی جسمانی تبدیلی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

 

ڈمپلز سے متعلق ماہرین کی رائے

 

ماہرین کے مطابق زیادہ تر گالوں کے ڈمپلز کا تعلق زائیگومیٹکس میجر (Zygomaticus Major) نامی پٹھے سے ہوتا ہے، جو مسکراتے وقت ہونٹوں کے کناروں کو اوپر اٹھاتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں میں یہ پٹھا ایک ہی حصے پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن بعض افراد میں یہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

جب ایسا شخص مسکراتا ہے تو یہ دونوں حصے جلد کو ایک خاص مقام پر اندر کی طرف کھینچتے ہیں، جس سے گال پر چھوٹا سا گڑھا بن جاتا ہے، جسے ہم ڈمپل کہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ ہر ڈمپل رکھنے والے شخص میں یہ پٹھا دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا۔

بعض اوقات جلد، بافتوں (Connective Tissue) یا چہرے کی اندرونی ساخت میں معمولی فرق بھی ڈمپلز کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے جدید تحقیق کے مطابق ڈمپلز کو کسی جسمانی نقص کے بجائے انسانی جسم کی ایک قدرتی ساختی تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔

ٹھوڑی پر بننے والا ڈمپل یا کلیفٹ چِن (Cleft Chin) بالکل مختلف وجہ سے بنتا ہے۔ اس کا تعلق کسی پٹھے سے نہیں بلکہ جب بچہ ماں کے رحم میں نشوونما پا رہا ہوتا ہے تو نچلے جبڑے کے دونوں حصے مکمل طور پر آپس میں نہیں جڑتے، جس کے نتیجے میں ٹھوڑی کے درمیان ایک ہلکا سا شگاف یا گڑھا بن جاتا ہے۔

 

ڈمپل موروثی ہوتے ہیں

 

ڈمپلز اکثر موروثی ہوتے ہیں، اسی لیے یہ ایک ہی خاندان کی کئی نسلوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم جدید سائنس کے مطابق ان کی وراثت اتنی سادہ نہیں جتنی پہلے سمجھی جاتی تھی۔ ماضی میں انہیں ایک غالب (Dominant) جینیاتی خصوصیت قرار دیا جاتا تھا، لیکن اب ماہرین کا خیال ہے کہ متعدد جینز مل کر یہ طے کرتے ہیں کہ کسی شخص کے چہرے پر ڈمپلز ہوں گے یا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ڈمپل رکھنے والے والدین کے بچوں میں ڈمپلز نہیں ہوتے، جبکہ کبھی ایسے بچوں میں بھی ڈمپلز نمودار ہو جاتے ہیں جن کے والدین میں یہ خصوصیت موجود نہیں ہوتی۔

ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ڈمپلز ہمیشہ مستقل نہیں رہتے۔ بہت سے بچوں کے گالوں پر پیدائش کے وقت ڈمپلز نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے چہرے نسبتاً گول اور چربی سے بھرپور ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور چہرے کی ساخت تبدیل ہوتی ہے، یہ ڈمپلز مدھم پڑ سکتے ہیں یا مکمل طور پر غائب بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وزن میں کمی بیشی یا عمر بڑھنے کے ساتھ بھی ڈمپلز کی نمایاں ہونے کی شدت بدل سکتی ہے۔

قدرت کی خوبصورتی یہی ہے کہ ہر چہرہ منفرد ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے صرف ایک گال پر ڈمپل ہوتا ہے، جبکہ بعض کے دونوں گالوں پر۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں طرف ڈمپلز ہونے کے باوجود وہ اکثر ایک جیسے نہیں ہوتے، اور یہی غیر معمولی فرق ہر چہرے کو اپنی الگ شناخت دیتا ہے۔

 

ڈمپل پلاسٹی کر بڑھتا رحجان

 

اگرچہ اب تک سائنس ڈمپلز کا کوئی حیاتیاتی فائدہ ثابت نہیں کر سکی، لیکن انسانی معاشروں میں انہیں ہمیشہ کشش، خوش اخلاقی، جوانی اور دلکشی کی علامت سمجھا گیا ہے۔

ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں ڈمپل پلاسٹی (Dimpleplasty) نامی کاسمیٹک سرجری کرائی جاتی ہے، جس کے ذریعے مصنوعی ڈمپلز بنائے جاتے ہیں۔

شاید سب سے دلچسپ حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی خوبصورت ترین سمجھی جانے والی جسمانی خصوصیات میں سے ایک کسی خاص ارتقائی فائدے کی وجہ سے وجود میں نہیں آئی، بلکہ صرف چہرے کی ساخت میں ہونے والی ایک معمولی قدرتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ چند ملی میٹر کی یہ ننھی سی تبدیلی صدیوں سے انسانوں کی توجہ، محبت اور تعریف کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اگلی بار جب آپ کسی کو ڈمپلز کے ساتھ مسکراتے دیکھیں تو یاد رکھیے، آپ صرف ایک خوبصورت مسکراہٹ نہیں دیکھ رہے ہوں گے، بلکہ انسانی جسم کی ساخت میں موجود ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز قدرتی تنوع کا مشاہدہ کر رہے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں